• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب سے ٹھیلے والوں پر کارپوریشن کے عذاب ٹوٹا ہے۔ وہ نہ صرف ٹھیلا بلکہ سارا سامان اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ اب غریبوں نے کسی طورتو کماکر کھانا ہے کہ چالاک ہوتے اور خوشامد کرنے میں ماہر ہوتے تو کب کے پارلیمنٹ کے ممبر بن چکے ہوتے۔ غریبوں نے روز، روز کے چھاپوں سے محفوظ رہنے کے لیے سائیکلوں پر پھل اور سبزیاں فروخت کرنا شروع کر دی ہیں، ہاتھ کی وزن کرنے والی مشین، ساتھ شاپنگ بیگز اور بچوں کے لیے ٹافیاں وغیرہ رکھنی شروع کردیں۔ ایسے ہی ایک بابا نے پمز کے سامنے سائیکل چھابے کو موڑنا تھا کہ ایک ٹرک نے آکر سب کو زمین زار کردیا۔ ایسے منظر ہر شہر اور ہر گاؤں میں روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ تو چھوٹی سی مثال ہے۔ یہ لکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو آگئےکہ گل پلازہ کراچی کی تازہ المناک داستان ہے۔ تین دن سے نئی باتیں، اموات اور اجڑنے کی داستان جس میں آگ کے شعلے کبھی کبھی بھڑکتے نظر آرہے ہیں۔

یہ گل پلازہ، امیروں کا نہیں، جبھی تو پہلے بیسمنٹ اور کوریڈور بنایا گیا۔ انسان کو شیطان کی طرح ایک انچ خالی زمین نظر آجائے تو وہ رات یادن کی تمیز نہیں کرتا، بس قبضہ کرنے کی دیوانگی سوار ہوجاتی ہے۔ جبھی تو گل پلازہ، بیسمنٹ سے شروع ہوکر تین منزلوں تک پھیل گیا، جہاںچند سو دکانیں بننا تھیں، وہاں 12سو دکانیں بنا ڈالی گئیں۔ یہ سب ضرورت کے تحت، ایک طرف آمدنی اور دوسری طرف نوکری کی ضرورت کے جال بچھتے چلے گئے، کراچی کے لوگوں کو کتنی مرتبہ کہا گیا کہ دس بجے تک دکانیں بند کردیں۔ رات کے دس بجے ہیں اور خاندان کے خاندان برتن، شادی کے لیے خریدنے آرہے ہیں۔ اب کیا کہیں کہ کراچی میں تو لوگ ایک نیند پوری کرکے شادیوں میں منہ دکھانے جاتے ہیں، لوٹتے ہیں تو رات کا ایک بج رہا ہوتا ہے۔ اب تو یہی وطیرہ اسلام آباد کے آب پارہ کوارٹر زتک چل رہا ہے۔ یہاں بھی رات کے دو بجے دلہن بیاہ کر لائے۔ دروازہ کھولا تو ایک نہیں چھ کوارٹر منہدم، پندرہ باراتی مع دولہا، دلہن ریت اور خون کے ڈھیر میں بدل گئے۔ یہ تو ایک چھوٹے سے ایریا کا قصہ ہے۔ کراچی میں تو پوری بلڈنگ اور 12 سو دکانوں کے اندر اور باہر ہجوم، خاک اور خون میں ایسا ڈوبا کہ ساری مشینیں فیل ہوگئیں، جو لوگ اندر تھے وہ تو مرے ہیں، ہر رنگ و نسل کے خریدار، موت کی گود میں چند منٹ میں چلے گئے مگر تین دن گزرنے کے بعدپلازہ کے اندر ادھوری لاشیں، جلی بوٹیاں اور کہیں جلے ہوئے جوتے نظر آرہے ہیں۔ لوگ ابھی تک لاپتہ افراد کو تلاش کرتے ہوئے تھک کر سڑک پر بیٹھ گئے ہیں کہ جانے والے شاید اسی رستے پر لوٹ آئیں۔

