• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انقرہ: یومِ یکجہتی کشمیر پر ترکیہ کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعلان

سفارتخانہ پاکستان، انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایک باضابطہ اور پُروقار تقریب منعقد کی گئی، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ اور ان کی جائز جدوجہد کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل وابستگی کا اظہار تھا۔

تقریب میں پاکستان، ترکیہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان  علی شاہین، ترک پارلیمان کے ارکان برہان قایا ترک اور مصطفیٰ قایا، سیسرک (SESRIC) کی ڈائریکٹر جنرل زہرا زُمرت، انقرہ کے نائب گورنر اسماعیل گل تیکن، ممتاز سابق سفارت کاروں، تزویراتی و عسکری ماہرین، نیز میڈیا، تھنک ٹینکس، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شاہین نے حالیہ دہشت گرد حملوں میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ضمیر کا ایک بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا منصفانہ اور پُرامن حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی اصولی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

ترک پارلیمان کے رکن برہان قایا ترک نے یاد دلایا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کا اقوامِ متحدہ نے وعدہ کیا تھا اور خود بھارتی قیادت نے بھی اسے تسلیم کیا تھا، مگر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔

دیگر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔

مقررین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

اپنے اختتامی خطاب میں پاکستان کے سفیر برائے ترکیہ، ڈاکٹر یوسف جنید نے کشمیری کاز کے لیے ترکیہ کی مستقل، اصولی اور دوٹوک حمایت پر حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔

انہوں نے جموں و کشمیر تنازع کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بالخصوص 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی۔

سفیرِ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے حالیہ فیصلے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس کے خطے میں امن، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر، عالمی برادری کے لیے انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا ایک اہم امتحان ہے اور کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلائے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

قومی خبریں سے مزید