• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایمان اور ہادی کو بظاہر خفیہ رکھی گئی ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا گیا: مصطفیٰ نواز کھوکھر

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ ایمان اور ہادی کو بظاہر ایک ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر کو ایک سال قبل درج کیا گیا تھا، ایف آئی آر کو اس عرصے کے دوران خفیہ رکھا گیا۔

رہنما اپوزیشن اتحاد مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ من گھڑت ایف آئی آر میں مجھ سمیت پاکستان بھر سے وکلاء کو نامزد کیا گیا، یہ تو سراسر مذاق ہے، ایف آئی آرز سیل اور خفیہ رکھنا عدالتی فیصلوں میں غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واضح طور پر یہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک غیر قانونی اقدام ہے، ایک پُرامن احتجاج کے لیے دہشت گردی کے الزامات شامل کرنا مضحکہ خیز ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک سال بعد یہ معلوم ہوا کہ وہ پُرامن احتجاج پُرتشدد بن گیا تھا، یہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کو مضحکہ خیز اور بے معنی بنا دیتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ قانون دہشت گردوں کے خلاف بنایا گیا ہے، نہ کہ وکلاء یا عام شہریوں کے لیے؟ حکومت شائستگی کھو چکی اور تمام ضوابط و اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر تُلی ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وقت بدلتا رہتا ہے، حکومت نہ بھولے کہ اس کے ظالمانہ ہتھکنڈے ایک دن خود اسی کے لیے وبالِ جان بن جائیں گے۔

واضح رہے کہ آج ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

بعد آزاں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو لڑائی جھگڑا کرنے کے کیس میں 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

قومی خبریں سے مزید