انسانی تہذیب کی قدیم ترین روایت داستان گوئی محض کہانی سنانے کےعمل تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی ورثے ، دانش و حکمت، اخلاقی قدروں اور اجتماعی شعور کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا سب سے مستند اور سہل وسیلہ رہی ہے۔وہ لوگ جن کا قلم کتاب سے واسطہ نہیں تھا مگر زمینی دانش رکھتے تھے،انہوں نے داستان گوئی کے ذریعے لوگوں کی اخلاقی اور تہذیبی تربیت کی ۔قدیم معاشروں میں داستان گو قبیلے ، گاؤں اور شہر کی نمایاں شخصیت ہوتا تھا۔ عربوں کی ایام العرب، ایرانی شاہنامہ، برصغیر کی داستانِ امیر حمزہ، یونانی اساطیر وغیرہ زبانی روایت کی عمدہ مثالیں ہیں۔
برصغیر میں مختلف زبانوں کے ملاپ سے داستان گوئی ایک منفرد اور زیادہ دلآویز انداز میں سامنے آئی۔ہر فرد خوبصورتی ، جلال اور خوشحالی کا طلب گار اور حالات کو اپنے اختیار میں رکھنے کی تمنا رکھتا ہے۔وہ انجانے دیسوں ،حیران کن مناظر اور مافوق الفطرت عناصر کےبارےمیں جاننے کا اشتیاق رکھتا ہے، یعنی جو کام خود نہیں کرسکتا وہ داستان کے ہیرو کو کرتے دیکھ کر تسکین محسوس کرتا ہے۔ انسان کی فطرت کو دیکھتے ہوئے داستان گو خیر و شر کی کہانی بناتے ہیں جس میں مافوق الفطرت مخلوق، پرندے اور انسان کردار نبھاتے ہیں ، ہیرو بے شمار صفات کا مالک ہوتا ہے جو خیر کی جیت اور باطل کے مٹانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ لوگوں کے اندر خیر کی ترویج اور شر کی مخالفت کا جذبہ اُبھارا جاتا تھا ، یہ بنیادی نکتہ معاشروں اور ملکوں کو امن محبت اور انسانیت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
داستان گو ایک یوٹوپیا کا تصور پیش کرتا تھا جو سننے والوں کے دل اور روح کو شادمان کرتا اور اُسے جینے کا حوصلہ عطا کرتا تھا۔پنجابی داستان گوئی کو برصغیر کی زبانی روایتوں میں سب سے جاندار اور زمینی دانش سے معمور روایت کہا جاتا ہے۔کیونکہ یہ مافوق الفطرت عناصر، محلاتی ماحول اور خیالی مناظر کی بجائے سرسبز کھیتوں، رواں دریا کے آباد کناروں، میلوں ٹھیلوں اور چوپالوں کے زندہ جاوید مناظر میں سانس لیتی ہے۔
پنجابی داستان گوئی کی جڑیں اُس وسیع دیہی سماج میں ہیں، جہاں کہانی سننا سنانا تفریح بھی ہے اور اجتماعی حافظے کی سنبھال بھی۔ دارے، چوپال، صوفی درگاہیں ، بیٹھکیں اور بیلے داستان گوئی کے اسٹیج رہے ہیں۔
گلوکاروں اور قوالوں نے صوفیانہ اور بہادر متوالوں کی شان میں لکھی داستانوں کو گا کر اس روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پنجابی داستان گوئی میں زیادہ تر عشقیہ داستانیں ملتی ہیں لیکن یہ محض رومانی کہانیاں نہیں بلکہ سماجی جبر اور روحانی بغاوت کی تمثیل ہیں۔ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں،مرزا صاحباں اپنے سماج کی عمدہ عکاسی ہیں۔
عشق کو تقدیر اور استحصالی قوتوں کے خلاف ایک موثر اخلاقی احتجاج بنانا اہمیت کا حامل ہے۔پنجابی صوفی شعرا نے داستان کو باطن کی زبان بنایا ، وارث شاہ اور میاں محمد بخش نے ہیر رانجھا اور سیف الملوک میں کرداروں کو انسانی اور روحانی پیرہن میں پیش کر کے ظاہری کےساتھ باطنی روحانی نظام کی بات کی ۔سیف الملوک اگرچہ پنجاب کی داستان نہیں مگر کرداروں کے رویے ، ثقافت اور ماحول پنجاب کا ہے ۔
بول چال کی سادہ زبان اورمکالماتی انداز کی وجہ سے پنجابی داستان گوئی آج بھی سماج میں مقبول اور موجود ہے۔ پنجابی داستانوں کی عورت جدوجہد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے والی فعال فرد ہے۔ ہیر، سوہنی اور صاحباں سب اختیار رکھنے ،فیصلہ کرنے کی جرات اور استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کرنے والی ہستیاں ہیں ۔صوفیا کی لکھی داستانیں پدر شاہی، ذات پات، رجعت پسندی، ظاہرپرستی اور جبر کے خلاف تنقیدی للکار ہیں۔اگرچہ ناول افسانے ، فلم اور ٹی وی نے زبانی روایت کو پیچھے دھکیلنے میں کردار ادا کیا مگرلوک تھیٹر، صوفی میلے، جدید پنجابی شاعری و فکشن نے اس روایت کو نئی صورت دی ہے۔آج پنجابی داستان گوئی ایک ثقافتی یادداشت کے طور پر دوبارہ شوق سے پڑھی اور سنی جا رہی ہے۔پنجابی گانگریس کے چیئرمین فخرزمان صاحب نے داستانوں کی سماجی ، قومی و ثقافتی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کی لوک داستانوں کی تاریخ ، اشتراک اور مماثلت کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا تو اس کی بھرپور پذیرائی کی گئی۔
تمام صوبوں سے ادیب اور محقق شامل ہوئے اپنے اپنے علاقوں کی داستانیں سنائیں ،ان کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ لوک داستانیں دھرتی اور دھرتی کے باسیوں سے جُڑت کے باعث سب کے دل کی آواز ہوتی ہیں، ہمارا اجتماعی شعور اور ہماری تہذیب کی نمائندہ داستانوں کو نئی نسل کی یادداشت میں رکھنے کا اہتمام ہوتا رہنا چاہئے۔