• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازہ کو گرانا ہی پڑے گا: وزیرِاعلیٰ سندھ

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کو گرانا ہی پڑے گا، کوشش ہو گی کہ 2 سال کے اندر یہاں دکانیں بنا کر دے دیں۔

اسپیکر اویس شاہ کی صدارت میں سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں سانحۂ گل پلازہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ زخمی متاثرین کی صحت یابی کے لیے دعا کروائی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتا ہوں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور ایسے واقعات سے سبق حاصل کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا سانحہ ہے جس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ کی ایک دکان میں آگ لگی، 10 بج کر 26 منٹ پر پہلی بار فائر بریگیڈ کو کال موصول ہوئی، 10 بج کر 27 منٹ پر پہلی فائر بریگیڈ روانہ کر دی گئی، ساڑھے 10 بجے ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ چکے تھے، اس کے بعد پولیس پہنچی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کی انکوائری پہلے ہی آرڈر ہو چکی تھی، ابھی تک کی انکوائری کے مطابق وزیرِ داخلہ کو ایف آئی آر درج کرنے کا کہا ہے، جائے حادثہ پر اعلانات کیے گئے کہ یہاں نہ آئیں، لیکن لوگ وہاں پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ تھا، کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہا لیکن اس پر سیاست کی گئی، پتہ نہیں کہاں سے 18ویں ترمیم اور کراچی کو وفاق کے حوالے کر دینے کی بات کی گئی۔

وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن رکن محمد فاروق نے بات کرنے کی کوشش کی جس پر وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اسٹیٹمنٹ دے رہا ہوں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی نے ہدایت کی کہ فاروق صاحب! آپ بیٹھ جائیں، ہاؤس کا ماحول خراب نہ کریں، میں آپ کو موقع دوں گا، تحمل سے ساری باتیں سن لیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن کہہ رہا ہوں کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کے اس بیان پر ایوان میں تالیاں بجائی گئیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ براہِ مہربانی تالیاں نہ بجائیں، 1979ء میں کے بی سی اے ہوا کرتی تھی، اس جگہ عمارت بنانے کے لیے درخواست آئی، جبکہ اس کی سیل ڈیڈ 1983ء میں منظور ہوئی، کے بی سی اے نے عمارت بنانے کی اجازت دی، 80ء کی دہائی میں عمارت بنانے کی اجازت ملی، 1983ء میں اس کی لیز مکمل ہو چکی تھی، لیز رینیو نہیں ہوئی، 1991ء میں اس پلاٹ کی لیز کو رینیو کیا گیا، وہ بھی 8 سال کے بعد۔

ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کے گند ہم آج تک صاف کر رہے ہیں، میں نے کہا تھا کہ مجھے اتنے روز کیوں لگے، میں بتاتا ہوں آپ کو، اٹھارہویں ترمیم سے پہلے میئر نے اس جگہ کی لیز منظور کی،1991ء میں اس وقت کے میئر نے اس پلاٹ کی لیز منظور کی، 1998ء میں دوبارہ ایک درخواست دی گئی کہ تیسرے فلور کی اجازت دی جائے، 2003ء میں گل پلازہ میں مزید دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سب 18ویں ترمیم سے پہلے کے کارنامے ہیں، 18ویں ترمیم سے پہلے بیسمنٹ میں دکانوں کی منظوری دی گئی، بات ایک سانحے کی ہو رہی ہے، 82 افراد کی جانوں کی ہو رہی ہے، اس وقت یہ کہا جائے کہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے سانحے کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا بہت بڑے جرم کے مترادف ہے، ہماری غلطیاں بتائیں، لیکن لوگوں کی لاشوں پر اپنا ایجنڈا شروع کر دیا، پیر کو ہی سانحے کی انکوائری کے لیے کمیٹی بنا دی تھی، انکوائری رپورٹ کے بعد ایف آئی آر ہو گی اور جو بھی ذمے دار ہے اس کو سزا ملے گی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھ سمیت جس کی بھی غلطی سامنے آئی اسے سزا ملے گی، غفلت اور کوتاہیاں ہیں، ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، ہمارے دورِ حکومت میں کراچی میں 3 بڑے واقعات ہوئے ہیں، بولٹن، ٹمبر اور کوآپریٹو مارکیٹ میں بڑے واقعات ہوئے ہیں، تینوں واقعات میں صدر آصف زرداری نے وفاق کی طرف سے مدد کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ قائم علی شاہ نے ایک کمیٹی بنائی اور جن جن کا نقصان ہوا تھا ان کا ازالہ کیا گیا، جن لوگوں کا نقصان ہوا ان کا ازالہ شفاف طریقے سے ہوا، کسی کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، سانحے میں جن لوگوں کی جان گئی، ان کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا، کمیٹی کو نقصان کا جائزہ لینے کا کہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نقصان کو پورا کرے گی، یہ بہت بڑا سانحہ ہے، اس کے لیے ہمیں کچھ اور سوچنا پڑے گا، 1102 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ گل پلازہ میں جتنی بھی دکانیں ہیں، سندھ حکومت ہر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے فوری دے گی، پیر کو ہدایات دے دی ہیں کہ دکانداروں کی فہرست بنائیں، 5 لاکھ روپے فی دکاندار کو دیں گے، اس وقت تک ایک عمارت میں 500 دکانیں اور دوسری میں 350 دکانیں دستیاب ہوئی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ان عمارتوں کے مالکان نے کہا ہے کہ ایک سال تک کرایہ نہیں لیں گے، گل پلازہ کے ہر دکاندار کے لیے کولیٹرل سندھ حکومت دے گی، 1 کروڑ روپے دکانداروں کو قرض ملے گا، جو لینا چاہے اسے، سود سندھ حکومت ادا کرے گی، گل پلازہ کو گرانا ہی پڑے گا، کوشش ہو گی کہ 2 سال کے اندر یہاں دکانیں بنا کر دے دیں۔

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بے جا تنقید کے بجائے اصلاحی تنقید کریں، اگر آپ اپنا کوئی خفیہ ایجنڈا کرنا چاہتے تو اس کی اجازت نہیں، آپ تنقید ضرور کریں، غلطیوں کی نشاندہی کریں، ہم برا نہیں مانیں گے، ہم آپ کی تجاویز پر ضرور غور کریں گے، اب قومی اسمبلی میں بھی 18ویں ترمیم کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں، ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اس طرح کے المیے میں پیپلز پارٹی لوگوں کے دکھ میں شریک ہوتی ہے۔

اس موقع پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا۔

قومی خبریں سے مزید