چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔
خط کے متن کے مطابق چیئرمین ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق ’سانحۂ گل پلازا انکوائری کمیشن‘ کے نام سے اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ اور شفاف کمیشن تشکیل دے، انکوائری کمیشن حقائق سے پردہ اٹھائے اور مجرموں کا تعین کرے۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن میں ایف آئی اے، نیب، این ڈی ایم اے، ایم آئی، آئی ایس آئی، اسٹیٹ بینک، نیسپاک سمیت دیگر کو شامل کیا جائے۔
خط میں خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف کے انتظامات سنبھالیں تاکہ انسانی اعضاء اور قیمتی اشیاء محفوظ رہ سکیں۔
خط کے متن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام ’ریلیف اور بحالی فنڈ‘ قائم کیا جائے تاکہ لواحقین اور متاثرین کی مالی مدد کی جا سکے، وزیرِ اعظم پاکستان سانحہ گل پلازا پر پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت اعلیٰ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کا خط میں کہنا ہے کہ 7 روز گزر جانے کے بعد اب تک کئی لوگ گمشدہ ہیں، لواحقین کو اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں ملیں، 12 ہزار سے زائد خاندان اس واقعے سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
خط میں خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے میں ہلاکتوں و مالی نقصانات کی براہِ راست ذمے دار سندھ حکومت، صوبائی محکمے، بلدیاتی ادارے ہیں، سندھ حکومت، میئر کراچی، ایس بی سی اے اور دیگر ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