• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈرگ لارڈ ’ال مینچو‘ کون تھا: میکسیکو پر اس کی ہلاکت کا کیا اثر پڑے گا؟

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

میکسیکو کا بدنامِ زمانہ منشیات فروش نیمیسو اوسیگیرا سروینٹس المعروف ال مینچو ایک فوجی کارروائی میں مارا گیا، اس کارروائی کے لیے امریکا نے خفیہ معلومات فراہم کی تھیں، ال مینچو کی ہلاکت کے فوراً بعد ملک کے مختلف حصوں میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ال مینچو جالسکو نیو جنریشن کارٹیل کا سربراہ تھا جس کا میکسیکو کے طاقتور ترین منشیات کارٹلز میں شمار ہوتا ہے، یہ گروہ منشیات، خصوصاً فینٹانائل امریکا اسمگل کرنے کے لیے بدنام ہے اور میکسیکو کے درجنوں صوبوں میں سرگرم تھا۔

ال مینچو کیخلاف فوجی آپریشن اور ہلاکت

اتوار کو جنوبی جالسکو کے علاقے تالپالپا میں میکسیکن اسپیشل فورسز نے ال مینچو کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، ان کے مسلح ساتھیوں کی مزاحمت کے دوران جھڑپ ہوئی جس میں ال مینچو مارا گیا۔

میکسیکین حکام کے مطابق ال مینچو سمیت مزید 3 کارٹیل ارکان کو ہلاک، 3 کو زخمی اور 2 کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کارروائی میں امریکا کا کردار

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے اس کارروائی میں میکسیکو کو انٹیلی جنس فراہم کی۔

امریکا ال مینچو کو طویل عرصے سے مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر 15 ملین ڈالرز انعام بھی مقرر تھا۔

ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے

میکسکو میں ال مینچو کی ہلاکت کے بعد کم از کم 20 ریاستوں میں گاڑیاں جلائی گئیں، سڑکیں بند کی گئیں اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ 

رپورٹس کے مطابق جالسکو، میچواکان اور گواناخواٹو میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 7 نیشنل گارڈ اہلکار بھی شامل ہیں۔

جالسکو کے دارالحکومت گواڈالاہارا میں حالات کشیدہ رہے، عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی جبکہ متعدد فٹبال میچ ملتوی کر دیے گئے۔

ال مینچو کی موت کے بعد آگے کیا ہو گا؟

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق ال مینچو کی ہلاکت سے متعلق متعدد کارٹیلز کا کہنا ہے کہ منشیات کی دنیا میں طاقت کا خلاء پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث مزید تشدد کا خدشہ ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ منظم جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید