• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب کی 2025ء میں ریکوری 6 کھرب تک پہنچ گئی

قومی احتساب بیورو (نیب) کی 2025 میں ریکوری 6 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

صوبوں کو 5 کھرب سے زائد کی سرکاری زمینیں اور اثاثے ریکور کرکے دیے گئے جو گم شدہ تھے، جنگلات، ایف بی آر اور گولڑا ای الیون کی زمینیں واگزار کروائی گئیں۔

نیب حکام نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کوہستان اسکینڈل 40 ارب روپے تک پہنچ گیا اب تک 26 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ نیب اصلاحات کے بعد کاروباری طبقے، ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کا اعتماد بحال ہوا ہے، کسی شخص کا میڈیا ٹرائل نہیں ہو گا، جرم ثابت ہو گا تو سزا ہو گی، جھوٹی شکایت کرنے والے کو بھی سزا ہو گی۔

اسلام آباد میں نیب کی سال 2025 ء کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کا کہنا ہے کہ نیب اصلاحات کے بعد شفافیت اور بہتری آئی ہے، کسی کو محض ملزم قرار دے کر خبر چلانا آسان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے شکایت آنے پر شناخت کو مخفی رکھا جاتا ہے، بزنس مین، ارکان پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے خصوصی طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور بعض شکایتیں خود متعلقہ اداروں کو بھیج دی جاتی ہیں۔

ڈی جی آپریشنز نیب عبدالمجید اولکھ کا کہنا تھا کہ صرف شکایت کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، ارکان پارلیمنٹ سے متعلق شکایتوں کے لیے اسمبلی اسپیکرز کے تحت سہولت سیلز قائم کیے گئے ہیں، شفافیت کے لیے پہلا جواب اسپیکر کی جانب سے آتا ہے تاہم نیب اس جواب پر اکتفا کرنے کا پابند نہیں۔

ڈی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقے کے لیے چیمبرز میں سہولت سیل قائم کیے گئے ہیں اور نیب کے اندر بھی نگرانی کے لیے خصوصی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

نیب حکام کے مطابق 2025ء میں اوسطاً 1951 شکایتیں ماہانہ موصول ہوئیں جبکہ جعلی شکایتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ڈی جی آپریشنز نیب کے مطابق پاکستان نے روس، سعودی عرب، نائیجیریا، چین، ملائشیا، آسٹریلیا، تاجکستان اور سری لنکا سمیت کئی ممالک کے ساتھ ایم او یوز سائن کیے ہیں، جن کے تحت احتسابی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات شیئر کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوہستان اسکینڈل میں اب تک 26 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے جا چکے ہیں جبکہ مجموعی اسکینڈل 40 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین نیب کے مطابق رقوم ڈرائیورز اور ڈمپر ڈرائیورز کے ناموں پر رکھی گئیں اور دیواروں اور پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئیں۔

نیب حکام کے مطابق بلوچستان میں 10 لاکھ ایکڑ زمین واگزار کروائی گئی، جس کی مالیت 1 کھرب روپے سے زائد ہے، پنجاب میں 811 ارب اور سندھ میں 58 ارب روپے مالیت کی زمینیں واپس لی گئیں۔

گزشتہ سال نیب نے 180 ارب روپے 1 لاکھ 15 ہزار متاثرین کو واپس دلائے جبکہ اس وقت 39 ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کیسز پر تحقیقات جاری ہیں اور 127 ارب روپے کی پراپرٹیز میں سے 87 ارب کی پراپرٹیز منسلک کی جا چکی ہیں۔

قومی خبریں سے مزید