سیاحت ،ثقافت،آثار قدیمہ گئے وقت ،گزرتے وقت اور آتے وقت کو یکجا کر دیتے ہیں۔ یہ محکمے کسی ایک جواں سال، جواں عزم کو سربراہی کیلئےمیسر آ جائیں تو اس علاقے کو ایک اچھا وقت نصیب ہو جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں وقت سے پہلے نہیں نصیب سے زیادہ نہیں ۔ہم موہن جو ڈرو میں ایک صدی سے زیادہ عمر کے درخت تلے بیٹھے ہیں ۔ہمارے آس پاس سے صدیاں آ جا رہی ہیں۔ ہمارا مستقبل ہمارے بچے بچیاں مختلف اسکولوں کے نئے نئے لباسوں میں پرانے زمانے دیکھنے آ رہے ہیں کئی سو میل دور بیٹھے کراچی میں ہم یہ تصور نہیں کر سکتے تھے۔ یہی خیال کرتے تھے کہ یہ آثار قدیمہ ،انسانوں کی آمد کو ترستے ہوں گے۔ بہت خوشی ہو رہی ہے کہ والدین اپنی اولادوں کو سکولوں کے منتظمین اپنے طلبہ و طالبات کو لے کر اپنا ماضی دیکھنے آ رہے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا تاریخ سے ہمارے رابطے توڑ دیتا ہے۔ بلوچستان سے خون کی مہک اسکرین پر پھیلتی نظر آرہی ہے کاش ایسے مناظر دیکھنے کو نہ ملتے۔ پاکستان اپنے 79 ویں سال میں داخل ہونے والا ہے۔ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک کر رہا ہے فلسفہ، تاریخ، نفسیات، شہریت، مطالعہ پاکستان،سوشل سائنسز سب ہماری بے بصیرتی کے سامنے عجز کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکون یکجہتی پائیدار امن کے قیام میں ہم من حیث القوم ناکام ہو رہے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کو سرحدوں پر غیر ملکی دشمنوں سے مقابلے کے بجائے اپنے ہی ہم وطنوں کی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تاریخ میں بار بار ہمیں کہا گیا کہ فوجی کارروائی کسی مسئلے کا دائمی حل نہیں ہوتی۔مسئلے سماجی اور سیاسی مکالمے سے ہی منطقی طور پر ختم ہوتے ہیں۔ قلم قافلے میں ناول نگار ہیں ۔افسانہ نویس، خبر لکھنے والے، شاعر، ایڈیٹرز،ویلاگرز، کالج اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز خواتین و حضرات۔ حکومت سندھ کے سیاحت ثقافت اور آثار قدیمہ کے وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر ہمارا خیر مقدم کرنے آئے ہیں یہ ان کا ہی عزم ہے کہ سندھ کی کئی ہزار سالہ تاریخ رنگا رنگ ثقافت اور متنوع تمدن سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے اس قافلے میں کچھ خاندان باقاعدہ سفری ادائیگی کر کے شریک ہوئے ہیں۔ اپنی جڑیں دیکھنے پاک سرزمین کے 5 ہزار سال پرانے گوشے دیکھنے کی تمنا پوری ہو رہی ہے ۔وہ امریکہ کینیڈا یورپ کے شہروں میں ایسی سفاری ٹرینوں سے سفر کرتے رہے ہیں۔ جہاں یہ مسافت بہت محفوظ ماحول میں طے ہوتی ہے۔ وہ خوش ہیں کہ اپنے وطن میں بھی تمام نامساعد حالات اورحکمرانوں کی خود غرضی کے باوجود ایسا موقع مل رہا ہے، ان کے ارادے یہ ہیں کہ اگر ان کی سفاری معلومات افزا رہتی ہے تو وہ سمندر پار بسے اپنے بیٹوں بیٹیوں پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں کو بھی دکھائیں گے کہ جب یورپ کئی ہزار سال پہلے تاریک دور سے گزر رہا تھا ۔اس وقت موہنجو ڈرو میں نکاسی آب ڈھکی نالیوں سے ہوتا تھا بڑے بڑے حمام تھے مکانوں کے نقشے انجینئرنگ کا شاہکار تھے۔ موہنجوڈرو کو یونیسکو نے تاریخی ورثہ قراردیا ہے۔ یونیسکو کی خواہش بھی یہ ہے کہ انسان کی قبل از مسیح دور کی رہائش، تاریخ، بازار، پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو 21ویں صدی کے جدید ترین ماحول میں سامنے لائیں۔انسانی تاریخ کا ارتقا محفوظ ہو۔جینے کے طریقے بالترتیب آج کے انسان کے پیش نظر ہوں ۔بلوچستان کی خبریں سوشل میڈیا پر بڑھ رہی ہیں بہت مشکل ہوتی ہے کہ کیسے معلوم ہو کون سی خبر سچی ہے کون سی جھوٹی۔ بتایاجا رہا ہے کہ177ہلاکتیںہو چکی ہیں۔خدایا رحم کر پاکستانیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ اب تو مصنوعی ذہانت آ چکی ہے آپ کے تخیل آپ کے ذہن میں جنم لیتے فتنے، سازشیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ جبر کرنے والے جبر سہنے والے دونوں مصنوعی ذہانت سے کام لے رہے ہیں۔ مگر مصنوعی ذہانت قدرتی ذہانت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کیسے ممکن ہوا کہ یہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں بیک وقت کئی مقامات پر وارداتیں کر رہی ہیں۔ یہ انتظامی خلابھی ہے اس سے کہیں زیادہ سیاسی فقدان۔موہنجو ڈرو سے کچھ ہی دور المرتضیٰ میں رہنے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو "آزادی موہوم" میں پھر" عظیم المیہ" میں بار بار لکھتے رہے کہ فوجی کارروائی کم مدت کی ہونی چاہیے مسائل کا پائیدار حل سیاسی کارروائی سے ہی ممکن ہے۔ یورپ والے ایسے کتنے المیوں سے گزرے لیکن اب وہاں ایک سکون ہے ۔افریقہ میں روانڈا اس کی بہترین مثال ہے کہ وہاں ایک دوسرے سے متحارب قبیلے اب اپنے ملک کی ترقی اور سکون میں ایک دوسرے کا سہارا بن رہے ہیں۔ فیض یادآرہے ہیں "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے " سندھ نے قیام پاکستان پھر استحکام پاکستان، جمہوریت کی بحالی، آمریت کی مزاحمت کیلئے جتنی قربانیاں دی ہیں۔ وزرا ئےاعظم کے مرتبے کے لوگ اپنی جانیں نثار کر گئے۔ لیکن سندھ کے لوگوں کو ان عظیم قربانیوں کا ثمر نہیں ملا۔وہ اسی طرح بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ۔یہ ہم سب اپنی آنکھوں سے بھی اس ٹرین کے سفر میں دیکھتے آئے ہیں ۔سندھ نے بر صغیر کے شورش زدہ علاقوں سے آنے والوں کی جس طرح 1947 کے عشرے میں پذیرائی کی۔ اسے کون بھول سکتا ہے پیر الہٰی بخش بار بار یاد آتے ہیں۔ مگر یہ قربتیں اور ہم آہنگی کچھ سماج دشمنوں اور قبضہ گیروں کو پسند نہیں آتی وہ کوئی سانحہ ہو سماج کی یکجہتی میں دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔ آزادی صرف سرکاری اعلان سے حاصل نہیں ہو جاتی ۔موہنجو ڈرو کا یہ قدیم پیڑ خوش ہو رہا ہے کہ مختلف عمروں کے خواتین اور مرد سندھ کی مہمان نوازی کو یاد کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی محرومی پر افسردہ ہیں۔ آزادی ایک دوسرے کا احترام بھی مانگتی ہے۔ کوئی کسی کا غلام نہیں ہے ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم نے 1973 کے آئین کی وفاقی روح دوبارہ پھونکنے کی کوشش کی ۔سیاحت صوبوں کے اختیار میں آگئی۔ اب سارے صوبوں میں سیاحت کے فروغ کیلئے کارپوریشنیں فعال ہیں۔ سندھ سیاحتی ترقیاتی کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر سید فیاض علی شاہ پیشہ ورانہ انداز میں مینج کرنا بھی جانتے ہیں اور ڈائریکشن دینا بھی۔ سیاحت ایک راستہ ہے صدیوں سے اجنبی معاشروں میں جھانکنے کا تہذیب کے سفر کو دیکھنے کا مختلف زبانوں کے اعلیٰ ادب سے اور مختلف سماجوں کے مزاج سے واقف ہونے کا ۔پاکستان میں تو ہر قسم کی سیاحت کے بھرپور امکانات ہیں ۔ سندھ میں تو آپ کو بیک وقت پانچ سات ہزار سال کے سماجی منظر نامے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔گورکھ ہل سندھ کا مری ہے۔ہم فانی ہیں ہماری خواہشات بہت محدود ذہن بہت تنگ دل بہت چھوٹے ہیں مگرسندھ کی سرزمین بہت فراخ دل خوشیاں بانٹنے والی۔اے خدائے بزرگ و برتر ہم سب کو سندھوندی سی روانی ،موہنجو ڈرو سی استقامت،سیہون کے پہاڑوں جیسا ٹھہراؤ، فصلوں جیسی ہریالی عطا فرما ۔آمین