پاکستان کی سیاست اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور استعارے حقیقت بن جاتے ہیں۔ یہ محض بدعنوانی‘ بدانتظامی یا سیاسی عدم استحکام کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی گٹر سیاست کی بدنما داستان ہے جس میں انسان ‘ قانون‘ اخلاق اور سچائی سب بہتے جارہے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ ہو یا لاہور کے قلب بھاٹی گیٹ کی سیوریج لائن میں ماں بیٹی کی ہلاکت کے واقعات،یہ محض حادثات نہیں ایک ایسے فرسودہ سیاسی نظام کی بدبودار گواہیاں ہیں جو وقتًا فوقتاً کسی سانحہ کے دھویں سے پھر زندہ ہوجاتی ہیں۔ سانحہ گل پلازہ نے جہاں ہماری مردہ سیاست کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں بھاٹی گیٹ واقعہ نے پنجاب کی گڈ گورننس پر بھی انگلیاں اٹھادی ہیں۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف سب کو ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹس اسکورنگ کا پورا پورا موقع مل رہا ہے اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے باسی کڑھی کو اٹھارہویں ترمیم کا ایسا اُبالا دیاجارہا ہے جس کا دھواں پیپلزپارٹی کی سانسوں میں محسوس کیا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم کراچی کو الگ صوبہ بنانا چاہتی ہےاور وفاق سے کراچی شہر کا براہ راست کنٹرول سنبھالنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ جماعت اسلامی بلدیاتی نظام کی کمزوریوں پر سراپا احتجاج ہے۔ کوئی صوبائی خودمختاری پر دہائی دے رہا ہے تو کوئی وفاق پر الزام لگا رہا ہے۔ اس سانحہ کو لیکر سابقہ حکومتوں کے گناہ بھی گنوائے جارہے ہیں۔ اس شور شرابے میں اصل سوال کہیں دفن ہوگیا ہے۔ کیا شہریوں کی جانیں اتنی ہی ارزاں ہیں کہ ہر سانحہ پر ایک پریس کانفرنس، ایک ٹویٹ یا ایک معافی، ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اٹھارہویں ترمیم جسے صوبائی خودمختاری کی علامت کہا جاتا ہے ان سانحات کی سیاسی خوراک بن رہی ہے۔ کبھی اسے ڈھال بنا کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑائی جاتی ہے تو کبھی اس پر الزام دھرکے مخالفین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست گلی محلوں کے شور، ایوانوں میں سناٹے اور گٹرکے ڈھکنوں کے بیچ کہیں گم ہوچکی ہے۔ سانحہ گل پلازہ ہو یا بھاٹی گیٹ کاواقعہ ،یہ محض حادثات یا انسانی غلطی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں جن سے سبق سیکھنے کے بجائے یہ سانحات سیاست دانوں کیلئے نئے مواقع بن جاتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع پر ماتم کم پوائنٹ اسکورنگ زیادہ کی جاتی ہے۔ گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحہ کے بعد بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑ رہیں مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری آخر کس کی تھی اور کس نے یہ ذمہ داری نبھائی اور کس نے نہیں؟ اٹھارہویں ترمیم جسے کبھی جمہوریت کی فتح قرار دیا جاتا تھا آج سیاسی جماعتوں کیلئے ترکہ بن چکی ہے۔ہر جماعت اسے اپنی مرضی سے کاٹنے، بانٹنے اور بیچنے پر لگی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی اسے وفاقیت کا قلعہ قرار دیتی ہے مگر سندھ میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گھبراتی ہے۔ تحریک انصاف اس ترمیم کے باعث خیبرپختونخوا میں مزے لوٹ رہی ہے۔ ایم کیو ایم شہری حکومت کے نام پر شور مچاتی اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم جسے صوبائی خود مختاری کی علامت قرار دیا جاتا ہے کیا عوام کی فلاح کیلئےہے یا محض سیاسی اشرافیہ کیلئےایک ڈھال ؟ جب سانحات کے بعد صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ مسئلہ قانون یا کسی آئینی ترمیم کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔ یہ بے حسی کی گٹر سیاست ایک منظم، طاقتور اور بے رحم نظام کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے برسوں سے فائلوں‘ کمیشنوں اور سیاسی نعروں کے پیچھے چھپے ہوئے اس بوسیدہ نظام کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ یہ آگ صرف ایک عمارت کو نہیں لگی یہ آگ حکومتی غفلت، بلڈنگ مافیا، کرپٹ افسر شاہی اور بے حس سیاست دانوں کے باہمی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی ، اصل مدعا یہ ہے کہ اتنے بڑے کاروباری مرکز کی مسلسل حفاظتی نگرانی کے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شہری حکومت ، فائر بریگیڈ سب اپنی اپنی غفلت و نااہلی کو ایک دوسرے کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہورہے ہیں۔ سیوریج لائنوں میں گرتے شہری ، ٹوٹی سڑکوں پر موٹرسائیکل سواروں کی ہلاکتیں اور جلتے پلازے سب اس گٹر سیاست کی بھیانک داستانیں ہیں جس میں اولین ترجیح انسان نہیں صرف اقتدار ہے۔ پیپلزپارٹی پچاس سال سے سندھ میں اپنی مضبوط جڑیں رکھتی ہے۔ صوبے میں اس کا مسلسل تیسرا دور اقتدار ہے۔ مگر کراچی آج بھی پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ اور فائر سیفٹی جیسے بنیادی مسائل سے دو چار ہے۔ ہر سانحہ کے بعد تحقیقات کے اعلانات ہوتےہیں، کمیٹیاں اور کمیشن بنتے ہیں پھر فائلیں کہیں ٹھکانے لگا دی جاتی ہیں۔ یہ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں بروقت کھڑا نہیں کیا جاتا ۔ اگر صوبائی حکومتوں کی گورننس کا موازنہ کیا جائے تو پنجاب میں مریم نواز کی حکومت اپنی کارکردگی میں نمایاں نظر آتی ہے مگر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا سول مسائل کا بوجھ حکومتی کارکردگی کو برُی طرح متاثر اور صوبائی حکومت کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔ بھاٹی گیٹ سیوریج لائن واقعہ اس کی ایک برُی مثال ہے۔ پنجاب حکومت کے تیز رفتار ترقیاتی منصوبے، سیوریج سسٹم کی بہتری، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے بیک وقت شروع ہونیوالے پراجیکٹس کے باعث جگہ جگہ کھدائی سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے جنہیں بروقت مکمل کرنا نہایت ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو مریم نواز کی بروقت ہدایات کے باوجود ان پر عمل نہیں کررہے؟