کراچی کے سانحہ گل پلازا میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ایسی کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے معاملے کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
لاہور میں کئی ایسی عمارتیں ہیں جن میں نا تو فائر سیفٹی کا انتظام ہے اور نا ہی انخلا کا مناسب راستہ ہے۔
سیکریٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں 2 ہزار 214 عمارتوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے جن میں سے 14 کو انتہائی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق ایسی ایک عمارت فیصل آباد اور 13 لاہور میں ہیں، بلڈنگ سیفٹی کوڈ کو یقینی بنائے بغیر نقصان کا اندیشہ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر عمارت میں ہر 100 فٹ کے بعد سیڑھیاں، فائر الارم اور انخلا کا مناسب راستہ لازمی ہونا چاہئے، جنوبی ایشیا میں ریسکیو پنجاب کے پاس وہ ٹیم موجود ہے جو اقوام متحدہ سے سرٹیفائیڈ ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال کیا جاتا ہے، عملے کی تربیت اولین ترجیح ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں ریسکیو 1122 کے پاس 281 فائر وہیکلز، 74 ریسکیو وہیکلز، 20 اسپیشلائزڈ فائر اینڈ ریسکیو وہیکلز اور 2 ہزار 446 ٹرینڈ فائر ریسکیورز موجود ہیں، جو ماڈرن فائر فائٹنگ کو جانتے ہیں۔
سیکریٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب نے کہا کہ لاہور میں 23 فائر اسٹیشنز ہیں، وہ اب تک ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو ریسکیو کرچکے ہیں جبکہ 8 منٹ کا ریسپانس ٹائم بھی برقرار رکھا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث پیش آتے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اگر عمارتوں کی تعمیر کے وقت حفاظتی اقدامات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