• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر ٹرمپ بنیادی طور پر کاروباری شخص ہیں۔ ان کا لا پرواہ رویہ، منہ پھٹ ہونا،سفارتکاری کے اصولوں کے خلاف اہم رازوں سے پردہ اٹھا دینا باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ہے۔ وہ جس اہم مقام پر ہیں وہاں اپنی مبینہ بیوقوفیوں اور غیر سنجیدہ حرکات سے کبھی نہیں پہنچ سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ اتنے لااُبالی، غیر سنجیدہ اور ناقابل ِاعتماد ہوتے تو امریکی اسٹیبلشمنٹ، اسرائیلی لابی، ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور بڑے بڑے امریکی بزنس مین اتنے خطرناک الزامات اور غلط کاریوں کے باوجود انہیں کیسے دوبارہ اس عہدے پر آنے دیتے؟ امریکی نظام میں کسی بھی جماعت کی حکومت آئے، پالیسی میں تبدیلی نہیں ہوتی نہ چار سال میں کسی صدر کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔ امریکی پالیسی بنیادی طور پر لابی فرموں کی مرہونِ منت ہے جیسے اسرائیلی لابی جو ہر قیمت پر اسرائیلی مفادات، اسرائیل کی بقاء کی محافظ ہے اور حکومتی ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہے۔ اسی لیے "شیطن یاہو" انتہائی خود اعتمادی سے امریکہ کےسر چڑھ کر بولتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکی مفاد کے برخلاف اسرائیل کے حق میں فیصلے کرواتا ہے۔ دوسری مضبوط لابی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ہے جس کا دائرۂ کار امریکی اسٹیبلشمنٹ تک پھیلا ہے۔ اسی لابی کے ذریعے ملٹری انڈسٹری کو مسلسل اسلحہ سازی کے آرڈر ملتے ہیں کیونکہ یہ لابی دنیا کو ہر وقت جنگوں میں الجھائے رکھتی ہے۔،جس کے لیے وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی اہم عہدیداران کے تعاون کو یقینی بناتی ہے۔ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی شاندار، بے مثال کامیابی اور منافع کو دیکھتے ہوئے ایک تیسری لابی بھی زور پکڑ چکی ہےجس کے نمائندہ صدر ٹرمپ ہیں۔ اس لابی میں مختلف شعبہ ہائے جات کے اربوں کھربوں پتی بزنس مین ، مصنوعی ذہانت ، ٹیکنالوجی، لینڈ ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس کے سرمایہ دار ،اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑی، کرپٹو کرنسی والے، خلا میں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اجارہ داری کے خواہاں، تیل، گیس معدنی ذرائع اور نایاب معدنیات جیسے شعبہ جات میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے شامل ہیں۔ جبکہ ٹرمپ ایک ماہر مداری کی طرح ان تینوں لابیوں کو اپنی شعبدہ بازی اور کرتبوں کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

