یہ ایک مسلسل دھوکے کی کہانی ہے۔ سرینگر کے ساتھ یہ دھو کہ شہنشاہ اکبر نے شروع کیا تھا۔ اکبر کسی نہ کسی طرح کشمیر کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اسکی خواہیش تھی کہ سرینگر میں اسکے نام کا خطبہ پڑھا جائے لیکن سرینگر کا تخت یوسف شاہ چک کے پاس تھا جسکی حکومت جموں سے لیکر لداخ تک پھیلی ہوئی تھی۔ یوسف شاہ چک کے بزرگ گلگت سے آکر سرینگر میں آباد ہوئے تھے۔ شہنشاہ اکبر نے 1585ء میں سرینگر پر حملہ کیا تو یوسف شاہ چک نے مغل فوج کو بارہ مولا میں روک لیا۔ دونوں اطراف کا بھاری جانی نقصان ہوا جس کے بعد دونوں فوجوں میں مذاکرات شروع ہوئے۔ اکبر نے یوسف شاہ چک کو ملاقات کا پیغام بھیجا۔ چک کی شاعرہ اہلیہ حبہ خاتون نے اپنے خاوند کو اکبر کے پاس جانے سے منع کیا اور کہا کہ اکبر آپ کے ساتھ دھوکہ کرے گا۔ یوسف شاہ چک کا خیال تھا کہ اکبر هندوستان کا بادشاہ ہے اور اتنا بڑا بادشاہ اسکے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتا۔ یوسف شاہ چک کے کچھ وزراء نے بھی مشورہ دیا کہ اکبر کے دربار میں حاضری دینے سے بہتر ہے کہ مزاحمت کی جائے لیکن یوسف شاہ چک خون خرابے سے بچنا چاہتا تھا۔ وہ امن کی اُمید لیکر شہنشاہ اکبر سے ملنے اٹک پہنچ گیا۔ اٹک میں شہنشاہ اکبر نے دغا بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مہمان کو گرفتار کرلیا۔ یوسف شاہ چک دو سال تک مختلف جیلوں میں رہا۔ پھر اُسے راجہ مان سنگھ کی نگرانی میں بِہار بھیج دیا گیا جہاں 22 ستمبر 1592ء کو یوسف شاہ چک کا انتقال ہوگیا۔ اُس کا جسد خاکی واپس سرینگر بھیجنے کی بجائے بِہار کے ایک گاؤں بسواک میں دفن کردیا گیا۔ بعد میں ریاست جموں و کشمیر پر سکھوں نے قبضہ کرلیا۔ سکھوں نے یہ ریاست انگریزوں کو سرنڈر کی اور انگریزوں نے جموں و کشمیر کو 1846 ء میں راجہ گلاب سنگھ کو بیچ دیا۔ 1947ء میں متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک اور دھوکہ کیا اور ریاست جموں و کشمیر پر دہلی کا قبضہ کرانے کی ایک سازش تیار کی۔ اس سازش کے تحت پہلے تو انگریز سرکار نے پنجاب کا ایک مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور بھارت کے حوالے کردیا تا کہ بھارتی فوج کو ریاست جموں و کشمیر تک پہنچنے کیلئے زمینی راستہ مل جائے۔ پھر اس راستے سے آر ایس ایس اور مہاراجہ پٹیالہ کی فوج جموں میں داخل ہوئی اور مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا۔ ردعمل میں پختون قبائل نے مظفر آباد کے راستے سرینگر پہنچنے کی کوشش کی اور یوں پہلی پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں جب بھارت کی پوزیشن کمزور ہوئی تو بھارتی وزیراعظم نہرو بھاگا بھاگا اقوام متحدہ پہنچا اور اُس نے جنگ بندی کیلئے فریاد کی۔ اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعہ دونوں ممالک میں جنگ بندی کروا دی اور یہ وعدہ بھی لیا کہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے ہوگا۔ نہرو نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کرنے کی بجائے ریاست جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کیلئے شیخ عبدالله کو استعمال کیا ۔ بھارتی حکومت نے شیخ عبداللہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسکے تحت بھارتی آئین میں دفعہ 370 شامل کی گئی۔ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی اور اُسے اپنا آئین اور جھنڈا رکھنے کی اجازت دی گئی۔ بھارتی آئین میں ایک اور دفعہ 35 اے بھی شامل کی گئی جسکے تحت غیرمقامی افراد کو جموں و کشمیر میں جائیداد خریدنے سے منع کردیا گیا۔ جس طرح شہنشاہ اکبر نے یوسف شاہ چک کے ساتھ دھوکہ کیا تھا اُسی طرح نہرو نے بھی شیخ عبد اللہ کے ساتھ دھوکہ کیا ۔ 1953 ء میں شیخ عبد اللہ کو وزارتِ عظمی سےہٹا کر گرفتار کر لیا گیا ۔ گیارہ سال کی قید کے بعد اُسے 1964 میں رہا کیا گیا جسکے بعد اس نے دہلی کی مکمل غلامی اختیار کر لی ۔