اس المناک داستان نے نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر کے سرکاری اداروں کی کارکردگی ایک دفعہ پھر دکھا دی ہے۔ پرانا بلدیہ ٹاؤن کا قصہ اور پھر ایک چیف جسٹس کے حکم پر سات منزلہ ہنستے بستے پلازہ کو ان کے حکم پر خالی کروایا گیا کہ عمارت غلط نقشے اور بلاتصدیق نقشے پر بنائی گئی۔ یہ ہی انوکھا واقعہ نہیں، کراچی میں تو کبھی ریلوے روڈ پر بنائے گئے نامنظور نقشوں کا حوالہ دے کر سردی میں بے گھر کردیا گیا۔

کراچی میں آج بھی کہا جارہا ہے کہ کتنی سینکڑوں بلڈنگیں مخدوش حالت میں ہیں۔ یاد کریں قیام پاکستان کے وقت جس کو جہاں جگہ ملی اس نے سر اندر کیا اور پھر جو اینٹ ٹوٹ گئی وہاں کبھی سریا تو کبھی المونیم لگاکر چھت یا دیوار مکمل کرلی۔ وقف کے نام پر بھی کئی بلڈنگیں ہیں، جوقانونی گنجلگ میں پھنسی ،سڑک کا منہ چڑا رہی ہیں۔ بڑی مثالوں میں میٹروپول ہوٹل جیسی قیمتی جگہ اور عمارت مسلسل کھنڈر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی حال پورے پاکستان میں اندرون شہر گھروں کا ہے، جہاں اجڑی بستیوں کے تہہ خانوں میں آج بھی پوریاں تلی جارہی ہیں۔

کیابود وباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو، تاریخی عمارتوں کی حالت زار کیلئے ہر حکومت آغا خان فاؤنڈیشن اور ورلڈ بینک سے قرض، کبھی امداد لے کر کہیں ریسٹورنٹ تو کہیں قلعہ کی راہ داریوں تک کو پان بیڑی کی کھڑکیاں بنا دیا گیا ہے۔ پھولوں کے شہر لاہور میں جگہ جگہ مصنوعی پودے لگا دیے گئے ہیں۔ مصوری اور مجسمہ سازی میں تو آج کل کے نوجوان اپنی جان پر کھیل کر ایسے نمونے بنا رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر گھوڑے بھی شرمندہ ہوجائیں۔

قیام پاکستان کے وقت بڑے شہروں، لاہور، کراچی جیسے علاقوں میں بڑے بڑے پلاٹ بے دام ہی دے دیے گئے۔ وہ سب محلے دومحلے بناکر خوش ہوئے۔ اب جب بڑے لوگوں کی اولادیں بھی غیر ممالک میں گھر بسا کر آباد ہیں، وہ سب بڑے گھر بیچ رہے ہیں اور چھوٹے گھروں میں رہنا ہی عافیت کا راستہ سمجھ رہے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ غیر ممالک کے سفیروں اور افسران کو بڑے گھر دیے جاتے ہیں۔ ان گھروں میں میوزک روم اور پارٹی کیلئے بڑے بڑے شمع دان ، مہنگے مہنگے کھانے، لباس،اور بہت کچھ ہوتاہے۔ ہماری کلرکی والی نسل کی بیگمات ان کی نقل میں پیچھے لٹکتے ہوئے لہنگے پہن کر جب موچی دروازے میں داخل ہوتی ہیں تو ان کا لہنگا پوری گلی صاف کردیتا ہے، مگر کمال تو چند بابوں کی تازہ تازہ دلہن نے دکھایا کہ نیچے گرتے لہنگے کو کبھی ایک ہاتھ اور کبھی دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی، کبھی اپنے شوہر کو اپنے ہاتھ میں لیتی گھبراہٹ میں کمال لگ رہی تھی۔ بہرحال یہ فیشن انہی گھروں میں رہ جاتے ہیں کہ لندن یا پیرس کا ایئر پورٹ تو بس ٹی شرٹ اور جینز برداشت کرتا ہے۔ ویسے بھی دنیا کو دکھانے کیلئے ہی تو رات کے دس بجے شادی کے برتن خریدے جارہے تھے۔ اےاللہ! جو لاپتہ ہیں ان کو اپنی مہربانی سے لے آ، تو بڑا رحم والا ہے۔

تازہ ترین