پرانی کہاوت ہے۔ بچہ بوڑھاعادتوں میں ایک ہوتے ہیں۔ اب آپ مجھے دیکھیں عمر کے ٹیلے، خندقیں، کھائیاں اور صحرا عبور کرکے، دل کررہا ہے کہ میں بھی محمد اظہار الحق، فرخ یار اور حمید شاہد کی طرح کسی گاؤں میں پیدا ہوئی ہوتی۔ سچی بات یہ ہے کہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں اظہارالحق کے گھر اور گاؤں میں پیدا ہوئی ہوتی۔ ابتدا سے پڑھا لکھا باپ، وہ بھی اسکول ٹیچر، مہذب اور اردو ، عربی ، فارسی سے آشنا ہونے کے باوجود ، اپنے گھر میں اپنے دیہات کی زبان بولتا اور تربیت ایسی کہ کتاب پڑھنے کا شوق، شیروانی پہنے استاد اور باپ کے ساتھ کوسوں چل کر اسکول میں آتی۔ سب مہذب استادوں کے درمیان ہوتی۔ مگر بیچ میں سوال کہ شہر اور وہ بھی بلند شہر جہاں کرار حسین،انتظار حسین اور بہت سے پڑھےلکھے لوگ نکلے تھے۔ مجھے اپنے شہر سے شکایت کیا ہے کہ میں اس وقت دیہی ماحول میں پرورش پانے کی خواہش کررہی ہوں۔ دیکھو ناتمام صوفی اور پڑھنے لکھنے والے بلھے شاہ کہ شاہ حسین وہ بھی تو حجروں میں پیدا ہوئے مگر انہیں ماحول اور استاد ایسے ملے کہ زبان پہ آیا ’میں کون؟‘ اگر اظہار الحق کی طرح میں بھی راغب رہتی کہ میٹرک تک صرف علم و ادب کی تہذیب سیکھتی۔ مگر بعد میں کالج میں آکر مجید امجد اور ناصر کاظمی کو پڑھتے ہوئے کالج کے لان میں لڑکیوں کے ساتھ بھی، اظہار کی طرح لئے دے رہتی تو شاید کسی عشق کے چکر میں نہ پڑتی کہ میرے تینوں بڑے ادیب جو کبھی حمید شاہد کی طرح اپنی خاندانی میراث اور دادا کی داستان اور ہدایات تو تفصیلاً لکھی ہیں ۔مگر بچپن،جوانی اور بڑھاپے کی کوئی عشق دی وار اظہارالحق کی طرح نہیں لکھی۔اظہار نے بھی خود نوشت میں یہ حوالہ نہیں دیا وہ تو شاعری کی کتاب میں ایک نوحہ ہے جو یاد اور تعلق کے درمیان ایک بہار کی طرح آتا ہے اور بس ۔البتہ فرخ یار شاعری اور زبان کی تحقیق کے درمیان آجکل ٹیلیفونک عشق کی جھلک شاعری میں دکھاتا ہے۔ مگر حمید شاہد ’خوشبو کی دیوار کے پیچھے‘ میں داستان حیات لکھتے ہیں۔یاسمین ہی آپ کی معشوقہ یعنی زوجہ عشق کی دیوار بنے کھڑی نظر آتی ہے۔ اور زندگی بھر خوشبو کی دیوار کے پیچھے اسکی دہلیز اور آنگن سب کچھ یاسمین کے مسکراتے کندھوں پر نظر آتا ہے۔
اظہار الحق نے اپنی زندگی کی ہر منزل کی تفصیل کو خود نوشت کے رنگ میں اتنی خوبصورت اور فلسفیانہ تحریر میں ڈھالا ہے کہ سول سروس میں بھی لڑکیاں ساتھ تھیں اور جب نوکری کے خار زار میں غالب کی طرح اپنے اصولوں پر قائم رہ کر یہ بتایا کہ وہ بھی صوفیا کہ دہلیز پہ ٹہر کر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ زاہدہ، انکی زندگی میں داخل ہوئی تو بچوں کی پرورش اور تربیت میں، اظہار کی ایمان داری میں بھی شریک ِ حیات رہی، خاص کر بیٹیوں کی پرورش میں انکی رائے کو بھی صائب سمجھا۔
