• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم شہباز شریف بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک کرشمہ ساز شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ شہباز،عاصم منیر،اسحاق ڈار ٹرائیکا کا مضبوط باہمی اعتماد و اتحاد آج پاکستان کا روشن چہرہ دنیا بھر کو حیران و پریشان کررہا ہے۔ آخر ایسا چمتکار کیسے ہوا؟ شہباز عاصم منیر جوڑی آج عالمی مسائل کے حل میں اپنی بھرپور نمائندگی کا احساس دلانے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے جو مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی۔ غزہ امن بورڈ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران شہباز شریف کا ٹرمپ کا مضبوطی سے ہاتھ پکڑنا، جواباً ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ٹرمپ کا انہیں تھپکی دینا، شہباز کا کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی کی طرف توجہ دلانا ، ٹرمپ کا مسکرانا اور فیلڈ مارشل کی طرف خیرسگالی کا اشارہ یہ سب پاک امریکہ مضبوط ہوتے تعلقات کی مثبت نشانیاں ہیں۔ یہ احساس کہ پاکستان چین سے بالاتر امریکی بلاک میں سرگرم ہو رہا ہے بالکل غلط ہے۔ ”سب کیلئے پاکستان“ خارجہ پالیسی کا یہ اصول چین سے ہی مستعار لیا گیا ہے کہ حالات کیسے بھی ہو ں اپنا بین الاقوامی کردار کھُلے میدان میں رہ کر بھرپور انداز میں نبھانا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سفارت کاری کے ہر عالمی میدان اور منصوبہ بندی میں مضبوط شراکت دار کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کیوں ضروری تھی اور اپوزیشن اس پر واویلا کیوں کر رہی ہے ، المیہ یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی ہوں یا موجودہ اپوزیشن جماعتیں اسی وقت شور شرابہ کرتی ہیں جب پانی سر سے گزر جاتاہے اور صرف اسٹریٹ پاور سے گھر بیٹھے انقلاب لانا چاہتی ہیں۔ کیا اپوزیشن کی یہ پالیسی کامیاب رہے گی ۔ ماضی و حال کی سیاسی تاریخ کے تلخ تجربات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ احتجاجی تحریکوں کے نتائج مثبت نہیں نکلتے۔ محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر،راجہ ناصر عباس کا قائد حزب اختلاف سینیٹ بننا بدترین سیاسی کشیدگی کے دوران نیک شگون قرار دیا جانا ہی حکومت و اپوزیشن کی پہلی سیاسی کامیابی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی اشیر باد اور پُر زور مطالبے پر دونوں اہم ترین تقرریاں پی ٹی آئی کو کتنا سیاسی فائدہ یا نقصان پہنچائیں گی یہ فیصلہ تو آٹھ فروری کی اعلان کردہ احتجاجی تحریک سے ہی سامنے آئے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی سیاسی سوچ کا جو پس منظر محسوس کیا جارہا ہے وہ کچھ ایسا ہے کہ راجہ ناصر عباس ایک مضبوط سیاسی، مذہبی و مسلکی سوچ کے ساتھ دھرنے دینے کی مہارت رکھتے ہیں اور محمود خان اچکزئی ایک کھرے، محب وطن، جمہوریت پسندپاکستانی پشتون مگر بلوچستان جیسے حساس صوبے سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے طورپر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے اپنی مضبوط سیاسی جماعت کو پس پشت ڈال کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایک ایک سیٹ رکھنے والے جن رہنماؤں کو اپوزیشن کی قیادت سونپی ہے اس کا واحد مقصد ظاہری طورپر حکومت مخالف ایجنڈے اور سیاسی تحریک کو گرم ہوا دینا ہے۔جہاں تک سہیل آفریدی کا تعلق ہے بانی پی ٹی آئی یقیناً یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا میں آٹھ فروری کے احتجاج کو عوامی رنگ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سونے پر سہاگہ ، اب بڑے مولانا صاحب بھی غزہ امن معاہدے کو لے کر قومی اسمبلی میں حکومت پر خوب گرجے برسے ہیں اور آٹھ فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہتے ہیں۔ مذکورہ اپوزیشن شخصیات کی حب الوطنی اور سیاسی اہمیت و کردار پر کوئی دو آرانہیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ اس تحریک سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا بانی پی ٹی آئی رہا ہو جائیں گے یا حکومت گر جائے گی؟ تو جواب نہ ہی سمجھیں۔ اپوزیشن غزہ امن معاہدے پر اعتراض کیوں کررہی ہے۔ جب معاہدہ منظر عام پر آیا اور اس بات کے امکانات واضح تھے کہ گیند پاکستان کی کورٹ میںآئے گی تو اپوزیشن کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ یقیناً یہ معاہدہ پارلیمنٹ میں بلاتاخیرزیرِبحث لانا چاہئے۔ تیزی سے بدلتے بین الاقوامی حالات میں کسی بھی سپر پاور کی جھولی میں یک طرفہ گر جانا کسی ملک کے مفاد میں نہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں اپنی بڑھتی سفارتی کامیابیوں سے پیچھے ہٹ جائے۔ غزہ امن معاہدہ عملی طور پر کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے اس کے امکانات ففٹی ففٹی ہیںمگر شمولیت کا فیصلہ کامیاب سفارت کاری ، مصلحت کا تقاضا اور ضرورت بھی ہے۔ اپوزیشن شور شرابے، تحریک چلانے سے پہلے اس نکتے پر ضرور غور کرے کہ یورپ امریکہ سے دور ہو رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم چین کے دورے پر جارہے ہیں۔ چین اپنی معاشی و دفاعی صلاحیت کے زور پر عالمی نظام کا کلیدی کھلاڑی بن چکا ہے۔ روس، یوکرائن جنگ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ، ٹرمپ اس تنازعے پر دوغلی حکمت عملی کا شکار ہیں۔ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں، نیٹو امریکہ بداعتمادی بڑھا اور طاقت کے توازن کو بگاڑ رہی ہیں۔ چین یورپ تعلقات میں بہتری کے امکانات موجود ہیں، چین پوری دنیا کے ساتھ کسی تنازع میں اُلجھے بغیر چلنے کو تیار ہے۔ ایران، امریکہ، اسرائیل کشیدگی جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے ایسے میں اگر پاکستان غزہ امن معاہدے کے تحت میدان میں موجود رہتا ہے تو کوئی مفاہمتی و مصالحتی کردار یقیناًادا کرسکتا ہے۔ مسئلہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کا توقع رکھنی چاہئے کہ جب غزہ کا معاملہ آئے گا تو کشمیر پر بھی بات ہوگی ، مستقبل میں حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں حکمت یہی کہتی ہے کہ ملکی سیاست میں انتشار و فساد کی بجائے سیاسی سوجھ بوجھ اور باہمی اعتماد کو مضبوط کیا جائے۔ سب سے پہلے پاکستان کی طرح ”سب کیلئے پاکستان“ ایک کامیاب سفارت کاری کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تازہ ترین