• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم شہباز شریف نے جب بر سر عام اس کا ذکر کیا کہ گزشتہ مئی کے فوجی تصادم سے قبل دنیا کا رویہ کس حد تک سرد تھا توگویا اس حقیقت کا اظہار کیا کہ سفارتکاری کی دنیا میں کوئی محبت کا پیچ نہیں پڑتا ہے بلکہ صرف زمینی حقائق ہی تعلقات کی نوعیت کو طے کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر مودی اور اسکے ہمنوا زبردست احساس برتری کے زعم میں اپنی عسکری برتری کے ہوّا کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں نہ پھوڑ دیتے تو ہم سفارتی دنیا میں کہاں پر ہوتے ؟غور کرنے کاموضوع یہ ہے کہ کیا وہ سفارتی صورتحال پاکستان کی حقیقی معنوں میں طاقت کے عین مطابق تھی یا ہم بہت کچھ رکھتے ہوئے بھی ناطاقتی کی علامت بنے ہوئے تھے ؟ اس صورتحال کی وجہ کیا تھی اور جوموجودہ سکون نصیب ہوا ہے وہ پائیدار بھی ہے کہ نہیں ؟ پاکستان کی اس درماندگی کی اول وجہ تو یہ سمجھ آتی ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی نہیں ہو رہی تھی اور اسکی وجہ سے تصور یہ تھا کہ یہ ’مانگنے ‘آجاتے ہیں ۔ معاشی ترقی کیوں نہیں ہو پا رہی تھی تو یقینی طور پر اس میں جولائی دو ہزار سترہ کے عدالتی حملے سے لیکر بعد کے سیاسی حالات، آر ٹی ایس حکومت کا قیام سب آئیگا۔ مگر اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اب تک ان زخموں کو بھرنے کی خاطر کیا پیش رفت کی گئی ؟ پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے سی پيک اس وقت اہم ترین ہے مگر اس کے اہم ترین پراجیکٹ ایم ایل ون کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ اسکے ساتھ ساتھ گوادر بندر گاہ بھی حقیقی معنوں میں جیسے فعال ہونی چاہئے تھی نہ ہو سکی ۔

پاکستان کی ترقی کے حوالے سے ایک مضبوط تاثر ہے کہ پاکستان بطور ریجنل کنيکٹیوٹی حب کے آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 2023ء میں اپنے امریکہ کے پہلے سرکاری دورے میں امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ وسطی ایشیا سے رابطہ کیلئے کنکٹیوٹی حب اور گیٹ وے بنے ۔ اور ان کے پیشرو جنرل باجوہ نے تو مارچ دو ہزار اکیس میں ایک سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس ریجنل کنکٹیوٹی میں انڈیا کو بھی شامل کر دیا تھا مگر چاہے سی پیک کی برق رفتاری ہو یا ریجنل کنیکٹیوٹی کی خواہش ہنوز دلی دور است والا ہی معاملہ ہے۔

دوسرا اہم ترین معاملہ پاکستان کا اپنا جثہ اورا سٹرٹیجک اہمیت کا استعمال ہے ۔ قطر کے ایک سابق سفیر جو کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان سے رخصت ہوئے، نے مجھے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان مسلم دنیا کی سپر پاور ہے مگر پاکستان اپنی اس حیثیت کو استعمال نہیں کرتا یا یوں کہہ لیجئے کہ کر نہیں پاتا ۔ میرے خیال میں اصل مسئلہ ہی یہی ہے اگر پاکستان اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن کا درست استعمال کرے تو سلامتی کے مسائل کیساتھ ساتھ معاشی مسائل کو بھی خدا حافظ کہا جا سکتا ہے ۔ابھی حال ہی میں انڈیا کو چاروں شانے چت کیا تو دنیا کا رویہ بدل گیا ۔ اب اسکا تجزیہ کرنا چاہئے کہ موجودہ صورتحال کیا جوں کی توں رہیگی ؟ ہم بلا وجہ ہی پاکستان میں خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے کہ امریکہ انڈیا پر ٹیرف بڑھائے جا رہا ہے اور انڈیا امریکہ کی گڈ بک میں نہیں رہا ۔ یہ بلبلہ تو پھٹ گیا کہ انڈیا امریکہ تجارتی ڈیل ہو گئی اور اس میں یہ نکتہ مزید اہمیت کا حامل ہے کہ امریکہ نے انڈیا پر اٹھارہ فیصد ٹیرف اب عائد کیا ہے جبکہ پاکستان پر یہ انیس فیصد ہے ۔ پاکستان نے امریکہ کیلئے جو دوسری کشش پیدا کی وہ ریئر ارتھ منرلز کا معاملہ ہے جو بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر اس وقت امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کی جانب سے بلائی گئی کرٹیکل منرلز منسٹریل میٹنگ میں شرکت کیلئے امریکا میں موجود ہیں ۔کرٹیکل منرلز کی اصطلاح ریئر ارتھ منرلز کے مقابلے میں وسیع تناظر میں استعمال کی جاتی ہے ۔ ان مثالوں سے یہ ثابت کرنا مقصد نہیں کہ پاکستان کی ان امور پر پیش قدمی کی امریکہ میں اہمیت نہیں بلکہ صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اس پر تکیہ کرکے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں انڈیا کو پیچھے چھوڑنے کی حکمت عملی کارگر نہیں ہوگی ۔ ابھی انڈیا کے یوم جمہوریہ پر چینی صدر شی نے خیر سگالی کا جوپیغام ارسال کیا اس میں اس خواہش کو بیان کیا کہ ڈریگن اورہاتھی ساتھ رقص کریں ۔ دنیا عالمی تعلقات کو ہر ممکنہ پہلو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دیتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے قبل کہ کسی بھی وجہ سے دنیا میں پھر کوئی سرد مہری آئے ۔ وزیر اعظم ، نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو مل بیٹھ کر ہر ممکنہ پہلو چاہے مثبت ہو یا منفی کو سامنے رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کو تشکیل دینا چاہئے اور ہر خطرے کو نیوٹرل کرنے کا فارمولا دستیاب ہونا چاہئے کیوں کہ ندا فاضلی نے بہت درست کہا ہے کہ’کوئی منظر سدا نہیں رہتا ‘

تازہ ترین