وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ حملوں کی پیچھے بھارت ہے، پہلے کی طرح اس بار بھی شکست دیں گے، بھارت نے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔
سی ایم ایچ کوئٹہ میں وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے زخمیوں کی عیادت کی اور اس کے بعد ویڈیو پیغام جاری کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آپریشن مکمل ہوگیا ہے، تفصیلات آنا باقی ہیں، آرمی، ایف سی اور سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملے ہمارا مورال کم نہں کرسکتے، اس طرح کے 10 حملے بھی ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جو بھی دہشت گرد آیا وہ بچ کر واپس نہیں گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کا مشکور ہوں تمام مصروفیات چھوڑ کو کوئٹہ پہنچے، سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا، تمام غازیوں اور شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں، شہدا کے خاندانوں کے حوصلے بلند ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان بہت بہادر ہیں کہ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، حملوں میں ملوث کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا، تمام سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کو ہلاک کیا۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی فورس کے ساتھ کھڑے ہیں، کاش ہمارے پاس چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو اس ملک کی دہشت گردی دنوں میں ختم ہوجاتی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو پتا چلنا ضروری چاہیے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت ہے، بھارت نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی، ہم ایک ایک چیز کے پیچھے جائیں گے، دہشت گردوں اور ان کے ماسٹرز کو نہیں چھوڑیں گے، جہاں سے بیٹھ کر یہ دہشت گرد آپریٹ کرتے ہیں، ہمارے پاس تمام چیزیں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دو دن میں بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔ دہشتگردوں کی کارروائیوں میں 18 شہری شہید ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الہندوستان کے اسپانسرڈ دہشتگردوں نے بلوچستان کا امن خراب کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گرد کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران میں کارروائیاں کیں۔ فورسز کی بھرپور جوابی کارروائیوں کے دوران 2 دن میں 133 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا جن میں 3 خودکش بمبار بھی شامل تھے۔