5فروری یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان کی قومی تاریخ میں محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ یہ دن ہمارے اجتماعی شعور، نظریاتی وابستگی اور مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل عہد کی یاد دہانی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کے عوام، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور ریاستی ادارے ایک آواز بن کر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کشمیر ایک زندہ مسئلہ ہے، ایک نامکمل ایجنڈا ہے اور ایک ایسی جدوجہد ہے جسے طاقت، جبر اور خاموشی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے بلکہ یہ اس کے نظریے، سیاست اور عوامی وابستگی کا لازمی حصہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کی بنیاد ہی مظلوم عوام کے حقوق، جمہوری اقدار اور حقِ خودارادیت کے اصول پر رکھی گئی۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر اس مسئلے کو محض ایک علاقائی تنازع کے بجائے ایک نظریاتی اور اخلاقی سوال بنا دیا۔ اقوامِ متحدہ میں ان کی تاریخی تقاریر آج بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کشمیر کے معاملے پر مصلحت یا کمزوری کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ بھٹو صاحب نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے خلاف کسی فیصلے پر مجبور کرنا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کے مطابق۔5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا باضابطہ اعلان محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں کیا گیا، جو پیپلز پارٹی کے سیاسی وژن اور عوامی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس دن کو قومی کیلنڈر میں شامل کر کے یہ ثابت کیا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف حکومتی فائلوں یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اسے عوامی شعور کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے دور میں پاکستان نے عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں پر ہونے والے مظالم کو عالمی ضمیر کے سامنے رکھا گیا اور یہ باور کرایا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کنجی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے نزدیک کشمیر کی حمایت ایک دن، ایک تقریر یا ایک قرارداد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل، منظم اور اصولی جدوجہد ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں بھی یہی سوچ کارفرما رہی۔ اس دور میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر امن کی بات کی، مذاکرات کی حمایت کی، مگر کشمیر کے اصولی مؤقف سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔
پاکستان پیپلز پارٹی چونکہ عوامی جماعت ہے، اس لیے اس کی سیاست کا محور ہمیشہ عوام رہے ہیں۔ پارٹی کے جیالے، کارکنان اور ہمدرد اس دن سڑکوں پر نکل کر، ریلیوں، سیمینارز اور اجتماعات کے ذریعے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ سندھ کے دیہات ہوں یا شہری مراکز، پیپلز پارٹی کے جیالے کشمیری عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں۔ یہی عوامی وابستگی اس جدوجہد کو طاقت دیتی ہے اور اسے محض سرکاری بیانیے تک محدود نہیں رہنے دیتی۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، طویل کرفیو، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں، نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں اور بالخصوص 5 اگست 2019 کا یکطرفہ اقدام پیپلز پارٹی کے لیے ناقابلِ قبول رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد پیپلز پارٹی نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی بھرپور آواز بلند کی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور عالمی میڈیا کے پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ دنیا اب خاموش نہیں رہ سکتی۔ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے ثابت کیا کہ نئی نسل کی قیادت بھی کشمیر کے مسئلے پر اتنی ہی باشعور، جرات مند اور اصولی ہے جتنی ماضی کی قیادت تھی۔پیپلز پارٹی کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے کشمیر کے مسئلے کو کبھی نفرت، انتہاپسندی یا جذباتی نعروں کی نذر نہیں کیا۔ پارٹی نے ہمیشہ جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی زبان میں کشمیر کا مقدمہ لڑا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری میں پیپلز پارٹی کی آواز کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ چاہے وہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس ہوں، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہوں یا بین الاقوامی میڈیا، پیپلز پارٹی نے دلیل، تاریخ اور انسانی المیے کی بنیاد پر کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔
5فروری ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا تقاضا صرف سال میں ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریے کے مطابق یہ جدوجہد مسلسل ہے اور اس میں سیاسی استقامت، عوامی شعور اور عالمی سفارت کاری تینوں ناگزیر ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں ہم سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ہم وقتی خاموشی، مصلحت یا تھکن کا شکار نہ ہوں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصولی مؤقف وقتی طور پر مشکلات ضرور پیدا کر سکتا ہے، مگر تاریخ میں سرخرو وہی ہوتے ہیں جو حق اور سچ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔کشمیر کا مسئلہ پیپلز پارٹی کے لیے محض خارجہ پالیسی کا ایک باب نہیں بلکہ یہ اس کی نظریاتی سیاست کا تسلسل ہے۔ یہ وہی جماعت ہے جس نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، آئین کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں اور جمہوریت کے استحکام کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ اسی نظریاتی تسلسل میں پیپلز پارٹی کشمیر کے مسئلے پر بھی جمہوری، آئینی اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ طاقت کے زور پر مسائل کو دبایا جا سکتا ہے، حل نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ 5فروری اور کشمیر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محض ایک تاریخ یا ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ ایک عہد کہ پاکستان کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، ایک نظریہ کہ حقِ خودارادیت ہر قوم کا بنیادی حق ہے، اور ایک جدوجہد کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز ہر فورم پر بلند ہوتی رہے گی۔ یہی پاکستان پیپلز پارٹی کا مائنڈ سیٹ ہے، یہی اس کی سیاست کی روح ہے اور یہی اس کا تاریخی کردار، جس پر اسے فخر ہے اور جسے وہ آنے والی نسلوں تک منتقل کرتی رہے گی۔