15 اگست 2019 ء کو بھارتی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35اے کو معطل کر دیا اور کشمیریوں کے ساتھ ایک اور دھوکہ کر کے اس موقف کو تقویت دی کہ دہلی ناقابل اعتبار ہے ۔ دہلی کے دھوکوں سے تنگ آکر کشمیریوں نے اپنی تحریک آزادی شروع کی جسے بھارت دہشت گردی کہتا ہے ۔ بھارت کا بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کے آزادی پسندوں کی حمائت کرتا ہے اس لئے دہلی بلوچستان میں آزادی مانگنے والوں کی حمائت کرتاہے ۔ یہ بیانیہ تاریخی لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ کشمیر کی حالیہ تحریک آزادی قیام پاکستان سے قبل شروع ہوئی تھی۔ آج بھی کشمیری اپنا یوم شہداء 13 جولائی کو مناتے ہیں ۔ یہ یوم شہداء 13 جولائی 1931 ء کو سرینگر میں ڈوگرہ پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 22مسلمانوں کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ 13 جولائی 1931 ء کو شہید ہونے والوں کی قربانیوں سے 14 اگست 1931 ء کو کشمیر کی تحریک آزادی نے جنم لیا اور اس تحریک آزادی کا اعلان تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبال نے کیا تھا۔ سرینگر میں 22 مسلمانوں کی شہادت پر مولانا عبد المجید سالک نے ایک نظم لکھی تھی جو روزنامہ انقلاب لاہور میں شائع ہوئی ۔ اس نظم کے اشعار آج بھی بڑے مشہور ہیں۔
تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
9 اگست 1931 ء کو لاہور میں علامہ اقبال کی صدارت میں کشمیر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 14 اگست 1931 ء کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جائیگا۔ 14 اگست 1931 ء کو باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں صدر جلسہ علامہ اقبال نے کشمیر کی تحریک آزادی کا پہلی دفعہ اعلان کیا ۔ 13 جولائی اور 14 اگست کے درمیان یہ تعلق 1931 میں قائم ہوا تھا ۔ اس تعلق کی بنیاد ظلم کے خلاف مزاحمت ہے اور یہ مزاحمت دہلی کے مسلسل دھوکوں کا رد عمل ہے ۔ کانگریسی قیادت اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ اور دھوکوں کے رد عمل میں تحریک پاکستان شروع ہوئی تھی۔14 اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوا ۔ پاکستان میں5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے ۔ 5 فروری کو یوم کشمیر دراصل اُس عزم کی تجدید ہے جسکا اظہار 14 اگست 1931 ء کو علامہ اقبال نے کیا تھا ۔ ایک طرف دہلی کے دھوکوں کی تاریخ ہے دوسری طرف کشمیریوں کی قربانیوں اور جہد مسلسل کی تاریخ ہے۔یوسف شاہ چک کو موت کے بعد بِہار میں دفن کر دیا گیا ۔ کشمیری حریت پسندوں مقبول بٹ اور افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی کے بعد وہیں دفن کر دیا گیا ۔ آج دہلی کی تہاڑ جیل میں یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمت کئی کشمیری رہنما قید ہیں اور دہلی سرکار انہیں شیخ عبداللہ بنانے میں ناکام ہے ۔ یہ جیلیں کشمیر کی تحریک آزادی ختم نہیں کر سکتیں ۔ ان جیلوں میں قید رہنما کشمیریوں کے ہیرو اور دہلی کا جیلر کشمیریوں کا ولن ہے ۔ 5 فروری دہلی کے دھوکوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے اعلان کا دن ہے۔