مقبوضہ مغربی کنارے میں رمضان المبارک کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ایک مسجد کو نذرِ آتش کرنے اور اس کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے تحریر کرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق نمازی جب فجر کی نماز کے لیے مسجد پہنچے تو دروازے پر آگ کے آثار، کالا دھواں اور ٹوٹا ہوا شیشہ پایا۔
عینی شاہد منیر رمضان نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی کیمروں میں دو افراد کو پیٹرول اور اسپرے کین کے ساتھ مسجد کی طرف آتے اور کچھ دیر بعد فرار ہوتے دیکھا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے اور ’ریوینج‘ اور ’پرائس ٹیگ‘ کے الفاظ لکھے جو فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ویسٹ بینک میں یہ واقعہ اسرائیلی آبادکاروں اور فوجی تشدد میں حالیہ اضافے کا حصہ ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال مغربی کنارے میں 45 مساجد کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رمضان میں مسجد پر حملہ روزے دار مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج اور پولیس نے واقعے کی تفتیش اور ملزمان کی تلاش کا دعویٰ کیا ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق آبادکار اکثر مکمل استثنیٰ کے ساتھ یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک مغربی کنارے میں 1 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے اور علاقے کی آبادیاتی ساخت بدلنے کی کوششیں ہیں جو جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