21 جنو ری 2026 کو پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا۔پاکستان، انڈونیشیا، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق غزہ میں قیامِ امن، مستقل جنگ بندی، تعمیر ِنو، فلسطینیوں کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں حقِ رائے دہی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اعلامیہ جاری کیا۔ صدر ٹرمپ نے 60 ممالک کو شرکت کے دعوت نامے بھیجے جن میں سے صرف 19ممالک معاہدے میں شامل ہوئے۔ معاہدے سے فلسطین کی نمائندگی یکسر غائب ہے جبکہ اسرائیل کئی ممالک کی شمولیت پر متعرض ہونے کے باعث غیر حاضر رہا۔اسرائیل کے وزیر اقتصادیات نیر برکت نے ترکیہ اور قطر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کسی عبوری فورس کا حصّہ بننا یا تعمیر نو میں شامل ہونا کسی صورت قابلِ قبول نہیں بعینی ہندوستان میں متعین اسرائیلی سفارتکار ریوین آزر نے بھی کہا کہ غزہ امن کیلئے پاکستان ہمارے لئے ناقابلِ قبول اور ناقابلِ اعتبار ہے۔چین، جرمنی، اسپین اور فرانس نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ روس نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن جنگ ختم کرانے کی کاوشوں کا اعتراف کیا تاہم امن بورڈ میں شمولیت اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ممالک سے مشاورت سے مشروط کر دی۔ البتہ غزہ امن بورڈ میں ایک ارب ڈالر فلسطینیوں کے امداد کے لیے دینے کا اعلان کیا۔ ادھر برطانیہ، کینیڈا، اٹلی خاموش ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم کی ورلڈ ایکنامک فورم پر معرکتہ آلارا تقریر پر خفگی کے اظہار میں کینیڈا سے شمولیت کی دعوت واپس لے لی۔ابتدا میں صدر ٹرمپ کا خیال صرف چنیدہ ممالک کے تعاون سے غزہ میں امن کا قیام تھا لیکن تین ماہ بعد اس خیال سے مضبوط ہو کر 60 ممالک کو نہ صرف شمولیت کے دعوت نامے جاری کئے بلکہ بورڈ کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی دیکھاجارہا ہے۔ صدر ٹرمپ اقوامِ متحدہ کو کہتے تھے کہ وہ جنگیں رکوانے میں مؤثر طریقے سے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا اور وہ اکیلے آٹھ ممالک میں جنگیں رکوا چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی 66 کمیٹیوں سے نکلنے کا عندیہ دیا جبکہ اقوامِ متحدہ کی کارکردگی پر کڑی تنقید بھی کی ہے۔ جبکہ امن بورڈ کے چارٹر میں فلسطینی سرزمین کا ذکر ہی نہیں۔ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین ہیں اور ویٹو کی طاقت واحد صدر ٹرمپ کے پاس ہے۔ اس لئے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے باقی مستقل اراکین چین، فرانس، روس اور برطانیہ اس میں شمولیت کے لیے راضی نہیں۔ بہت سے ممالک شاید بورڈ میں شامل بھی ہو جاتے اگر بورڈ کے قوانین میں توازن کا عنصر شامل ہوتا۔ان ممالک کو شک ہے کہ اس بورڈ کا قیام اقوامِ متحدہ کا کردار کم کر کے مستقل ممالک کی حیثیت ختم کرنے کی کوشش ہے جو اسرائیل کے مذموم ارادوں میں ویٹو کے استعمال سے رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کا خیال کبھی پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ پائے گا۔ تاوقتیکہ فلسطینی ریاست کا قیام اور حقیقی نمائندہ حکومت وجود میں نہ آئے۔ آج تک دھونس ، دھاندلی، ظلم و جبر، فلسطینیوں کی نسل کشی، غزہ و مغربی پٹی کی خوراک ، بجلی ، پانی بند کر کے اسرائیل، امریکہ، یورپ اور اسرائیل ہمدرد ریاستوں نے ہر حربہ آزما لیا۔ 5 جوہری بموں کے برابر گولہ باری کر کے دیکھ لی، انتہائی نامسائد حالات میں کیمپوں میں فلسطینی خاندانوں کو رکھ کے دیکھ لیا۔ دنیا ان کی استقامت اور حوصلے کو مان گئی ہے۔ فلسطینی مائیں، بیویاں اور بیٹیاں قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے اپنے مردوں کے شانہ بشانہ قربانیاں دیں، اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے اور زبان پر" الحمدللہ" اور "اللّٰہ اکبر" کا ورد جاری رہا۔ کیمپوں میں جن حالات میں ان خواتین نے گزارا کیا، حیا اور صبر سےجیسے وہ مشکلات کا تذکرہ نہیں کرتیں، وہ قرونِ اولیٰ کی خواتین کی یاد دلاتا ہے۔ حماس قائم دائم ہے، اس کی نفری اور طاقت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، کسی کے چاہنے اور کہنے سے صفحۂ ہستی سے نہیں مٹ سکتی۔ حق آنے اور باطل مٹ جانے کے لئے ہوتا ہے۔ پچھلے دو سال کے عرصے میں حماس نے تاریخ کی سب سے خوفناک پُرتشدد جنگ کا سامنا کیا۔ ’’شیطن یاہو‘‘ نے ظلم کی نئی داستان رقم کر دی ۔ اندازاً سات لاکھ افراد کا قتلِ عام ہوا لیکن حماس کی ہمت، استقامت اور ایثار نے بھی مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ دشمن بھلے کتنی ہی چالیں چلے، کتنے ہی پینترے بدلے لیکن اللّٰہ سب سے بہتر چال چلتا ہے۔ جیسے اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: وَمََرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ۔آلِ عمران 3:54 اور وہ (یہودی)چال چلے اور اللّٰہ بھی چال چلا اور اللّٰہ خوب چال چلنے والا ہے۔ حماس کیسے ہتھیار ڈال کر دنیا کے جھوٹے منصفین کے بھروسے اپنی قربانیوں اور شہادتوں کو رائیگاں جانے دے۔ وہ آج بھی اپنے نعرے " فتح یا شہادت"پر قائم ہے ۔ حماس بلا شبہ فلسطینیوں کی نمائندہ ہے جو خاموشی سے اپنے مشن پر کاربند ہے اور رہے گی۔ انشاءاللّٰہ ۔جہاں تک جناب علی شعث صاحب کا تعلق ہے ان کے پاس ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کا مینڈیٹ ہے جو صحت ،تعلیم، ترسیل خوراک، انفراسٹرکچر کی تعمیر ِنو، ملبے کو بحیرۂ روم میں پھینکنا جیسی ذمہ داریوں سے متعلق ہے،سیاسی مسائل سے نمٹنا انکا کام نہیں۔
پاکستان پر مخالفین کی جانب سے امن بورڈ میں شمولیت پر کڑی تنقید ہو رہی ہے۔حکومت کے مخالفین کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور منفی پراپیگنڈے کا طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر کبھی اپنی ریاستی پالیسی سے انحراف نہیں کیا۔غزہ امن بورڈ میں شمولیت اسی مقصد کی تکمیل کی جانب ایک قدم ہے۔ اگر پاکستان غزہ امن بورڈ میں شرکت سے انکار کرتا تو باہر بیٹھ کر وہ کیسے فلسطینیوں کے مقصد اور مشن کی کامیابی میں کوئی کردار ادا کرسکتا؟بورڈ میں شمولیت سے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے پاس پُرزور طریقے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا۔ آٹھوں اسلامی ممالک نے اقومِ متحدہ کے چارٹر 2803 کے تحت غزہ بورڈ میں شرکت کی ہےجو خوش آئند ہے۔اب فلسطین کے خلاف اسرائیل اور باقی ممالک کا یکطرفہ فیصلے لینا ممکن نہیں رہا۔ یہی سب سے بہتر و احسن اقدام ہے اور اس اقدام کو فلسطینیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسرائیل جوہری پاکستان کے شمولیت سے خائف ہے اور کھل کر اس کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ "شیطن یاہو" کے ہاتھ سے کھیل نکلتا جا رہا ہے، غزہ کی پٹی جو اس نے 12 دن میں خالی کروانی تھی سوا دو سال بعد بھی نہ کروا سکا اور اب دنیا کی مدد مانگ رہا ہے۔ اس کے جھوٹے دعوؤں سے تھکے اس کے حواری بھی متبادل حل تلاش کر رہے ہیں جبکہ ابراہیم اکارڈ جیسی کاوشیں بھی "شیطن یاہو" کی ناعاقبت اندیشی سے ضائع ہو چکیں ہیں۔
؎ فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں