• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے تحت کی جانے والی وزیراعظم کینیڈا مارک کارنی کی تقریر دنیا کو درپیش صورتحال کے معاملے میں تاریخی اہمیت کی حامل ہے خاص طور پر انکا یہ جملہ کہ’’ اگر آپ ميز پر نہیں ہے تو مینیو میں ہیں ‘‘۔ یعنی یا تو آپ کھا رہے ہیں یا آپ کو کھایا جا رہا ہے۔ اب آپ کی صلاحیت کا امتحان ہے کہ آپ ميز یا مینیو میں سے کہاں پر موجودہیں ۔ یہ سوال صرف کینیڈا یا یورپ کو درپیش نہیں بلکہ پاکستان کے سامنےبھی در حقیقت یہ ہی سوال ہے کہ دنیا کی نئی سیاسی تقسیم کے دور میں پاکستان اپنے مفادات کی حفاظت کیسے کرتا ہے تا کہ کسی کیلئے بھی تر نوالہ ثابت نہ ہو ۔ وزیر اعظم کارنی نے اپنی تقریر میں اس پر خاص طور پر گفتگو کی کہ عالمی نظام کے حوالے سے جو روايتي مفروضے موجود ہیں وہ مزید برقرار نہیں رہ سکیں گے جن میں سے انہوں نے ایک مفروضے کہ کینیڈا کا محل وقوع ایسا ہے کہ وہ محفوظ رہے گا،کا ذکر کیا کہ یہ اب بس ماضی کا ہی قصہ ثابت ہوا ہے ۔ اس میں ذرا ہمارے لئے بھی بہت چونکا دینے کا حامل نکتہ موجود ہے کہ یہ محل وقوع اور اسکے استعمال کے حوالے سے ہمارے تصورات درست بھی ہیں کہ نہیں ؟ اور کیا ہم اس کا استعمال اسکی استعداد کے حوالے سے کر بھی رہے ہیں یا نہیں ؟ دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے کہ امریکہ اور اس کو صرف صدر ٹرمپ تک محدود ہو کر نہیں دیکھنا چاہئے ۔ کینیڈا کے حوالے سے ایک واضح نکتہ نظر اختیار کر چکے ہیں اور اس نکتہ نظر سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ امریکا جو کہ’’امریکہ ان دی ایسٹ‘‘ کتاب میں وليم ایلیٹ نے بیان کیا تھا ، سے ذرا پرے ہٹ کر سوچنے لگا ہے اور اس حوالے سے حکمت عملی کو منصہ شہود پر لانے لگا ہے ۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے دنیا کے اہم اداروں جیسے اقوام متحدہ ، ڈبلیو ٹی او وغیرہ کی کثیر الجہت انداز میں معدومی کا ذکر کیا اور اسکے بعد اس بات پر زور دیا کہ درمیانے درجے کی طاقتوں کو اپنی اقدار یا با الفاظ دیگر اپنی بقا کیلئے مل بیٹھ کر حکمت عملی کو تشکیل دینا چاہئے تا کہ طاقتور ممالک کو ایسی پیش قدمی سے روکا جا سکے جو اب جارحانہ انداز اختیار کر رہی ہے ۔

خطرے کا اظہار صرف کینیڈا کی جانب سے ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ پورا یورپ اس وقت اس پر اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے اور اپنی بقا کیلئے راستے تلاش کرنے پر گامزن ہے اور اسکی بہت منطقی وجہ بھی موجود ہے کہ اب امریکہ ڈھکے چھپے نہیں بلکہ واشگاف انداز میں اس کو بیان کر رہا ہے کہ اب امریکہ کی حکمت عملی میں یورپ کو وہ حیثیت حاصل نہیں جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی ۔ امریکہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ دفاعی پالیسی میں یورپ کی کم حیثیت اور امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے،چاہے پاناما كينال، ہو گرین لینڈ ہو یا خلیج ميکسیکو،کو بنیادی اثر و رسوخ میں رکھنا ہدف قرار دیا گیا ہے ۔ راقم الحروف نے انہی کالموں میں چند ہفتے قبل عرض کیا تھا کہ امریکہ کے اب یورپ سے ویسے معاشی مفادات وابستہ نہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے اور اب وہ اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے بر اعظم پر مکمل توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے اسکا مطلب یورپ سے کٹی نہیں بلکہ بس ضرورت کا رشتہ برقرار رکھنا ہے اور یہ صرف صدر ٹرمپ کی سیمابی طبیعت کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ میں اس وقت ایک پالیسی شفٹ کی کیفیت ہے اور اس وجہ سے ہی وہ چین کو کم نوعیت کا خطرہ قرار دے رہا ہے ۔ اس صورتحال پر یورپی یونین کی صدر عرسلا ونڈر نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چند فقروں میں اس دنیا کی جانب بڑھتے نیو ورلڈ آرڈر کے حوالے سے بہت وضاحت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی یادیں ہماری انسانی کہانی کا ایک حصہ ہیں لیکن پرانی یاديں پرانے آرڈر کو واپس نہیں لے کر آئينگی ۔ انہوں نے خاص طور پر انڈیا سے ہونے والے ممکنہ تجارتی معاہدے کا بھی ذکر کیا کہ جسکو تمام معاہدوں کی ماں قرار دیا جا رہا ہے ۔ ہمارے سامنے یہ واضح رہنا چاہئے کہ دنیا نئے راستے تلاش کر رہی ہے تا کہ اپنی ہستی کو بقا دی جا سکے ورنہ بہت مشکل ہو سکتی ہے اور اس طرف ہی فرانسيسی صدر ميکرون نے بھی بات کی کہ ٹیرف کا استعمال سٹرٹیجک مفادات کے حصول کیلئے ، علاقائی خود مختاری کے خلاف استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دیا اور چینی سرمایہ کاری کی جو یورپ کو ضرورت ہے اور جن شعبوں میں ضرورت ہے پر بات کی ۔ نئے ورلڈ آرڈر میں اپنے آپ کو زیادہ قابل قبول بنانے کیلئے چین کاروباری حکمت عملی پہ كاربند ہے اور اس وجہ سے ہی چین کے نائب وزیر اعظم نے ڈیووس میں چینی ترقی کو عالمی معیشت کیلئے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر پیش کیا ۔ ابھی جب چین کے لاہور میں قونصل جنرل زاؤ شیرین کی الوداعی پارٹی ہوئی جس میں میں اپنے دونوں بیٹوں موسیٰ ، راحم اور بھائی کے ساتھ شامل ہوا اور پھر انڈیا کی قائم مقام سفیر نے دعوت دی تو ان دونوں جگہوں پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے مختلف سفارت کاروں سے کہا کہ اس وقت پاکستان بذات خود ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ جب امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی توجہ اپنے مغربی کُرے پر مرتکز کرنا چاہتا ہے تو تجزیہ اس بات کا ہونا چاہئے کہ پھر وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے ۔ صرف وائٹ ہاؤس میں دعوت دینا یا تعریف کردینا تو مقاصد نہیں ہو سکتے۔ اس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور امریکہ کا اشتراک کن امور میں امریکہ کو درکار ہے اور پاکستان کے مفادمیں کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے گزشتہ دور کے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے نہیں علم کہ صدر ٹرمپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں مگر امریکہ اور پاکستان کے آگے بڑھنے کی واحد بنیاد یہ ہے کہ ہم پاکستان کو یہ یقین دلا سکیں کہ چین پاکستان کیلئے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا بڑا خطرہ انڈیا کیلئے ہے ۔ اس سوچ پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا مگر پھر بھی اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ امریکہ میں اس نوعیت کی سوچ بھی موجود ہے لہٰذا بہت محتاط رہ کر ميز پر بیٹھنا چاہئے کیوں کہ اگر آپ ميز پر نہیں ہونگے تو مینیو پر ہونگے ۔

تازہ ترین