• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مبارک ہو جناب محمود خان اچکزئی

پاکستان قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرکی حیثیت سے ایک کہکشاں میں شامل ہو گئے ہیں جہاں حسین شہید سہروردی ’سردار بہادر خان‘ نور الامین ’خان عبدالولی خان‘ مفتی محمود ’بینظیر بھٹو‘ میاں نواز شریف جیسے ستارے تاریخ کے اوراق میں چمک رہے ہیں

آپ کو ویسے یہ رتبہ بلند ملنے میں کچھ مہینے لگ گئے۔ اب حیرت بھی ہو رہی ہے یہ سب کیسے ممکن ہو گیا

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام

ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

اگست 2025ء سے یہ منصب خالی تھا ۔اب ماحول ایسا سازگار بھی نہیں تھا ۔پھر بھی کیسے ہو گیا کہ عمران خان کے تجویز کردہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اپوزیشن لیڈروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔

ویسے تو دنیا کو اس وقت بہت خطرناک چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن میرے خیال میں سب سے بڑا چیلنج 77 سالہ محمود خان اچکزئی نے قبول کیا ہے ۔

محمود خان اچکزئی ایسے دور میں اس کانٹوں بھر ی مسند پر بیٹھ رہے ہیں جب یہ مملکت خداداد اپنی تاریخ کے سفاک ترین دور سے گزر رہی ہے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ آخری فیصلہ کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے ۔

شعبان معظم کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ہم اپنے معبود حقیقی کے حضور دل کی گہرائی سے یہ دعا کریں گے کہ ہمارا پالنے والا ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ہر طرف سے بلاؤں کا نزول ہے۔ دنیا ایک غیر محفوظ سیارہ بنتی جا رہی ہے۔ بڑے بڑے ملک بے اماں ہو رہے ہیں خون مسلم کی ارزانی ہے۔ 70ہزار فلسطینیوں کی شہادت کے بعد غزہ میں تفریحی عمارات کی تعمیر ہونے جا رہی ہے اور ہمارے مسلم ممالک اس تعمیری پروجیکٹ میں خوشی خوشی پارٹنر بن رہے ہیں۔

اب وزیراعظم کے بعد پاکستان کے مستقبل کے تحفظ کی ذمہ داری اپوزیشن لیڈر کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر پارلیمانی سسٹم میں متبادل وزیراعظم ہوتا ہے وزیر اعظم کی تو کئی آئینی اور نادیدہ مجبوریاں ہوتی ہیں اپوزیشن لیڈر زیادہ خود مختار ہوتا ہے پاکستان کا آئین بنانے والوں نے اس متبادل وزیراعظم کیلئے بہت سی سہولتیں اور مراعات بھی رکھی ہیں سرکاری رہائش گاہ سرکاری گاڑی غدیر تنخواہ روزانہ الاؤنس ریلوے سیلون ہوائی جہاز ہیلی کاپٹر کی بوقت ضرورت سہولت بجلی گیس کے بلوں کی ادائیگی ایک پرائیویٹ سیکرٹری ایک پی اے ایک سٹینوگرافر ایک قاصد ایک نائب قاصد میڈیکل سہولتیں سفری اخراجات ۔ایک وفاقی وزیر کی حیثیت اور مرتبہ۔ گاڑی پر سبز جھنڈا بھی لہرائے گا یہ اپوزیشن لیڈر پر منحصر ہے کہ وہ یہ ساری مراعات استعمال کرے یا کچھ سے انکار بھی کر دے اب چیف الیکشن کمشنر سمیت بہت سے اہم آئینی عہدوں پر تقرری میں اس کی مشاورت بھی لازمی ہوگی۔

