• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک دفاعی ردِعمل، جمود اور وقتی مصلحتوں کے گرد گھومتی رہی۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست، کثیر قطبی دنیا، علاقائی بلاکس اور سفارتی معرکوں کے اس دور میں پاکستان کو ایک ایسے بیانیے اور قیادت کی ضرورت تھی جو صرف ماضی کا دفاع نہ کرے بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کرے۔ اسی پس منظر میں بلاول بھٹو زرداری کا کردار نہایت اہمیت اختیار کرتا ہے، جو ایک نوجوان مگر سیاسی طور پر باشعور رہنما کے طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئے زاویے، نئی زبان اور نئی سمت دینے میں نمایاں نظر آتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزارتِ خارجہ سنبھالتے ہی واضح کر دیا تھاکہ پاکستان اب محض دفاعی یا شکایتی سفارت کاری نہیں کرے گا بلکہ فعال، مثبت اور خودمختار خارجہ پالیسی اپنائے گا۔ انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا، جو نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع جانتی ہے بلکہ عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون میں بھی سنجیدہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اقوامِ متحدہ میں بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر محض رسمی بیانات نہیں تھیں بلکہ ایک منظم بیانیے کا اظہار تھیں۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض ایک علاقائی تنازع کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں اجاگر کیا۔ ان کی گفتگو میں جذباتیت کے بجائے دلیل، شواہد اور عالمی اصولوں کا حوالہ نمایاں رہا، جس نے پاکستان کے مؤقف کو اخلاقی اور قانونی طاقت فراہم کی۔

افغانستان کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری نے توازن اور حقیقت پسندی پر مبنی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے ایک طرف افغان عوام کے انسانی بحران کو عالمی برادری کے سامنے رکھا، تو دوسری طرف یہ واضح کیا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ بلاول نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ امن، مکالمہ اور معاشی شمولیت ہی افغانستان کو عدم استحکام سے نکال سکتی ہے، اور پاکستان اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی بلاول بھٹو زرداری کا انداز روایتی سخت بیانات سے مختلف رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر یہ امن اصولوں، خودداری اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے نفرت انگیز بیانیے کے بجائے سفارتی زبان استعمال کی، جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی سفارت کاری کو متوازن رکھا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کے ساتھ تعلقات میں انہوں نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام مسلم ممالک کے ساتھ احترام اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔ یہ پالیسی پاکستان کو علاقائی تنازعات میں غیر ضروری الجھاؤ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوئی۔

یورپی یونین اور مغربی دنیا کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق، جمہوریت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے سیلاب، ماحولیاتی ناانصافی اور ترقی پذیر ممالک پر موسمیاتی اثرات کا مسئلہ عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا۔ یہ وہ پہلو تھا جس نے پاکستان کو محض سیکورٹی ریاست کے تاثر سے نکال کر ایک ماحولیاتی اور انسانی مسئلے سے متاثرہ ریاست کے طور پر پیش کیا، جسے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی خارجہ پالیسی میں سب سے نمایاں پہلو بیانیے کی تبدیلی تھی۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر متعارف کرایا جو تصادم کے بجائے مکالمہ، تنہائی کے بجائے شراکت، اور وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی سفارت کاری، دوطرفہ ملاقاتوں اور عالمی کانفرنسوں میں پاکستان کے فعال کردار کی صورت میں بھی نظر آئی۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بلاول بھٹو زرداری کو ایک مشکل داخلی اور خارجی ماحول میں وزارتِ خارجہ ملی۔ معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کسی ایک طاقت کے زیرِ اثر جانے سے بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی اس کے قومی مفاد، عوامی خواہشات اور آئینی اصولوں کے مطابق تشکیل پائے گی، نہ کہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت۔بلاول بھٹو زرداری کا اندازِ سفارت کاری دراصل ذوالفقار علی بھٹو کی متحرک خارجہ پالیسی اور بے نظیر بھٹو کی جمہوری و انسانی حقوق پر مبنی سوچ کا تسلسل محسوس ہوتا تھا مگر جدید عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھلا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رہنماؤں، سفارت کاروں اور بین الاقوامی میڈیا میں ان کی بات کو سنجیدگی سے سنا گیا۔آج جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں اور نئے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں، پاکستان کو ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو نہ صرف حالات کا مقابلہ کرے بلکہ مواقع سے فائدہ بھی اٹھائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس سمت میں ایک واضح فکری بنیاد فراہم کی ہے۔ یہ بنیاد آنے والے برسوں میں کس حد تک مضبوط ہوتی ہے، اس کا انحصار سیاسی تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے پر ہوگا، مگر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو میں بلاول بھٹو زرداری کا کردار ایک اہم اور یادگار باب کے طور پر لکھا جائے گا جو ڈیووس میں ان کی موجودگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تازہ ترین