ایران پر حملہ کب ہوگا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے وی لاگزز، بین الاقوامی اخبارات اور ایرانی حکومت بھی تھک چکی ہے۔ رات کو سوچ کر سونے والے کہ رات حملہ ہوگا، صبح گمان کرتے ہیں کہ اب آئی خبر کہ حملہ ہو گیا! لیکن حملہ نہیں ہوا۔ یہ حملہ اس لیے نہ ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ تین لابیوں کے مقاصد ایک حملے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی عوام کو "میک امریکہ گریٹ اگین"کے نعروں سے بڑھ کر بھی کچھ دینا مقصود ہے وگرنہ آئندہ انتخابات میں انکی جماعت کے پاس کارکردگی دکھانے کو کچھ نہ ہوگا۔ غزہ امن بورڈ بھی ایسی ایک کاوش تھی جس کا مقصد امریکی عوام کو باور کرانا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے انتخابی وعدے کے مطابق دنیا میں امن لا رہے ہیں۔ تاہم "شیطن یاہو" کی اس بورڈ میں چند ممالک کی شرکت پر اعتراض اور ہٹ دھرمی نے غزہ امن بورڈ کو پہلی ہی پرواز میں اسرائیلی تیر کا نشانہ بنا دیا۔ ادھر صدر ٹرمپ کے اسٹیبلشمنٹ یا ڈیپ اسٹیٹ اور اسرائیل کو راضی کرنے کے لیے ایران پر حملےکے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکا۔ امریکہ نے اعلانیہ اپنے لڑاکا طیارے، بحری بیڑے، آبدوزیں، فریگیٹ، فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے طیارے،میزائیل ،ڈرون وغیرہ سے فضا، سمندر اور اب ایرانی سرحدوں کے قریب اپنے لڑاکا طیاروں کی تعیناتی قریباً مکمل کر دی ہے۔یہ بلا جواز نئی جنگ خطے کو عدم استحکام،بد امنی،خوفناک مہنگائی کے طوفان بلکہ آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کئی ہفتوں پر محیط سازش پر مبنی مہنگائی کے خلاف احتجاجات کروا کر عدم استحکام پیدا کیا۔ سی آئی اے اور موساد کے تربیت یافتہ اہلکاروں نے احتجاجی جلوسوں میں شامل ہو کر 100 سے زائد پولیس اہلکار مار ڈالے، مقدس مقامات کو نذرِ آتش کیا۔ ایرانی حکومت نے سازشی نیٹ ورک توڑتے ہوئے جب احتجاجات پر قابو پا لیا تو امریکہ نے پاسداران ِانقلاب (قومی فوجی تنظیم) کو دہشت گرد قرار دے کر جنگ کے لیے نیا جواز گھڑ لیا۔ خطے میں روز بروز حالات بگڑتے جا رہے ہیں، ایران اپنے مؤقف اور خود مختاری کے دفاع کے لئے" آبنائے ہرمز" بند کرنے کی تیاری کے علاوہ اپنی میزائل اور ڈرون پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر چکا ہے۔ تاہم چین، روس اور خطے کے دیگر ممالک ایران پر حملے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ باوجود کہ یورپ امریکہ کا ڈسا ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے۔ وہ گرین لینڈ پر قبضے کے خواہشمند امریکا سے بہت نالاں ہے لیکن ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف مبنی بر انصاف ایک جملہ بھی نہ ادا کیا۔ چین کی تیل کی 20 فیصد سے زائد ضرورت "آبنائے ہرمز" کے ذریعے پوری ہوتی ہے یوں وہ بھی "آبنائے ہرمز" کی بندش سے متاثر ہوگا۔مبینہ طور پر اب وہ بھی کچھ عملی اقدامات اٹھا رہا ہے جبکہ سلامتی کونسل میں چین نے تنبیہ کی ہے کہ جنگ سے خطہ نامعلوم نتائج کا شکار ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تیسری لابی جس کے وہ خود نمائندہ ہیں اس ممکنہ جنگ میں ظاہراً مستفید ہوتی نظر نہیں آتی۔ اسی لئے صدر ٹرمپ جنگ شروع کرنے میں اتنا وقت لے رہے ہیں۔ایسا ممکن نہیں کہ انہوں نے اتنا بڑا "بحری آرماڈا اور فضائی بیڑا" روانہ کرنے سے پہلے تمام معاملات پر منصوبہ بندی نہ کی ہو۔ ایران پر حملے میں تاخیر اسٹاک مارکیٹ، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، کرنسی اور سونے کی آسمان چھوتی قیمتیں اور پھر یکدم غیر معمولی گراوٹ سے وہ اپنی تیسری لابی کو اندھی کمائی کا موقع دے اور لے رہے ہیں۔البتہ امریکی عوام کو تاثر جائے گا کہ سوچ سمجھ کر، صبر و انتظار کے بعد (دہشت گرد) ایران پر حملہ کیا۔ اسرائیل خوش ہوگا کہ اسے موقع ملا کہ وہ ایران پر حملے سے خود کو مبرا قرار دے۔جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کو موقع دیا کہ وہ سفارت کاری کے جوہر دکھا کر بلآخر ناکامی کو مقدر سمجھتے ہوئے ایران کو مورد ِالزام ٹھہرائیں۔ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس جو امریکی اسٹیبلشمنٹ کا شراکت دار ہے کے لیے اسلحہ سازی کا لامحدود سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ خود ٹرمپ کی اپنی لابی اور اپنے کاروبار میں بھی چار چاند لگ جائیں گے۔


امریکہ دنیا کی سب سے برُی جمہوریت ہے کہ جہاں مالی مفادات، ذاتی کاروبار، اپنی جماعت کے مفادات،امریکی عوام کے مفاد اور فلاح پر حاوی ہیں۔ امریکہ اپنی لابی فرموں کے ہاتھوں یرغمال بنا دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔وہ تکبر اور گمان میں ہے کہ اپنے مخصوص جغرافیہ کے باعث اس پر کوئی حملہ آور نہیں ہوسکتا۔ لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ جو خود دنیا میں نا انصافی کا ذمہ دار، امن کا قاتل، ظالم کا ساتھی، ظلم کا محافظ، انسانیت کا دشمن، شر و شرارت کا منبہ، جھوٹ، پراپیگنڈے اور بے راہروی کا علمبردار، غاصب اور غاصب کا حواری، بد عہد،ناقابل ِاعتماد وہ خود اپنے اندر سے پھٹ جائے۔ خود ہی انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہو کر اپنے انجام کو پہنچے جو کسی طور پر اچھا نہیں ہو سکتا۔واللہ اعلم! اقبالؒ فرماتے ہیں: مرد حر کا ضمیر لاالہ سے روشن ہے، وہ کسی بادشاہ یا امیر کا غلام نہیں ہوتا۔

؎مرد حر از لا الہ روشن ضمیر

می نہ گردد بندہ سلطان و میر

تازہ ترین