امریکا سے تعلق رکھنے والی دنیا کی امیر ترین شخصیت، ایلون مسک اور بھارتی نژاد سرمایہ کار ونود کھوسلا کے درمیان نسل پرستی کے الزامات پر سخت لفظی جنگ چھڑ گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امیر ترین شخصیات کے دوران تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ دنیا کی آبادی میں سفید فام افراد تیزی سے اقلیت بنتے جا رہے ہیں۔
ونود کھوسلا نے اس بیان پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردِعمل دیتے ہوئے ایلون مسک پر الزام لگایا کہ وہ ’MAGA‘ (میک امریکا گریٹ اگین) کے بجائے ’WAGA‘ یعنی ’وائٹ امریکا گریٹ اگین‘ کی حمایت کر رہے ہیں اور نسل پرستی کو فروغ دے رہے ہیں۔
ونود کھوسلا نے اپنے اس ٹوئٹ میں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس کے ملازمین سے استعفیٰ دینے کی اپیل بھی کی۔
اس کے جواب میں ایلون مسک نے ونود کھوسلا کو سخت اور توہین آمیز جملوں کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی سے حوالہ دیا۔
ایلون مسک نے جوابی ٹوئٹ میں لکھا کہ میری شریکِ حیات آدھی بھارتی ہیں اور ایک بیٹے کا نام معروف بھارتی نژاد نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایلون مسک کو ایک ایسی ہی پوسٹ کی حمایت پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انہوں نے سفید فام مردوں کے خلاف خطرات کا دعویٰ کیا تھا۔
علاوہ ازیں ایلون مسک نے جنوبی افریقا میں اسٹار لنک کے لائسنس کے معاملے پر بھی نسلی امتیاز کا الزام لگایا تھا۔