• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں پالیسی ریسرچ کونسل (PRAC) نے اسلام آباد میں ’’پاکستان پالیسی ڈائیلاگ‘‘ کا انعقاد کیا۔ تقریب میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے مشیر محمد علی، اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین، نامور صنعتکار محمد علی ٹبا، اینگرو کے چیئرمین احسن ظفر، مقامی ٹیلی کام کمپنیوں کے سربراہان ضرار خان، عامر ابراہیم، پروگرام کے آرگنائزر یونس ڈھاگا اور اظفر احسن نے شرکت کی۔ مجھے بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معاشی امور کے چیئرمین کی حیثیت سے کانفرنس میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ پورے دن جاری رہنے والی اس کانفرنس میں وفاقی وزراء، پارلیمنٹرینز، معیشت دان اور بزنس مینوں نے ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل میں بہتر معاشی گروتھ پر پریزنٹیشن دیں جو آج میں قارئین سے شیئر کرنا چاہونگا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث آج پاکستان کو دنیا اور خطے میں ایک خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے، پاکستان کا سفارتی سطح پر مثبت امیج ابھرا ہے اور امریکہ سے تعلقات میں بہتری کے علاوہ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور خلیجی ممالک سے تعلقات میں گرمجوشی آئی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان سفارتی تعلقات کو معاشی تعلقات میں تبدیل کرکے ملکی ایکسپورٹس اور سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔ مہنگائی، بیروزگاری، غربت میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں سے نمٹنا حکومت کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے ملکی معیشت میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہواہے لیکن قرضوں کی حد کے قانون FRDLA کے مطابق ہمیں ملکی قرضے کم کرکے GDP کا60 فیصد لانا ہوگا جو اس وقت GDP کا 71 فیصد ہیں۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے جارہی ہیں جسکی وجہ اضافی ٹیکسز، مہنگی انرجی اور بینک مارک اپ کی بلند شرح ہے جسکے باعث ہماری پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے لہٰذاخطے میں مقابلاتی رہنے کیلئے ہمیں پیداواری لاگت میں کمی لانا ہوگی جو معاشی اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔ اسکے علاوہ ہمیں 3000 ارب ڈالر کی معیشت بنانے کیلئے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ 3فیصد GDPگروتھ کے مقابلے میں 2.55فیصد آبادی میں اضافے سے پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے رواں مالی سال ملکی ترسیلات زر 41ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی اور کہا کہ جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائینگی۔ ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی لیکر وزارت خزانہ کو منتقل کردی گئی ہے اور اب ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا ہے۔ حکومت نے 24ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ڈسکوز سمیت خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں کی جلداز جلد نجکاری پر زور دیا جس سے ملک کو تقریباً 1000 ارب روپے سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز، PWD اور پاسکو کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ یہ ادارے حکومتی سبسڈیز میں کرپشن میں ملوث تھے۔ انہوں نے گورننس اور کرپشن حکومت کے اہم مسائل قرار دیئے اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور مارکیٹ فورسز کے مطابق چلانے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان کی ترقی کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 1947ء میں ہمارے پاس کچھ نہیں تھا مگر 2025ء میں پاکستان ایک ایٹمی ریاست بنکر ابھرا اور دنیا کو JF-17تھنڈر طیارے سپلائی کررہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کرنا ہے، 2022ء میں ہم انٹرنل ڈیفالٹ کرچکے تھے لہٰذا ہمیں ملک میں امن، سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل، اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا، نہیں تو ہمارا حال بھی NOKIA اور KODAK جیسا ہوگا۔ انکے بقول سونا اور تانبے کے علاوہ دیگر نادر قیمتی معدنیات (REEs) کی کان کنی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، آئی ٹی کی ایکسپورٹ، صنعت اور زراعت ہماری ترجیحات ہونا چاہئیں۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ امپورٹ کی گئی اشیاء میں 90فیصد اشیاء کی مقامی کھپت ہے جبکہ صرف 10فیصد ہم ایکسپورٹ مصنوعات بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے ملکی معیشت میں ترقی کو ایکسپورٹ گروتھ سے مشروط کیا۔

سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں19سے 23جنوری عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹینا جارجیوا نے پاکستان کو درست معاشی سمت پر گامزن قرار دیا جبکہ حال ہی میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر Bolormaa Amgaabazar اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر اسد علیم نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے لیکن حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ سال 15 اپریل 2025ء کو فچ نے پاکستان کی ریٹنگ CCC + سے بڑھاکر B - کی تھی۔ ورلڈ بینک گورننس انڈیکس میں پاکستان 22فیصد کی سطح پر ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان استحکام کے مرحلے سے نکل کر ترقی کے دور میں داخل ہورہا ہے۔ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا لیکن توانائی اور ٹیکسوں کے شعبوں میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

تازہ ترین