اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا معاشی چیلنج کیا ہے تو میرا جواب ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ہوگاسرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ۔ یہ وہ عفریت ہے جو انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے یک طرفہ، غیر متوازن اور بعض صورتوں میں مشتبہ معاہدوں کی کوکھ سے جنم لے چکا ہے۔ اس مسئلے پر بارہا سوال اٹھائے گئے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔ آج سرکلر ڈیٹ کا حجم پاکستان کے سالانہ دفاعی بجٹ کے برابر جا پہنچا ہے۔ کوئی بھی معیشت، خصوصاً ایک کمزور اور مقروض معیشت، ایسے بوجھ کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتی۔سادہ الفاظ میں سرکلر ڈیٹ ادائیگیوں کا وہ شیطانی چکر ہے جس نے بجلی کے پورے نظام کو جکڑ رکھا ہے۔ صارف مہنگے بجلی کے بل ادا نہیں کر پاتا، حکومت مکمل سبسڈی دینے سے قاصر رہتی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اپنی رقوم پوری طرح وصول نہیں کر پاتیں اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے ایندھن فراہم کرنے والوں کو ادائیگیاں روک لیتے ہیں۔ یوں قرض ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گھومتا رہتا ہے اور حجم میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔افراد کی سطح پر نصب سولر انرجی کی مجموعی پیداوار چار ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال ایک ہزار میگاواٹ سے زائد نئی سولر صلاحیت اس نظام میں شامل ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں متوسط اور خوشحال طبقہ بتدریج حکومتی بجلی کے نظام سے نکلتا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری بجلی کی لاگت کم صارفین پر منتقل ہو رہی ہے۔ یوں گردشی قرضہ مزید بڑھتا ہے اور اس کا اصل بوجھ بالآخر غریب اور متوسط طبقے کو مہنگی بجلی اور اضافی سرچارجز کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ کہنا حقائق سے فرار ہوگا کہ سرکلر ڈیٹ کی وجہ صرف بجلی چوری یا صارفین کی نادہندگی ہے۔ اصل خرابی نظام کے ڈیزائن میں ہے، خاص طور پر آئی پی پیز کے معاہدوں میں۔ 1990 کی دہائی میں شدید لوڈشیڈنگ کے باعث نجی شعبے کو بجلی پیدا کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر درست تھا، مگر معاہدوں میں ڈالر سے منسلک منافع، بجلی بنے یا نہ بنے کپیسٹی پیمنٹس اور مکمل سرکاری ضمانتیں شامل کر دی گئیں۔ وقت کے ساتھ یہ ہنگامی بندوبست مستقل پالیسی بن گیا، اور بغیر یہ دیکھے کہ ملک کو واقعی کتنی بجلی درکار ہے، مہنگے ایندھن پر بجلی گھر لگتے چلے گئے۔سرکلر ڈیٹ کا سب سے خطرناک پہلو کپیسٹی پیمنٹس ہیں۔ بجلی گھر چلیں یا بند رہیں، حکومت کو اربوں روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی مہنگی ہوتی گئی، صارفین نے استعمال کم کیا، صنعتیں بند ہوئیں اور حکومت پر ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھتا گیا۔
سرکلر ڈیٹ کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔مہنگی بجلی، مہنگی اشیاء، صنعت کی مسابقت کا خاتمہ، برآمدات میں کمی اور قومی بجٹ پر مستقل دباؤ۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف بھی توانائی کے شعبے کو پاکستان کی معاشی کمزوری کی بنیادی وجہ قرار دیتا رہا ہے۔یہ خیال کہ آئی پی پیز کے معاہدے یک طرفہ طور پر ختم کر دیے جائیں، بظاہر پرکشش ضرور ہے مگر حقیقت پسندانہ نہیں۔ یہ معاہدے قانونی اور بین الاقوامی نوعیت کے ہیں اور ان کا یک طرفہ خاتمہ پاکستان کو عالمی ثالثی عدالتوں میں لے جا سکتا ہے، جسکے نتائج معیشت کیلئے مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔حکومتِ پاکستان نے تقریباً 26 کھرب روپے تک پہنچنے والے گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے مالی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 1225 ارب روپے کے گردشی قرضے کی بینکوں کے ذریعے ری فنانسنگ، پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرضوں کے لیے 2.3 ارب ڈالر کی فنانسنگ، بجلی نرخوں کی سالانہ ری بیسنگ، اور ڈسکوز کے نقصانات 586 ارب روپے سے کم ہو کر 393 ارب روپے تک لانے کے دعوے شامل ہیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی اور لیٹ پیمنٹ سرچارج میں رعایت دی گئی، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زیرو سرکلر ڈیٹ فلو کا ہدف مقرر کیا گیا۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق گردشی قرضے میں 780 ارب روپے تک کمی ہوئی ہے، تاہم مسئلہ مکمل طور پر حل ہونے سے اب بھی دور ہے۔
حل تصادم میں نہیں بلکہ اصلاح میں ہے۔ آئی پی پیز کے فارنزک آڈٹ، کپیسٹی پیمنٹس کی رضاکارانہ ری اسٹرکچرنگ، مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کی مرحلہ وار ریٹائرمنٹ، ڈسکوز کی حقیقی اصلاح، سبسڈی کا ہدفی استعمال اور نیپرا کو عملی خودمختاری دیے بغیر سرکلر ڈیٹ کا خاتمہ ممکن نہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ اس عفریت سے نمٹنے کیلئے آدھے سچ اور رسمی بیانات چھوڑ کر غیر روایتی اور جرات مندانہ فیصلےکیے جائیں۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دفاع کے ساتھ ساتھ اہم معاشی اور خارجہ پالیسی فیصلے بھی عملاً دارالحکومت کے جڑواں شہر میں طے پاتے ہیں۔ ماضی میں تاجر اور صنعت کار اپنے مسائل کے حل کیلئے جنرل باجوہ کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، اور آج بھی یہی طبقات آخری امید کے طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ معیشت کی بحالی میں فیلڈ مارشل کی دلچسپی اس قدر واضح ہے کہ وہ ورلڈ اکنامک فورم جیسے عالمی فورمز میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ حکومت بھی گاہے گاہے اُن کی خدمات کا اعتراف کرتی رہتی ہے۔ میری صاف تجویز یہ ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب تمام ملکی نجی پاور پروڈیوسرز، جو کہ کل IPPs کا 80 فیصد ہیں ،کوایک میز پر بٹھا کر کپیسٹی چارجز کی لعنت ختم کرنے کی کوشش کریںاور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کوششیں بعض اوقات فیصلوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔سرکلر ڈیٹ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی غلطیوں، کمزور حکمرانی اور مشکل فیصلوں سے مسلسل فرار کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ بھی معلوم ہے اور حل بھی کمی صرف سیاسی جرات، دیانت اور تسلسل کی ہے۔