• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کی کسی شاہراہ پر کھڑے ہو کر اگر آپ اردگرد کا جائزہ لیں تو آپ کو بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں سسکتا ہوا ایک ایسا انفراسٹرکچر نظر آئے گا جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ لیکن المیہ یہ نہیں کہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں یا عمارتیں بوسیدہ ہیں، المیہ یہ ہے کہ اس کھنڈر پر کھڑے ہو کر ہمارے شعبدہ بازبیانیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہاں انسانی جان کی قیمت ایک بریکنگ نیوزسے زیادہ نہیں، اور پارلیمان کی خاموشی اس بات کی گواہ ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کا عوامی مسائل سے تعلق صرف ووٹ کی پرچی تک محدود رہ گیا ہے۔

کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ ہو، کہیں کوئی پل گر جائے یا ٹرین کا کوئی ہولناک حادثہ، ہمارے بیانیہ ماسٹر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہی چوک میں اپنے اوزار کس کر الزام تراشی کا سرکس لگا دیتے ہیں۔ پاکستان میں المیے اب سوگ منانے کے لیے نہیں بلکہ سیاست چمکانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک پارٹی دوسری پرانتظامی نااہلی کا ملبہ ڈالتی ہے تو دوسری پارٹی اسےگزشتہ دہائیوں کا گند قرار دے کر دامن جھاڑ تے ہوئے صافہ کندھے پر رکھ کر پتلی گلی سے نکل جاتی ہے۔ یہ الزام تراشی کا وہ گھناؤنا کھیل ہے جو برسوں سے جاری ہے۔

اس شور میں تحقیقات اور انصاف ہمیشہ کہیں دب کر مر جاتے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں، فوٹو سیشن ہوتے ہیں، تعزیتی بیانات ٹویٹ کیے جاتے ہیں اور پھر سب خاموشی سے اگلے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یہاں نظام کو ٹھیک کرنے کی فکر کسی کو نہیں، بس اس بات کی فکر ہے کہ اس حادثے کا ملبہ کس کے سر پر ڈال کر سیاسی فائدہ سمیٹا جا سکتا ہے۔

اب کیا لفظوں کی جگالی کی جائے، بس تکرار یہی ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کوئی اچانک نازل ہونے والی آفت نہیں تھی۔ یہ برسوں کی مجرمانہ غفلت، انتظامی بے حسی اور منافع کی ہوس کا منطقی انجام تھا۔ ایک ایسی عمارت جس میں نہ آگ بجھانے کا مؤثر نظام تھا، نہ ہنگامی راستے، نہ حفاظتی اجازت ناموں کی حقیقی جانچ پڑتال کی کوئی کہانی، یہ عمارت دن کے اجالے میں کاروبار کا مرکز بنی رہی اور رات کے اندھیرے میں انسانی راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ یہاں حادثہ اب صدمہ نہیں رہا بلکہ ایک موقع بن چکا ہے، ٹی وی اسکرین پر آنے کا، ٹرینڈ بنانے کا اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا۔

عوام کے بنیادی مسائل، پینے کا صاف پانی، ٹوٹی سڑکیں، اسکولوں کی بدحالی اور اسپتالوں میں بستروں کی کمی، جعلی اور مہنگی ادویات کا مسئلہ اب میڈیا کے لیے ریٹنگ کا سامان نہیں رہا۔گھنٹوں اس بات پر بحث ہوگی کہ کس لیڈر نے کس کو کیا طعنہ دیا، کس کی آڈیو لیک ہوئی یا کس کا بیانیہ کس پر بھاری رہا۔ لیکن اس ماں کی دہائی کوئی نہیں دکھاتا جس کا بچہ اسکول جاتے ہوئے کھلے گٹر میں گر کر مر گیا۔ اس باپ کا انٹرویو کوئی نہیں کرتا جو مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کر لیتا ہے۔ عوام کے حقیقی درد کو سنسنی خیزی کی نذر کر دیا گیا ہے۔

پارلیمان کی خاموشی اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ باب ہے۔ جس شہر کراچی سے ملک کا بڑا ریونیو آتا ہے، وہی شہر آگ، ملبے اور لاشوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ روشنیوں کے شہر کا تعارف اب بھتہ خوری، چائنا کٹنگ، فرقہ واریت، لسانی دہشت گردی، بلڈر مافیا، ٹینکر مافیا، لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا بن چکا ہے۔ ہمارے ایوانوں میں مراعات، پروٹوکول اور سیاسی برتری پر تو گرما گرم بحث ہوتی ہے مگر شہریوں کی جان کے تحفظ پر سنجیدہ قانون سازی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں مگر شہری حادثات پر بس ایک تعزیتی قرارداد کافی سمجھی جاتی ہے۔ کراچی والے تو ایک ہی بات کہتے ہیں کہ’’بھائی، سارا نظام سسٹم چلا رہا ہے‘‘۔

کراچی کا بلدیاتی نظام ایک ایسی لاش بن چکا ہے جس کا مدت سے اٹھا جنازہ گورکن اور تدفین کا منتظر ہے۔ اختیارات کی جنگ، وسائل کا رونا اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا کھیل، یہ سب مل کر ایک ایسے شہر کو چلا رہے ہیں جو ہر نئے دن کے ساتھ زیادہ خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ یہاں عمارتیں نہیں، حادثوں کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ یہاں نقشے نہیں، قبریں تیار ہوتی ہیں۔ ہم بطور معاشرہ اس سب کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمیں حیرت نہیں ہوتی، ہمیں صدمہ نہیں لگتا۔ ہم ذہنی طور پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ کہیں آگ لگے گی، کہیں پل گرے گا، کہیں چھت آ گرے گی۔ ہم نے موت کو معمول اور زندگی کوسیاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔

یہ وقت بیانیہ بنانے کا نہیں، نظام بدلنے کا ہے۔ اگر آج بھی بلڈر مافیا، انتظامی کرپشن اورسیاسی بے حسی کے خلاف اجتماعی فیصلہ نہ کیا گیا تو گل پلازہ کوئی آخری سانحہ نہیں ہوگا۔ حادثے ہوتے رہیں گے، بیانیے بنتے رہیں گے،جنازے اٹھتے رہیں گے ۔ یتیموں ، بیواؤں اور بے روز گاروں کے لشکر جنم لیتے رہیں گے۔ تاریخ پھر یہ نہیں پوچھے گی کہ آپ کا بیانیہ کیا تھا، وہ صرف یہ دیکھے گی کہ لاشوں کے ڈھیر میں آپ کہاں کھڑے تھے۔ملتے ہیں اگلے حادثے کے بعد۔

تازہ ترین