• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم جانیں بچانے کیلئے فکر مند کیوں نہیں ہیں؟

پنجاب کے دل لاہور سے دل ہلا دینے والی خبر آئی ہے۔ تصویریں رلا دینے والی ہیں۔ شورکوٹ کی 24 سالہ سعدیہ اور اس کی 10 سالہ بیٹی ردا سیوریج کے زیر تعمیر پروجیکٹ میں کھلے نالے میں ڈوب گئی ہیں۔کراچی سے گل پلازہ کی آگ میں جل کر مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔کے پی کے میں وادی تیراہ میں ہمارے بزرگ بھائی بہن بیٹے بیٹیاں ہزاروں کی تعداد میں اپنے سامان سمیت سخت برفباری اور موسم کی سختی کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاہور کراچی سارے شہروں میں زندگی معمول کے مطابق ہے ۔شادی ہال جگمگا رہے ہیں۔ زرق برق لباسوں میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں ۔سوشل میڈیا پر پرائیویٹ ٹی وی چینلوں پر، اخباروں میں جب ایسی خبریں سنائی اور دکھائی جاتی ہیں اور جیتے جاگتے پاکستانیوں کے موت کی وادی میں دھکیلے جانے کےواقعات پڑھتے ہیں۔

ان کے بعد دل ذہن سے بار بار سوال کرتا ہے’’کیا ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں؟‘‘ہر صبح جب کمانے والے سرکاری پرائیویٹ ملازم گھروں سے نکلتے ہیں تو ان کی مائیں ان کی بلائیں لیتی ہیں، ان کی بہنیں ڈرتے ڈرتے انہیں الوداع کہتی ہیں،ان کی سہاگنیں ان کی بخیر واپسی کی دعائیں مانگتی ہیں ۔شہروں میں شاہراہوں پر بڑے بڑے ڈمپر دندناتے پھرتے ہیں۔دفتروں کی بلڈنگوں میں تجاوزات ہوتی رہتی ہیں۔ چند کارکنوں کیلئے بنے دفتروں میں مزید ڈربے بنا کر اللہ تعالیٰ کے نائب حضرت انسان کو ان میں ٹھونسا جاتا ہے ۔اکثر فلک بوس عمارتوں میں ایک ہی داخلی دروازہ ہے اور ایک ہی باہر نکلنے کا راستہ۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے کی فکر ہے اور جن انسانی جانوں کی حفاظت ہمارے ذمے ہوتی ہے اور دنیا بھر میں جن کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر دفتروں ،کارخانوں اور سرکاری سیکڑیٹوں میں کوئی فکر مندی نہیں ہے۔

موت زندگی کی طرف بڑھتی رہتی ہے ۔زندگی ناکارہ سسٹم کے ہاتھوں میں بے بس اور غیر محفوظ ہے۔جب کوئی سانحہ ہوتا ہے تو ہم بڑے مدبر اور ناصح بن جاتے ہیں ۔زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں کہ بلڈنگ میں کوئی انتظام نہیں تھا ۔آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے۔ فائر بریگیڈ کے پاس پانی نہیں تھا، بالکل جائز مسئلہ ہو توبھی ہم پولیس اسٹیشن جاتے ڈرتے ہیں کسی بااثر کی سفارش ڈھونڈتے ہیں۔ کچہریوں تھانوں میں قطاریں لگی ہوئی ہیں یا تو آپ کے پاس تجوری کا منہ کھلاہو یا پھر کسی اثر و رسوخ والے کی پرچی ہو یا آپ کا کسی مافیا سے بندھن ہو۔ کسی بڑے کا فون چلا جائے تو متعلقہ افسر تھانیدار آپ کی بات سنے گا ۔ایسے المیوں میں میرے ذہین نواسے وجدان بشار کا سوال میرے ذہن میں گونجتا ہے۔ 16 دسمبر کو کچھ سال پہلے جب پشاور آرمی پبلک اسکول سے دکھ کی لہریں واہگہ سے گوادر تک پھیل رہی تھیں۔ وجدان کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ پوچھ رہا تھا’’ نانو کیا ہم ان پھولوں کو بچا نہیں سکتے تھے؟‘‘

ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ریاست کے ہر شہری کی، ریاست میں پیدا ہونے والے ہر بچے کی پیدائش ،پرورش، پڑھائی، تربیت ،روزگار اور اس کی جان و مال کی حفاظت کی ہے۔ایک عمرانی معاہدہ یعنی سوشل کنٹریکٹ ایک شہری اور ریاست کے درمیان یہی ہوتا ہے ۔شہری ریاست کے مختلف محکموں کو ٹیکس اسی لیے دیتا ہے سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، واٹر ٹیکس، صفائی ٹیکس ،کچرا ٹیکس، انکم ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور بے شمار مدوں میں محصولات کی ادائیگی اسی لیے ہوتی ہے کہ ریاست اس ٹیکس کی آمدنی سے صدر ،وزیراعظم ،اسپیکر وزراء ،گورنروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، مشیروں ،خصوصی معاونوں اور تمام سرکاری سول فوجی ملازمین کی تنخواہیں، مراعات ،پٹرول، مکانوں کا کرایہ ادا کرتی ہے۔ ریاست غیر ملکوں سے جو قرضے لیتی ہے انکی اصل زر سود کی ادائیگی بھی غریب شہریوں کے ٹیکسوں سے ہوتی ہے ۔

تنخواہ دار ملازمین سرکاری ہوں یا پرائیویٹ وہ تو ٹیکس کے جال میں پھنس جاتے ہیں جتنا ٹیکس وہ ادا کرتے ہیں بڑے بڑے سیٹھ، صنعتکار ،کارپوریٹ ادارے بھی نہیں دیتے ہیں۔ان محصولات کے بدلے میں ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں۔ سرحدوں کی حفاظت۔ شہروں میں پینے کے پانی ،نکاسی آب کے انتظامات اچھی سڑکیں، پکے راستے، پل بندرگاہیں ،ایئرپورٹ ،بس اڈے، صحت بخش خوراک، زراعت میں اناج کی پیداوار ۔شہریوں کو ان کی آمدنی اور تنخواہوں کے مطابق ضروریات کی اشیاء معقول قیمتوں پر فراہم کرنا، ٹرانسپورٹ اچھی اور آرام دہ علاج معالجے کی بہترین سہولتیں۔

1985 ءسے بار ی بار ی حکومتیں کرنے والی سیاسی پارٹیاں اس وقت بھی پوری طرح حکومت میں ہیں ۔ان کی گورننس یا حکمرانی کے نتیجے میں ڈالر 15 روپے سے 290تک پہنچ چکا ہے۔ افراط زر پریشان کن ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے ہم وطنوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب سو پاکستانیوں میں 47 غریب ہیں ۔اسی طرح تعلیم صحت ٹرانسپورٹ اور دوسرے شعبوں کے اشاریے بدترین ہیں۔قریباً سب تعلیمی ادارے کمائی کا ذریعہ ہیں ۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں ،نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا اور عالمی علاقائی ملکی حالات پر تبادلہ خیال کا دن۔ امریکہ جمہوریت اور انسانی آزادی کا چیمپئن اس وقت پوری دنیا میں انتشار پھیلا رہا ہے ۔مہنگے ٹیرف کے ذریعے چھوٹی قوموں کا جینا حرام کر رہا ہے۔ آپ کی اولادیں یہ سب سوالات آپ سے پوچھنا چاہتی ہیں ان کے جوابات بہت احتیاط سے دیں ۔اس کے ساتھ ہماری گزارش ہوتی ہے کہ اتوار کو عصر کی نماز کے بعد محلے والوں سے بھی ملیں آپس میں ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں ۔

وہ ہیں وزراء سیکرٹریوں، سرکاری افسروں اور پولیس والوں کا اپنے ان ہم وطنوں سے رویہ جنکے ٹیکس سے ان کی تنخواہیں ،مراعات نکلتی ہیں۔ لاہور کے سانحے میں اس جواں مرگ پاکستانی بہن بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع کو پہلے فیک قرار دیا گیا اس کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا بعد میں صوبائی وزیر معافی بھی مانگ رہی ہیں۔ بہت اندوہ ناک حقیقت ہے کہ سرکار سے عوام کا اعتبار اٹھ گیا ہے اور سرکار عوام پر اعتماد نہیں کرتی۔ افسر پبلک سرونٹ عوامی خادم کہلاتے ہیں لیکن جب عوام کسی مسئلےکیلئے ان کے پاس جاتے ہیں تو وہ گویا فرعون بن جاتے ہیں۔ واہگہ سے گوادر تک اللہ تعالی کا نائب حضرت انسان بہت بے بس اور خوار ہو گیا ہے۔ ریاست اور ریاست کے شہریوں کے درمیان اعتماد اور احترام بحال نہ ہوا تو ایک طرف تو ایسے سانحے رونما ہوتے رہیں گے اور دوسری طرف ریاست کمزور ہوتی رہے گی۔ ایسے نازک وقت میں صرف انسانی جان کی حفاظت اور احترام پیش نظر ہونا چاہیے ۔لیکن ہم ان سب سانحوں پر بھی لسانی، نسلی ،مسلکی، مذہبی اور سیاسی تعصبات کے یرغمال بن جاتے ہیں۔

تازہ ترین