سعدیہ اعظم
شہر میں شدید بارشوں کے باعث اسکول میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔ پورا ہفتہ ہی کلاسوں میں بچّوں کی تعداد بہت کم رہی۔ بارشوں نے شہر کا وہ حال کر دیا کہ لوگوں کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا۔ دُور سے آنے والی کئی ٹیچرز بھی آج اسکول نہیں پہنچ پائی تھیں۔
یہ شہر کے متوسط طبقے کی آبادی کا ایک پرائیویٹ اسکول تھا، جو کوایجوکیشن تھا۔ بچّوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی، لیکن ہرکلاس میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کی نسبت زیادہ ہی تھی۔ تھوڑی دیر بچّوں کو انگیج کرنے کے بعد مس ذکیہ اسٹاف روم میں آ کے بیٹھ گئیں، جہاں کچھ ٹیچرز آپس میں مختلف موضوعات پر بات چیت کر رہی تھیں، تو کچھ کاپیز چیک کر رہی تھیں اور کچھ موسم سے لُطف اندوز ہونے کے لیے باہر برآمدے میں کرسیاں ڈالے بیٹھی تھیں۔
اسٹاف روم میں آنےسے پہلے مِس ذکیہ کچھ دیر برآمدے میں بیٹھی ٹیچرز سے گپ شپ بھی لگا کے آئی تھیں، کیوں کہ برآمدے میں کیاریوں میں لگے پودے اور پھول بارش سے دُھل کر اتنے خُوب صُورت ہوگئے تھے کہ اُنہیں بے اختیار وہاں رکنا ہی پڑا۔ بارش کے بعد کی صاف ستھری ہوا اپنے اندر اُتار کے اور دُھلے، نکھرے پھول پودوں کا حُسن اپنی آنکھوں میں سمو کے ہی وہ اسٹاف روم میں داخل ہوئی تھیں۔
اسٹاف روم میں ٹیچرز سے بات چیت کرتے کرتے اُنہوں نے بھی کاپیاں جانچنے کے لیے اپنے سامنے رکھ لیں۔ دو دن پہلے اُنہوں نے ساتویں کلاس کے بچّوں کو اردو میں ’’میری پسندیدہ شخصیت‘‘ کے موضوع پر مضمون لکھنے کو دیا تھا۔ کم حاضری کے باعث کچھ ہی بچّوں کا کام اُن کے سامنے تھا۔ کلاس میں کام دینے سے پہلے انہوں نے بچّوں کے ساتھ ایک سرگرمی بھی کی تھی۔ کچھ بچّوں کو کلاس میں کھڑا کر کے اُن کی پسندیدہ شخصیت سے متعلق پوچھا تھا اور اگر وہ کوئی تاریخی یا قومی شخصیت تھی تو اُس کے حوالے سے کچھ سوالات بھی کیے تھے کہ وہ آپ کو کیوں پسند ہے؟
اُس کا مُلکی، بین القوامی سطح یا تاریخی میدان میں کیا کارنامہ ہے؟ اورآپ دل میں اُس کے لیے کیسے جذبات محسوس کرتے ہیں؟ اور اگر وہ خاندان کی کوئی شخصیت ہے، تو اُس کی ایسی کون سی باتیں ہیں، جو آپ کو زیادہ پسند ہیں، وہ کیوں اچھے لگتے یا لگتی ہیں اور اِس کے بعد بچّوں کو چند سوالات کے ساتھ ہی مضمون لکھنے کو دیا۔ مس ذکیہ بچّوں کی کاپیز چیک کرتے، اُن کے مضامین پوری دل چسپی سے پڑھتے اور چھوٹے چھوٹے جملوں کی شکل میں اُن کی اصلاح کرتے، تعریفی و توصیفی ریمارکس لکھتے ٹیچرز کے ساتھ اُن کی گفتگو میں بھی حصّہ لے رہی تھیں۔
اگلی کاپی میں ’’میری پسندیدہ شخصیت‘‘ کے عنوان کے تحت جو نام لکھا تھا، وہ اُنہوں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سُنا تھا۔ اُنہوں نےکاپی کے سرِورق پہ بچّے کا نام پڑھا، جو اُن کی کلاس کا ایک اوسط درجے کا طالبِ علم تھا، پھر ساتھی ٹیچرز سے اُس شخصیت سے متعلق دریافت کیا۔ جواباً سب ہی نے لاعلمی کا اظہار کیا، جب کہ مِس انیلا تو اپنی نشست سے اُٹھ کر مِس ذکیہ کی برابر والی کرسی ہی پر آبراجمان ہوئیں اورکاپی اُن کےہاتھ سےلے کر پورا مضمون ہی پڑھنا شروع کردیا۔
مضمون پڑھتے پڑھتے اُنھوں نے گوگل سرچ کیا تو پتا چلا کہ یہ شخصیت توایک مووی ’’نِنجا واریئرز‘‘ کا کوئی کریکٹر ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے مِس انیلا اورمِس ذکیہ دونوں ہی خاموش ہوگئیں۔ پھر مس انیلا نے اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے، ہمارے بچّوں کو اپنے چاروں طرف، اپنی قوم کی تاریخ، اپنے خاندان میں کوئی پسندیدہ شخصیت ہی نظر نہیں آرہی۔
وہ ایک خیالی کردار کواپنی پسندیدہ شخصیت سمجھ کر اس سے محبّت کر رہے ہیں، اُسے اپنا آئیڈیل مان رہے ہیں۔‘‘جب کہ مِس ذکیہ ایک ہی بات سوچے جا رہی تھیں کہ بچّوں کے اس طرزِ عمل کا اصل ذمّے دار کون ہے۔ والدین کی نہ ختم ہونے والی مصروفیات میں بچّوں کے لیے وقت کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ اساتذہ کو صرف اپنا سلیبس مکمل کروانے کی دھن لگی رہتی ہے، تو اِس بھاگ دوڑ، افراتفری میں بچّوں کے آئیڈیل تو وہی ہوں گے ناں، جن کے ساتھ وہ اپنا بیش تر وقت گزارتے ہیں، جنہیں وہ اپنے ہر رشتے کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