• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران میں مہنگائی اور کرنسی کے گرنے سے جنم لینے والے احتجاج پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ تہران سے شروع ہونے والا یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کئی شہروں میں پھیل گیاتھا۔یاد رہے یہ احتجاج تاجر طبقے نے شروع کیا تھا اور یہی تاجر طبقہ 1979ء میں بھی پہلوی خاندان کا تختہ الٹنے والی عوامی تحریک کا پیش رو تھا۔اس احتجاج میں تاجر طبقے کے ساتھ ساتھ طلباء اور خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا۔گوکہ حالیہ احتجاج تاجر طبقے نے شروع کیا مگر اس کی چنگاری 2022ء میں ایرانی خواتین کی طرف سے شروع کی جانے والی سول نافرمانی کی تحریک تھی۔ احتجاج کے دوران رضا شاہ پہلوی کے بیٹے جو امریکہ میں مقیم ہیں اور انہیں امریکہ و اسرائیل کی کھلی سرپرستی حاصل ہے نے کھل کر مظاہرین کا ساتھ دیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ایران واپس جا رہے ہیں۔

مگر مبصرین کے مطابق پہلوی کو ایران میں عوامی اکثریت حاصل نہیں اور حکومت کیخلاف احتجاج اور نعرے پہلوی کی محبت کا اعلان نہیں بلکہ حکمرانوں سے نفرت کا اظہار ہیں۔ گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ اور ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے نتیجے میں بھی ایران کی معاشی اور فوجی حیثیت کمزورہوئی ہے لیکن اس سے زیادہ تشویش ناک بات اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی ایران میں بڑھتی ہوئی رسائی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایرانی فوجی کمانڈروں، جوہری معاملات کے افسروں اور سائنسدانوں پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے ایرانی سرزمین پر اسرائیلی ایجنٹوں کے ذریعے ہی کرائے گئے تھے۔اس احتجاج کے دوران صدر ٹرمپ نے بھی جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے ایران کے ساتھ کاروبار کرنیوالے کسی بھی ملک جن میں چین، بھارت، متحدہ عرب امارات اور پاکستان شامل ہیں پر25فیصد نیا ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا جس سے ایرانی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس ٹیرف کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی تیل کی قیمتیں نومبر 2025ء کے بعد بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں۔ امریکہ کو شاید اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ جو حکمت عملی وینزویلا میں پوری طرح کارگر نہیں ہو سکی وہ اس سے تین گنا بڑی آبادی والے ملک میں دہرانا آسان نہیں ہو گا۔ گوکہ صدر ٹرمپ نے براہ راست فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو واپس لے لیا ہے لیکن اب ٹرمپ کی ممکنہ کوشش ہو گی کہ ایران کے سپریم لیڈر کو راہ سے ہٹایا جائے۔ ایران نے بھی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا حملہ کھلی جنگ کے مترادف ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے بھی ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ اب جبکہ احتجاج میں نمایاں کمی اور امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے تو پاسداران انقلاب کو بھی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہو گاکیونکہ مستقبل قریب میں ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ تسلط سے جان چھڑانا مشکل ہو گا۔ رضا پہلوی کا نام آج اس لیے لیا جا رہا ہے کیونکہ حزب اختلاف کی پارٹیوں کو سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں ۔

یاد رہے تمام تر جارحیت و جبر برداشت کرنے کے باوجود پچھلے سال ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران بائیں بازو کی تودہ پارٹی نے دو ٹوک الفاظ میں اسرائیلی جارحیت اور حکومت کی تبدیلی کی مخالفت کی تھی۔ آج اکیسویں صدی میں سیاسی کارکنوں کو مسلسل جیل میں رکھنے، عورتوں اور اقلیتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے اور اپنے پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات رکھے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں ۔ ایرانی عوام کئی دہائیوں سے ناقابل بیان مصائب سے دو چار ہیں اور کم از کم وہ اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں وقار اور خود اختیاری کے ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو۔لہٰذا پاسداران انقلاب کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی امتیاز کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار دیں تاکہ سارا سماج مل کر ایک اکائی کی شکل میں اسرائیلی اور امریکی جارحیتوں کا مقابلہ کر سکے۔

صدر ٹرمپ نے بھی امریکی سامراجیت کو وسعت دیتے ہوئے وینزویلا اور ایران کے بعد اپنی توپوں کا رخ گرین لینڈ کی طرف کر دیا ہے۔ یورپی ممالک جو ایران کے معاملے پر توخاموش رہے مگر گرین لینڈ پر ممکنہ جارحیت پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کے بعد ٹرمپ نے گرین لینڈ فوج بھیجنے والے تمام یورپی ممالک پر دس فیصد ٹیرف کا اعلان کر دیا ہے جس سے نیٹو اتحاد میں رخنہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے قوموں کے عروج و زوال پر مشتمل تاریخ کی کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا۔ روم کے بادشاہوں نے بھی اسی طرح طاقت کے بل بوتے پر اپنی سلطنت کو اتنی وسعت دی تھی کہ پھر وہ اس کو قابو میں نہ رکھ سکے۔ مفتوح ممالک میں اپنی شناخت کے احساس نے قوم پرستی کی تحریکوں کو جنم دیا اور آخر کار جرمن قبائل نے 410ء میں روم پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح ہٹلر نے بھی جرمنی کے پاس زمین کی کمی کا جوازتراش کر پڑوسی ممالک پر قبضہ کرنا شروع کردیاتھا۔آج ٹرمپ بھی گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کیلئے اسی طرح کا بھونڈا جواز فراہم کر رہے ہیں۔

دنیا کے تقریباً تمام ماہرین ٹرمپ کی وینزویلا ایران اور گرین لینڈ کے خلاف ہونے والی سامراجیت کو عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ آج ٹرمپ کی امریکی تسلط کی پالیسیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک اقوام متحدہ اور برکس کے فورم پر وینزویلا اور ایران کے اندر امریکی مداخلتوں پر اکٹھے ہو کر اسی طرح واضح موقف اختیار کریں جس طرح یورپی یونین نے گرین لینڈ کے مسئلے پر اختیار کیاہے ورنہ امریکہ ایک ایک کر کے تیسری دنیا کے ان تمام ممالک کو اپنا نشانہ بنائیگا جہاں تیل اور معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔

تازہ ترین