مہذب جمہوری ملکوں میں تو اپوزیشن لیڈر کا بہت احترام ہوتا ہے پاکستان جیسے ملکوں میں اپوزیشن لیڈر کا زیادہ عرصہ جیل میں گزرتا ہے. محمود خان اچکزئی ہمارے ہم نام ہیں. ان سے ہماری شناسائی1973 کے ائین بننے سے لیکر اب تک کی ہے 1969ء میں جب ان کے عظیم والد اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے قیدی خان عبدالصمد اچکزئی کو 20سال بعد رہا کیا گیا تو میں اخبار جہاں سے وابستہ تھا. ہم نے 1970 کے انتخابات کے پیش نظر سب لیڈروں سے انٹرویو کا پروگرام بنایا. خان بابا جنہیں بلوچی گاندھی بھی کہا جاتا تھا. جنگ کے دفتر سے تیسری گلی میں ایک چھوٹے سے گرینڈ ہوٹل میں ٹھہرے تھے انٹرویو کیا تھا پاکستان کے پہلے 22سال کی جبر و استبداد کی تاریخ تھی. انٹرویو بہت پڑھا گیا ’’اخبار جہاں ‘‘ میں مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی کے انٹرویو بھی چھپے۔ یہ تمام انٹرویو ہماری کتاب ’’روبرو‘‘ میں شامل ہیں ان رہنماؤں کی چھوٹی چھوٹی خبریں بھی ایوب خان کے دور میں شائع نہیں ہوتی تھیں ۔اب یہ کئی کئی صفحات کے انٹرویو چھپے تو اخبار جہاں ان حلقوں میں بھی پڑھا جانے لگا ۔خان عبدالصمد خان بہت سخن فہم بر صغیر کے مزاج آشنا اس خطے کے سیاسی مستقبل پر بھی واضح نظر رکھتے تھے۔ اس انٹرویو کے دوران نو عمر محمد خان اچکزئی بھی موجود تھے بعد میں انہیں میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان کا گورنر بھی مقرر کیا۔ اس انٹرویو کی وجہ سے یہ پورا خاندان ہم سے بہت احترام سے پیش آتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک بے باک پاکستانی کی حیثیت سے ایک مقام اور احترام حاصل کیا ہے ۔ان کا روایتی لباس شلوار قمیض اور چادر پاکستان کے عوام کو ہر دور میں یاد رہا ہے۔ 14 دسمبر 1948 ءکو پیدا ہونیوالے اس پاکستانی نے پشاور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ کی اعلی ڈگری لی تھی ۔پاکستان پے در پے ایک نئے حکومتی تجربے سے گزر رہا ہے جس میں انتخابی نتائج بدلنے کے فارمولے بھی شامل ہیں .بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے عسکری طور پر بھی سیاسی انداز سے بھی .دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنی نا مقبولیت کے مشکل دور کا سامنا کر رہی ہیں. پاکستان کی 47 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جمع ہو رہی ہے. قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے غیر ملکی کمپنیاں اپنی بساط سمیٹ کر پاکستان سے جا رہی ہیں .کسی شعبے میں بھی پاکستان کے اشارے بہتر نہیں ہیں .آئندہ 10/ 15 سال میں پاکستان کس طرف جائے گا مصر کی طرف مائنامار یا خلیجی ریاستوں کے سسٹم میں۔ یہ نہ تو مسلم لیگ نون بتا رہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اور نہ عوام میں مقبول پاکستان تحریک انصاف ۔

اس بے یقینی اور انتشار میں ایک اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں بہت پیچیدہ بھی ہو جاتی ہیں ۔ قومی اسمبلی میں 336میں سے 102ارکان اس وقت اپوزیشن میں ہیں ۔محمود اچکزئی 1989ءمیں قائم ہونیوالی پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے اس وقت واحد رکن اسمبلی ہیں۔ لیکن انہیں پوری اپوزیشن کی قیادت نصیب ہو گئی ہے ۔اس لیے تاریخ بھی ان سے بہت توقعات رکھتی ہے ۔ عوام بھی ان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اب جمہوری ادارے جس انداز میں چلائے جاتے ہیں اس میں آئین کا خیال رکھا جاتا ہے نہ قانون کا۔ حسین شہید سہروردی سے لے کر میاں نواز شریف تک کے اپوزیشن لیڈرز کو جو جمہوری ماحول ملا تھا وہ بھی اگرچہ مکمل جمہوری نہیں تھا لیکن اب تو وہ بالکل ہی مختلف ہے اج کل سوشل میڈیا غالب ہے روایتی میڈیا نہیں ہے اس لیے ایک ایک قدم احتیاط کی ضرورت ہے اور ایک ایک حرف بہت سوچ سمجھ کر بولنا پڑتا ہے

اس وقت پاکستان میں قیادت کا سنگین بحران ہے عوام کا اعتماد حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں سے اٹھ گیا ہے۔ ہماری مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کو اب عوام کے قریب آ کر سیاست دانوں پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا ۔ سب سے زیادہ ضروری ہوگا کہ اپوزیشن لیڈر پاکستان کے سب مقامات آہ و فغاں پر پہنچیں۔ گل پلازہ ان کا منتظر ہے پھر وادی تیراہ کے داخلی پناہ گزین. واہگہ سے گوادر تک انتظار ہے محمود خان اچکزئی کی بصیرت کا۔

تازہ ترین