’بکھری ہے میری داستان ‘ میںتفصیل میں نوکری کے دور میں اصول پرستی اور غریب نوازی کی داستان بکھری ہوئی ہے۔ ہم نے بھی عمر بھر نوکری کی مگر انداز نوکری ایسا تھا کہ کبھی OSD کبھی فورسڈلیو دی جاتی رہی ،میں نے بھی کبھی کوئی بے ایمانی نہیںکی۔ میں دراصل بکھری داستان پڑھتی جاتی اور حیران ہوتی جاتی۔ میری سانس میں سانس آئی جب میں نے اظہار کااٹلی سرکاری طور پر جانا اور چھٹی لیکر اسپین میں الحمرا، مسجد قرطبہ کے علاوہ قرطبہ کی پرانی گلیاں دیکھنے کا تذکرہ پڑھا۔ پتہ چلا یہ وہی اظہار ہیں جو دفتر میں سخت اصول پسند ہیں مگر معمولاتِ زندگی میں اپنے باپ کی ایمانداری پہ عمل کرتے ہیں۔ سنگاپور سے لیکر فلپائن جیسے ملکوں میں بھی پار سا پارسا ہی رہے اور یہ سب کچھ لکھتے ہوئے کبھی خیال نہیں آیا کہ مجھ جیسا پڑھنے والا اپنے اندر کسی بھی وقت شیطان کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔
مگر آپ بھی مان جایئےیہ شخص جو بہت اچھا شاعر، بہت اچھا دوست اور صاف گو ہے۔ اس نے اپنے والد کی تربیت کو عملی زندگی میں ایسے برتا ہے کہ دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔فرخ یار کی کم گوئی کا سبب کہ وہ سنتا نہیں ہے کوئی بات بھی مکرر کہے بغیر۔ اپنی طویل نظموں میں وہ اتنی باریکیاں کشید کرتا ہے کہ اس کی شاعری پر رشک آتا ہے ۔ وہ نثر بہت اچھی اور بامعنی لکھتا ہے۔ لسانی تاریخ’’دوراہے‘‘ کے عنوان سے بھی تحریر کی ہے اور اسکی تینوں بیٹیاں ،باپ پر جان دیتی ہیں۔ یہی حال فرخ کا ہے۔ شاعری میں وہ مجید امجد کا عاشق ہے اور کوئی بھی پنجابی کلاسک سننے کیلئے آپ تیار ہوں تو وہ بھی عمدہ لحن کیساتھ سناتا ہے۔ بینک کا ملازم بلکہ افسر ہے، مگر کبھی اپنی ایمانداری کی قسم نہیں کھاتا ہے۔
پنڈی گھیب، فتح جنگ اور تلہ گنگ کی سرزمین نے ہمیں ایسے جید لکھنے والے دیئے ہیں کہ ان پر لکھتے ہوئے منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا بھی یاد آنے لگے ہیں کہ وہ بھی اسی علاقے کے قریب ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں مگر نالائق تھے۔ بہت اچھے شعر کہے اور چپ کرکے چلے گئے۔ میرے یہ تینوں لکھنے والے، اپنے قلم کو رواں رکھتے اور تہذیب میں اپنے دادا جان اور انکے نام کے ساتھہ جھنڈیال کا نام سنکر، پرانے تو کیا نوجوان بھی دادا جان کا حوالہ دیتے ہیں۔ اظہار کے دو بھائی امریکہ میں ہیں ۔ انکا نام بار بار تحریر میں آتا رہا ہے وہ بھی ابا جی کی خدمت کے حوالے سے۔ تینوں بھائیوں اور بھابیوں سے ملاقات، شاید اگلی کتاب میںہو جائے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تینوں ادیب اپنے علاقے کو یاد رکھتے ہیں ۔ عید، بقر عید پر بھی اپنے خاندان کے ساتھ عید کی نماز پڑھتے اور پرکھوں کو یاد کرتے ہیں۔