• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوشبوؤں ، رنگوں اور خوشیوں سے کِھلکھلاتا فروری کا پُر بہار مہینہ بسنت کی مستی میں جھومتا آن پہنچا ہے۔ ادبی اور ثقافتی میلوں ٹھیلوں کے کارڈز سے سوشل میڈیا کا صحن بھرا پڑا ہے۔ محبت اور نمو کےاس مہینے کی جھولی نے کئی اعزازات سنبھال رکھےہیں۔عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کے اقرار نامے کو تازہ کرنا شروعات میں درج ہے۔ہر سال یکم فروری سے سات فروری تک مذہبی ہم آہنگی کا ہفتہ منایا جاتا ہے۔پندرہ سال قبل 23 ستمبر 2010ءکو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُردن کے شاہ عبداللہ دوم نے مذہبی ہم آہنگی کی قرارداد پیش کی۔ 20اکتوبر 2010ء کواقوامِ متحدہ نے نہ صرف متفقہ طور پر منظور کیا بلکہ اس کی اہمیت کے پیش نظر ایک دن معین کرنے کی بجائے فروری کا پہلا ہفتہ اس کے نام کردیا اور پوری دنیا کے نیک انسانوں ، خیر کو پھیلانے والی تنظیموں اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا کہ وہ نفرت اور تعصب کی اندھیر نگری میں بھٹکتے انسانوں کو یگانگت کی لڑی میں پرو کر وحدتِ انسانی کا سفر آغاز کریں ۔سات دن اس موضوع پر سیمینار ، کانفرنسز اورلیکچرز کا اہتمام کر کے لوگوں کو امن اور رواداری کی طرف لانے میں کردار ادا کریں۔عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد میں 2007والی The Common Word نامی پیش رفت کا بھی حصہ ہے، جسکا مقصد مسلمان اور مسیحی مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کے مابین دو بنیادی مشترکہ مذہبی احکام’’ جو تینوں توحیدی اور الہامی مذاہب کا مرکزی نکتہ ہیںیعنی خدا سے محبت اور پڑوسی سے محبت،،پر مرکوز ہو۔عالمی ہفتۂ بین المذاہب ہم آہنگی ان دو احکام کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس میں ’’نیکی سے محبت اور پڑوسی سے محبت‘‘کا اضافہ کرتاہے، دیکھا جائےتو یہ اصول ہر مثبت سوچ رکھنے والے انسان کی فطرت میں ہوتا ہے ۔

جس نکتے پر اقوام متحدہ نے پندرہ سال پہلے توجہ مرکوز کی اُسکی ترویج ہمارے صوفیا کے کلام اور رویوں میں دس صدیاں قبل موجود تھی ۔صوفیا کا امتیاز مختلف مذاہب، عقائد اور ثقافتوں کے پرچارک لوگوں کے درمیان باہمی احترام، مکالمے، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا رہا ہے، صوفیا نے رسمی عقائد کی تبلیغ کی بجائے اپنے عمل ، رویے ، تحریر اور گفتگو سے احترام آدمیت ، انصاف محبت، ہمدردی اور خدمتِ خلق جیسی مشترکہ انسانی قدروں کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کی ، اگرچہ تمام مذاہب اور فکری روایتوں میں ان مشترکہ قدروں کو سراہا گیا ہے مگر عمل کے حوالے سے کوتاہی برتی گئی جسکے باعث مذاہب جو انسان کو راہ راست کا نقشہ سمجھانے کیلئے وجود میں آئے انسانوں کے درمیان جنگوں اور نفرت کا سبب بنتے گئے۔ صوفیا کے دستر خوان اور ڈیرے پر ہر مذہب اور فکر کے لوگ اکٹھے ہوتے تھے، صوفی احترام آدمیت اور خدمتِ خلق کیلئے ایک اصول کی پیروی کرتا ہے کہ ہر بندہ کسی مسلک سے جُڑت سے پہلے وہ بندہ ہے، جس میں رب کی ودیعت کردہ روح جلوہ گر ہے۔کائنات خالق اور مخلوق کے رشتے کی وحدت پر پر قائم ہے ۔ رب کی کائنات میں صرف مختلف شکلوں والے انسان نہیں بلکہ یہ تفاوت پھولوں اور دیگر میں بھی نظر آتا ہے۔ کائنات کی رنگا رنگی اُسکی منشا ہے۔ اسلئے صوفی خود کو بہتر سمجھ کر دوسروں کو مذہب بدلنے کی تلقین نہیں کرتا ، بلکہ رویے بہتر بنانے کی بات کرتا ہے، وہ فتویٰ کی بجائے مکالمہ اور باہمی صلاح مشورے کا قائل ہے۔

انسانی ہم آہنگی کے اس عالمی ہفتےمیں صوفیا کےپیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو اس ازلی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دلوں کا اصل قبلہ ایک ہے، اگرچہ راستے مختلف اور ضابطے جداگانہ دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت ایک ہے۔صوفی روایت کے مطابق محبت وہ چراغ ہے جو ہر مذہب، ہر قوم اور ہر زبان میں ایک ہی نور سے روشن ہوتا ہے۔ یہ ہفتہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم ظاہری اختلافات سے بلند ہو کر انسان کو انسان کی حیثیت سے پہچانیں اور دل کے آئینے میں وحدتِ انسانی کا عکس دیکھیں۔

صوفیا کے نزدیک خدا تک پہنچنے کا راستہ خلقِ خدا سے ہو کر گزرتا ہے۔اسلئے ان دنوں کو صرف زبانی باتیں اور دعوے کر کے نہ گزاریں بلکہ اپنے رویے میں محبت ،درگزر، خدمت اور مکالمے کی شمع روشن کرکے اس جہان کو خوبصورت گلشن بنائیں ، جو مختلف پرندوں کا سانجھا بسیرا ہوتا ہے۔جب دل نرم ہوں اور نیت خالص، تو عقیدے دیوار نہیں بنتے بلکہ رابطے کا پل بن جاتے ہیں اور یہی بین المذاہب ہم آہنگی کی روح ہے۔

تازہ ترین