وزیراعظم کی جانب سے گزشتہ روز ایکسپورٹرز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب اور نمایاں برآمدات کرنے والوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کا فیصلہ بلاشبہ ایک مثبت، بروقت اور قابلِ ستائش قدم ہے۔ ریاست جب معیشت میں کردار ادا کرنیوالوں کو عزت دیتی ہے تو اس سے صرف حوصلہ افزائی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں برسوں سے کاروباری طبقہ شکایات، بے یقینی اور عدم توجہی کا شکار رہا ہے، وہاں یہ پیغام دینا کہ محنت، برآمدات اور قومی خدمت کا اعتراف کیا جائیگا، ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دائرہ صرف ایکسپورٹرز تک محدود رہنا چاہیے یا اس سوچ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے؟
پاکستان کی معیشت کا ایک اور ستون وہ لوگ ہیں جو سالانہ اربوں روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ صرف ریاست کے اخراجات برداشت کر رہا ہے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور دستاویزی معیشت کو بھی سہارا دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ طبقہ عزت و احترام کے بجائے اکثر سرکاری دفاتر میںبدسلوکی اور غیر ضروری ہراسانی کا سامنا کرتا ہے۔ اگر ایکسپورٹرز کو بلیو پاسپورٹ مل سکتا ہے تو پھر وہ پاکستانی جو ایک ارب روپے یا اس سے زائد ٹیکس دیتے ہیں، وہ کس بنیاد پر اس اعزاز سے محروم رہیں؟ یہاں حکومت کو ایک واضح پالیسی بنانی چاہیے جسکے تحت بڑے ٹیکس دہندگان کیلئے ایک الگ ایلیٹ کیٹیگری قائم کی جائے۔ ایک ارب سے زیادہ ٹیکس دینے والے افراد کو نہ صرف بلیو پاسپورٹ دیا جائے بلکہ ان کیلئے خصوصی نمبر پلیٹ، صدر یا وزیراعظم سے سالانہ ملاقات، سول اعزازات میں ترجیح اور انتظامی معاملات میں براہِ راست رسائی جیسے اقدامات کیے جائیں۔ عزت جب پالیسی کا حصہ بنتی ہے تو لوگ ٹیکس سے نہیں بھاگتے بلکہ ان میں مقابلہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں یا لاکھوں روپے ٹیکس دینے والا شہری بھی چودہ گریڈ کے افسر کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ معمولی انسپکٹرز کی جانب سے رشوت طلب کرنا، بدتمیزی کرنا اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا ٹیکس کلچر کو فروغ نہیں دیتا بلکہ اسے دفن کر دیتا ہے۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس دینے والا مجرم نہیں بلکہ محسن ہے، اور محسن کو عزت دی جاتی ہے، ذلیل نہیں کیا جاتا۔
وزیراعظم کے لیپ ٹاپ پروگرام کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کیلئے لیپ ٹاپ کی فراہمی ایک اچھی سوچ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب حکومت ہر سال لاکھوں لیپ ٹاپ خریدتی ہے تو وہ پاکستان میں کیوں تیار نہیں ہوتے؟ عالمی سطح پر یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ حکومت سالانہ ایک لاکھ لیپ ٹاپ خریدے گی، زمین اور سہولت فراہم کرے گی اور بائی بیک کی گارنٹی دے گی تو وہ کمپنی پاکستان میں فیکٹری لگانے پر تیار ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو پھر حکومت کو اپنے خریداری کے نظام کا شفاف جائزہ لینا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کک بیکس، کمیشن یا غیر شفاف فیصلے پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟
یہی سوال الیکٹرک بسوں کی خریداری پر بھی اٹھتا ہے۔ پنجاب اور سندھ حکومتیں سینکڑوں اور ہزاروں بسیں بیرونِ ملک سے خرید رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اپنے سرمایہ کار ایسے موجود ہیں جن کی چین میں بسوں کی فیکٹریاں ہیں اور وہ لاطینی امریکا جیسے ممالک میں کامیابی سے گاڑیاں فروخت کر رہے ہیں۔ ان سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف پانچ سو یا ایک ہزار بسوں کی خریداری کی گارنٹی دے دے تو وہ پوری فیکٹری پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے روزگار، ٹیکنالوجی، پرزہ سازی اور انڈسٹریلائزیشن۔ مگر یہاں بھی سوال وہی ہے کیا بیرونِ ملک سے خریداری مکمل طور پر شفاف ہے؟ اور اگر ہے تو پھر مقامی مینوفیکچرنگ کو ترجیح کیوں نہیں دی جا رہی؟
پاکستان اب صرف درآمدات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کو اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر مینوفیکچرنگ کی طرف جانا ہوگا۔ لیپ ٹاپ ہوں، بسیں ہوں یا گاڑیوں کے پرزے، جب تک یہ سب پاکستان میں نہیں بنیں گے، نہ روزگار بڑھے گا، نہ ٹیکس بیس وسیع ہوگا اور نہ ہی معیشت مضبوط ہو گی۔ وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں، ان کی سمت درست ہے، مگر پالیسیوں میں وہ جرات اور وسعت درکار ہے جو ملک کو اگلے مرحلے میں لے جا سکے۔
آخر میں وزیراعظم سے یہی گزارش ہے کہ ایکسپورٹرز کیلئےاٹھایا گیا قدم قابلِ تحسین ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ بڑے ٹیکس دہندگان، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو بھی وہی عزت اور سہولت دی جائے جسکے وہ حق دار ہیں۔ ایک ارب سے زائد ٹیکس دینے والوں کیلئے واضح پول بنائیں، مراعات دیں، عزت دیں، اور پھر دیکھیں کہ پاکستان میں ٹیکس دینا بوجھ نہیں بلکہ فخر بن جائیگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نعرے نہیں، نتائج دیتا ہے۔