یہ ایک دکھی ماں کا تکلیف میں ڈوبا ہوا وائس میسج تھا ۔ یہ دکھی ماں پچھلے سات سال سے اپنے لاپتہ بیٹے مدثر نارو کی بازیابی کیلئے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے ۔ مدثر نارو ایک صحافی اور شاعر تھا ۔ 2018 ء میں اُس نے اپنی ایک پنجابی نظم فیس بک پر پوسٹ کر دی تھی جس پر اُس وقت کے طاقتور لوگ ناراض ہو گئے ۔ مدثر نارو نے 25 جولائی 2018ء کے الیکشن کے نتائج پر بھی اعتراضات کئے تھے لہٰذا اُسے 20 اگست 2018ء کو لاپتہ کر دیا گیا ۔ اُسکا بیٹا سچل اسوقت صرف چھ ماہ کا تھا ۔ مدثر نارو کی اہلیہ صدف نے چھ ماہ کے بچے کو گود میں اُٹھا کر خاوند کی تلاش میں بہت بھاگ دوڑکی لیکن خاوند کا کچھ پتہ نہ چلا ۔ اس مشکل وقت میں ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر کی گمشدگی کیخلاف درخواست دائر کی۔ کچھ عرصے کے بعد صدف بھی پر اسرار موت کا شکار ہو گئی تو مدثر کی والدہ اپنے پوتے سچل کے ساتھ ہمیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی راہداریوں میں نظر آنے لگی ۔ اب اس دُکھی ماں کا واحد سہارا ایمان مزاری تھی جسکی کوششوں سے عدالت نے مدثرنارو کی گمشدگی کے مسئلے پر وزیر اعظم عمران خان کو طلب کر لیا تھا ۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ مدثر بازیاب ہو جائیگا لیکن وعدہ پورا نہ ہوا۔ پھر عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی ۔ شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے ۔ عدالت نے اُن کو بھی طلب کر لیا ۔ شہباز شریف صاحب 2022 ء میں خود اسلام آباد ہائی کورٹ تشریف لائے اور عدالت میں مدثر نارو کی والدہ اور بیٹے سچل سے وعدہ کیا کہ وہ مدثر نارو کو بہت جلد بازیاب کرائیں گے ۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہوا بلکہ جس وکیل ایمان مزاری کی وجہ سے انہیں عدالت میں آ کر ایک جھوٹا وعدہ کرنا پڑا اُس وکیل کو گرفتار کر کے 17 سال قید کی سزا دلوا دی گئی ہے ۔ ایمان مزاری اور اُن کے وکیل شوہر ہادی چٹھہ کو کو 17, 17 سال قید کے علاوہ مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے ۔ یہ سزا کم اورکسی کا غصہ زیادہ نظر آتا ہے اور اسی لئے مدثر نارو کی بے بس ماں مجھے یہ پوچھتی ہے کہ کیا ایمان اور ہادی کوئی دہشت گرد تھے ؟ اُن پر اتنا غصہ کیوں ؟ مدثر نارو کی بوڑھی ماں اور بیمار باپ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر کی گرفتاری پر احتجاج کیلئے فیصل آباد سے لاہور آئے ۔ پریس کلب کے باہر بینر اٹھا کر کافی دیر تک کھڑے رہے ۔ مدثر نارو کے صحافی دوستوں کے ساتھ مل کر ایمان مزاری کے حق میں نعرے بازی کی اور واپس چلے گئے ۔ انکے بس میں جو تھا انہوں نے کر دیا۔ ایمان مزاری ان بوڑھے ماں باپ کی آخری امید تھی ۔ اس آخری اُمید کو 17 سال قید کی سزا دیدی گئی ہے ۔ یہ سزا پیکا ایکٹ کے تحت دی گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت میں ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری وفاقی وزیر تھیں اور اُس دور میں بھی ایمان پر مقدمے قائم ہوتے تھے۔ ایمان اکثر تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتی تھی اور اُنکی والدہ صاحبہ اپنے دفاع میں کہتیں کہ میں اپنی بیٹی کے سیاسی خیالات پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتی ۔ پھر عمران خان کی حکومت بدل گئی تو انکے کئی ساتھی بھی بدل گئے۔
