• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ ہمارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھا بھی دیتے ہیں ۔ 120 5فٹ بلند دریا کنارے برف میں لپٹے 10832 آبادی کے شہر ڈیووس میں تین ہزار عالمی لیڈر موجود ہیں ۔ امریکی صدر نے اپنے نئے تعمیراتی پروجیکٹ بورڈ آف پیس کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے ۔پاکستان سمیت 20 ممالک اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ڈیووس ہم بھی ایک بار جا چکے ہیں۔ اکرام سہگل تو یہاں ہر سال ’پاکستان ناشتے‘ کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ عالمی اکنامک فورم کے دنوں میں یہاں غیر ملکی سربراہوں سمیت 26 ہزار مہمان موجود ہوتے ہیں۔ دوسو چھوٹے بڑے ہوٹل بھرے ہوتے ہیں ۔ترقی پسند یورپی دانشوراسے ’برف زار میں موٹی امیر بلیوں کا اجتماع‘ کہتے ہیں ۔غزہ پٹی کی تعمیر نو کی بنیاد میں 70 ہزار فلسطینیوں کا خون شامل ہوگا ۔جس میں زیادہ تر بچے ہیں۔ فلسطینی نسل کے خاتمے اور ہسپتالوں درسگاہوں کے ملبے پر غزہ کی تفریح گاہ کھڑی کی جا رہی ہے۔ سابق امریکی صدور بھی دنیا میں انسانوں اور املاک کی خرید و فروخت کا سلسلہ کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ تو پیشہ ور پراپرٹی ڈیلر اور بہترین ڈیل کے ماہر ہیں وہ فخریہ کہتے ہیں کہ ڈیل کرنا انہوں نے اپنے والد سے سیکھا ہے۔ اس نئی ڈیل کی تفصیلات ان کے داماد نے پیش کی ہیں، لگتا ہے کہ یہ ان کا خاندانی منصوبہ ہے ۔کیا دوسرے ملکوں کے سربراہ بھی اس میں نجی طور پر شریک ہیں ۔منصوبہ فلسطین کی سرزمین پر تعمیر کیا جانا ہے تو زمین کی مالک فلسطینی ریاست کا اس پر کیا موقف ہے۔ روزنامہ الشرق الوسط میں فلسطینی صدر کے مشیر ڈاکٹر محمود الہباش نے دو روز پہلے کہا ہے کہ یہ فلسطین کی مرضی نہیں ہے بلکہ یہ ہم پر مسلط کیا گیا امن منصوبہ ہے ہم اسے قابل قبول اس لیے کہہ رہے ہیں کہ یہ کمتر برائی ہے۔ اس سے فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی رک رہی ہے۔ لیکن فلسطینیوں کی حامی تنظیموں میں زیادہ تر نے اسے مسترد کیا ہے ۔ 60 لاکھ آبادی کی فلسطینی ریاست دنیا میں سب سے بے بس ملک ہے ۔ 193 ملکوں میں سے 157 اسے خود مختار تسلیم کرتے ہیں۔ مگر یہ کسی صورت میں بھی خود مختار نہیں ہے۔ اس کے پاس اپنی بری فوج ہے نہ بحریہ نہ فضائیہ۔ اس کے تحفظ کی ذمہ دار اسرائیلی فوج ہی ہے جو اس پر سب سے زیادہ جارحیت کرتی ہے ۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں ،نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور تبادلہ خیال کا دن۔ گل پلازہ میں لاشیں اور ملبے شہر قائد کو سوگوار کیے ہوئے ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آج اپنی اولادوں سے یہ ضرور معلوم کریں کہ یہ جس اسکول، مدرسے، کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں یا جس دفتر میں ملازمت کرتے ہیں یا اگر ماشاءاللّٰہ ان کی اپنی کمپنی ہے تو وہاں آتش زدگی یا کسی ہنگامی صورتحال میں حفاظتی تدابیر کیا ہیں۔کیا کبھی تجربہ کیا گیا ہے کہ ہنگامی حالت میں عمارت سے باہر کیسے نکلنا ہے۔ ویسے تو آپ کو خود جا کر بھی دیکھنا چاہیے۔ اللّٰہ نہ کرے کہ گل پلازہ کے متاثرین جیسی صورتحال سے کوئی اور بھی دوچار ہو ۔گوادر سے واہگہ تک کے والدین کو زحمت کرنی چاہیے اور اولادیں بھی آج اپنے والدین سے دریافت کریں کہ وہ جہاں کام کرتے ہیں یاخریداری کیلئے جاتے ہیں وہاں پہلے سے جائزہ لیتے ہیں کہ ہنگامی اخراج کے دروازے کہاں کہاں ہیں۔ اگر چہ اب رواج نہیں ہے کہ ہنگامی صورتحال سے پہلے یا کسی بھی منصوبے میں شامل ہونے سے پہلےدیکھا جائے کہ کیا اس کے خد و خال ہیں۔

بورڈ میں شامل ہونے والے مسلم ملکوں نے کیا یہ سوچا ہے کہ وہ جس امریکی صدر کی دعوت پر اس میں جوق در جوق شریک ہو رہے ہیں ۔وہی امریکہ تو اس ظالم و جابر ریاست کا سب سے بڑا سرپرست ہے ۔آپ سے گفتگو سے قبل میں نے کچھ تحقیق کی ہے۔ اس کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کے خلاف سیکورٹی کونسل کی اکثریت کی تیار کردہ قراردادوں یا احکام کو1972 سے اب تک 53 بار ویٹو کیا ہے ۔ 1948 میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا بھی پہلا ملک امریکہ ہی تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد دے چکا ہے ۔گزشتہ دنوں میں 300 ارب ڈالر تو صرف دفاعی امداد ہے۔ 10 ملین کی اسرائیلی آبادی میں 73 فیصد یہودی ہیں اور 21 فیصد عرب۔ امریکی حمایت کی بدولت ہی اسرائیل کے غیر ملکی زر مبادلہ کے محفوظ ذخائر 231 بلین ڈالر ہیں۔ اسرائیل میں 2500 امریکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جہاں 72 ہزار اسرائیلی ملازمت کرتے ہیں۔ اسرائیل میں امریکی شہری کاروباری 7 لاکھ موجود ہیں جو دوہری شہریت بھی رکھتے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیل کی مذہبی طور پر حمایت کرنے والوں میں 75 لاکھ یہودی ہیں ۔حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ میں سب سے زیادہ فوجی سیاسی اور سفارتی امداد بھی امریکہ نے ہی دی ہے 2028 تک تقریباً چار بلین ڈالر امداد سالانہ دی جائے گی اور میزائل ڈیفنس میں بھی امریکہ 500 ملین ڈالر سالانہ دے رہا ہے۔ اسرائیل کی وزارت دفاع نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں بتایا کہ امریکہ نے حماس کے مقابلےکیلئے اسرائیل کو 90 ہزار ٹن اسلحہ بارود ہتھیار 800 جنگی طیاروں اور 140 بحری جہازوں کے ذریعے پہنچائے ۔اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جس اسرائیل کیلئے امریکہ 1948 سے دل جمعی سے مسلسل سرمایہ لگا رہا ہے اس کی ترجیح فلسطینی مظلوموں کی خود مختاری ہوگی یا اسرائیل کی اجارہ داری۔ اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم ہوں یا گزشتہ وزرائے اعظم ان کی پہلی ترجیح اسرائیلی مفادات اور دنیا میں یہودی کمیونٹی رہی ہے۔ امریکی ریاست کی پالیسی بھی یہی رہی کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی بالادستی کے تسلسل کیلئے اسرائیل کی کھلی فوجی اور اقتصادی امداد کی جائے ۔اسرائیل سے امریکہ کی تجارت بھی سب سے زیادہ ہے 2019 سے 2023 کے درمیان امریکہ کی 140 بلین ڈالر چین کی 86بلین ڈالر،ترکی کی 35 بلین ڈالر۔ اس وقت جو اسلامی ممالک بورڈ میں خوشی خوشی شریک ہو رہے ہیں انکے ذہن میں آخر کیا ترجیحات ہیں ۔ فلسطینی ریاست تو خود اسے ایک کمتر برائی کہہ کر مجبوراََ قبول کر رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، بحرین، یو اے ای، مصر، انڈونیشیا کے پیش نظر کیا مقاصد ہیں۔ اسرائیل تو اب بھی ہر روز غزہ میں فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے۔ مسلم ملکوں نے امریکہ سے کیا شرائط منوائی ہیں ۔او آئی سی نے کیا ضمانتیں مانگی ہیں ۔ بورڈ آف پیس کے اربوں ڈالر سے کیا فلسطینی شہداء کا خون رنگ لائے گا ؟کیا غزہ میں فلسطینی بچے بلوغت کی عمر تک پہنچیں گے؟ کیا انہیں معیاری تعلیم اور علاج معالجہ میسر آئے گا؟ کیا ہم اپنے وزیراعظم سے قومی اسمبلی میں یہ سوالات کر سکتے ہیں؟

تازہ ترین