بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور، گوادر اور پسنی سمیت نو شہروں میں بیک وقت حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک منظم، مربوط اور واضح طور پر ریاستِ پاکستان کیخلاف اعلانِ جنگ تھا۔ بازار، جیلیں، تھانے، بینک، سرکاری دفاتر اور مزدوروں کے کیمپ نشانہ بنائے گئے۔ عورتیں، بچے اور محنت کش بے دردی سے قتل کیے گئے۔ یہ دہشت گردی نہیں، کھلی بربریت تھی اور اس کے پیچھے دشمن کے ہاتھ ہونے میں اب کوئی ابہام نہیں رہا۔ سیکیورٹی فورسز، پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس جرات، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے اس یلغار کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ درجنوں خودکش اور مسلح دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، کلیئرنس آپریشن کے ذریعے ریاستی رٹ بحال کی گئی۔ اس جنگ میں ہمارے 15 سیکیورٹی اہلکار اور 18 معصوم شہری شہید ہوئے۔ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں، بلوچستان کے دشمن ہیں، بلوچستان میں رہنے والوں کی ترقی، اُن کی تعلیم، اُن کے سکون کے دشمن ہیں۔ ان دہشتگردوں کیلئے کسی نرم رویہ کی گنجائش نہیں۔ یہ نہ مزاحمت کار ہیں، نہ ناراض عناصر، اور نہ ہی کسی حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ قاتل ہیں، جو بیرونی آقاؤں سے پیسہ لے کر اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں، بلوچستان کی ترقی کو آگ لگا رہے ہیں اور بلوچ عوام کو پاکستان سے کاٹنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ گوادر میں مزدوروں کے کیمپ پر حملہ ہو یا مستونگ میں جیل توڑنا، ہر کارروائی چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ ان کا ہدف عوام ہیں، امن ہے اور ریاست ہے۔ لیکن اس ساری تصویر کا سب سے افسوسناک پہلو وہ خاموشی ہے جو عمومی طور پر بلوچستان کے اپنے سرداروں، نوابوں اور سیاسی قیادت پر طاری ہے۔ یہ وہی چہرے ہیں جو ہر بحران میں اسلام آباد کو کوستے ہیں، وسائل کی بات کرتے ہیں، حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں۔ مگر جب دشمن بلوچستان کو آگ میں جھونک دے، جب عام بلوچ، پختون، پنجابی مارا جائے، جب سیکیورٹی فورسز قربانیاں دیں، تو یہی قیادت بولنا بھول جاتی ہے۔ نہ کوئی دوٹوک مذمت، نہ دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح جملہ، نہ اپنی قوم کو حوصلہ دینے کی کوشش۔ سرفراز بگٹی اور انوارالحق کاکڑ جیسے چند رہنما ہیں جو صاف صاف بات کرتے ہیں، دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔ ان کی طرح اگر سب بولیں گے تو دہشتگرد کمزور ہو گا۔ خاموش رہنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اُن کی یہ خاموشی محض کمزوری نہیں، ایک خطرناک رویہ ہے۔ کیونکہ جو نہیں بولتا، وہ بالواسطہ طور پر گنجائش پیدا کرتا ہے۔ دہشت گرد اسی خلا میں پنپتے ہیں۔ اگر سردار اور سیاستدان کھل کر کہیں کہ یہ جنگ بلوچ عوام کی نہیں، اگر وہ اپنے علاقوں میں اعلان کریں کہ بندوق کے زور پر سیاست ناقابلِ قبول ہے، اگر وہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ فوج اور پولیس دشمن نہیں بلکہ محافظ ہیں، تو دشمن کا بیانیہ خود بخود دفن ہو جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بلوچستان میں حقوق کے نام پر دہشتگردی کرنے والے عام بلوچوں اور پختونوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ قربانیاں سیکیورٹی فورسز دے رہی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی قیادت فوج، پولیس، سی ٹی ڈی وغیرہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے ہچکچاتی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کس کے مفاد کی حفاظت کر رہی ہے؟ بلوچستان کی عوام کے یا دہشت گردوں کے خوف کی؟ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ قومی ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے تحت یہ جنگ منطقی انجام تک پہنچے گی۔ دشمن کو شکست دی جائے گی۔ اس جنگ کو جیتنے کیلئے کیا صرف فورسز کی قربانیوں پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔ کیا اس کیلئے سیاسی، قبائلی اور سماجی سطح پر بھی یکسوئی ضروری نہیں جہاں بلوچستان کی روایتی قیادت بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ آج وقت ہے کہ بلوچستان کے سردار، نواب اور سیاستدان اپنی خاموشی توڑیں، خوف سے نکلیں اور دہشت گردوں کو بلوچ نام استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ فورسز کی قربانیوں کو سراہیں، دہشتگردوں کو دہشتگرد کہیں اور اپنے لوگوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ تنہا نہیں بلکہ عملی طور پر فورسز اور عوام کے ساتھ دہشت گردوں کیخلاف کھڑے نظر آئیں۔ اگر آج بھی یہ نہ ہوا توتاریح یاد رکھے گی کہ جب بلوچستان جل رہا تھا، دشمن کھل کر سامنے آ چکا تھا، فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں کے جانباز اپنی جانوں کی قربانیاںدے رہے تھے تب بلوچستان کے اپنے نمائندے، نواب، سردار خاموش تماشائی بنے رہے۔