ڈاکٹر شیریں مزاری کی سیاسی وفاداری تبدیل کرانے کیلئے ان پر ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ۔ اس مقدمے میں اُنکی ضمانت ہو گئی تو انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ۔ اس ناانصافی پر ایمان مزاری نے اُسوقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں کچھ سخت باتیں کہہ دیں ۔ باجوہ صاحب غصے میں آ گئے۔ 26 مئی 2022ءکو ایمان مزاری کیخلاف ایک افسر کی درخواست پر اسلام آبادکے تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔ مقدمہ عدالت میں پہنچا تو ایمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے جنرل باجوہ کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کر دیا اور عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔ ستمبر 2023ءمیں ایمان پر ایک اور مقدمہ درج ہو گیا اور پھر یہ سلسلہ چلتا ہی چلاگیا۔ کمزور اور بے بنیاد مقدمات کے باعث ایمان کو گرفتاری کے بعد رہائی مل جاتی تھی لیکن پھر پیکا ایکٹ 2025ء منظور ہو گیا۔
26 ویں اور 27ویں آئینی ترمیم آگئی ۔ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو ایمان کا خیال تھا کہ انہیں چھ سات ماہ کیلئے جیل بھیجا جائیگا۔ شائد اسے اندازہ نہیں تھا کہ اُسکا جُرم بہت بڑا تھا ۔ وہ صرف بدتمیز نہیں تھی بلکہ دو وزرائے اعظم کو عدالت میں طلب کروا چکی تھی۔ کئی طاقتور لوگ اسکی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا اس غصے کے باعث ایمان اور ہادی کو عمر قید سے بھی بڑی سزا سنا کر اور بھاری بھرکم جرمانہ عائد کر کے دراصل یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان سافٹ لوگوں کیلئے ہارڈ اسٹیٹ بن چکا ہے۔ یہ سافٹ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنا نظریہ نافذ کرنے کیلئے بندوق نہیں اُٹھاتے بلکہ پرامن سیاسی و قانونی جدوجہد کرتے ہیں۔جب ریاست ایسے سافٹ لوگوں کیساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کرے تو سمجھ لیجئے کہ ریاست اپنے غصے کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ایمان مزاری کے مخالفین اُسے دہشت گردوں کا ساتھی کہتے ہیں ۔ اُنکا دعویٰ ہے کہ ایمان مزاری کی حمایت کرنے والوں کو بھی جلد سبق سکھا دیا جائیگا۔ وہ یاد رکھیں ایک حاملہ خاتون وکیل کو 17 سال قید کی سزا سنا کر پاکستان کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ریاست مدثر نارو کی دُکھی ماں کو انصاف دے ۔ یہ ماں ان ہزاروں دکھی ماؤں کی نمائندہ ہے جو اپنے لاپتہ پیاروں کیلئے بلوچستان سے کشمیر تک دھکے کھا رہی ہیں۔ مدثر نارو کا بیٹا سچل اب سات سال کا ہو چکا ہے ۔ ذرا اس سات سال کے بچے کے بارے میں سوچئے کہ دس بارہ سال کے بعد وہ کس کیساتھ کھڑا ہو گا ؟ ریاستی اداروں کے غصے کے ساتھ کھڑا ہو گا یا ایمان مزاری کیساتھ کھڑا ہو گا؟ ایمان مزاری کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دینے والے ذرا یہ بھی بتا دیں کہ اگر ایمان مزاری دہشت گردوں کی ساتھی ہے تو مدثر نارو کی دکھی ماں نے کونسی دہشت گردی کی ہے ؟
آپ مدثر نارو کو بازیاب کرا دیتے تو کسی وزیر اعظم کو عدالت میں آ کر اُسکی بوڑھی ماں اور ننھے بیٹے کے ساتھ جھوٹا وعدہ کرنے کی زحمت نہ اُٹھانا پڑتی ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17سال قید کی سزا سنانے کے بعد اس حکومت اور اس کے اداروں پر تنقید کم ہو جائیگی اور لوگ گرفتاری کے خوف سے اپنی زبانوں پر تالے لگا لیں گے تو یہ بڑی خام خیالی ہے ۔ میں ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو جانتا ہوں جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے لیکن موجودہ حالات سے وہ سخت مایوس ہیں ۔ اُنکا کہنا ہے کہ ہمارے پاس دو ہی راستے بچے ہیں۔ یا تو پاکستان چھوڑ دیں اور اگر پاکستان میں ہی رہنا ہے تو پھر 17سال نہیں 34 سال قید کی تیاری کرنا ہوگی ۔ اس لمبی عمر قید کیلئے جیل جانا ضروری نہیں کیونکہ جیل کے اندر اور باہر کے حالات میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اپنے مخالفین اور ناقدین کو جھوٹے مقدمات کے ذریعے جیلوں میں قید کرنے والے حکمران کبھی چین کی زندگی نہیں گزارتے کیونکہ کسی نہ کسی دکھی ماں کی بددعا ایک دن انہیں بھی جیل پہنچا دیتی ہے۔