• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کالم میں ذوالفقار علی بھٹو کے ملک کیلئےسرانجام دئیے گئے اہم کارناموں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کالم میں بھی بھٹو صاحب اور ان کے خاندان خصوصاََ بے نظیر بھٹو کے مزید کارنامےاور ملک کیلئے ان کی خدمات بیان کی جائیں گی ۔ بھٹو صاحب نے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک کی کچھ بڑی صنعتوں اور اداروں کو نیشنلائز کیا کیونکہ اس وقت یہ صنعتیں اور ادارے فقط اپنے مالکوں کا پیٹ بھر رہی تھیں۔ اس وقت ان صنعتوں اور اداروں سے ملک کی معیشت کو برائے نام فائدہ ہورہا تھا۔ان صنعتوں اور اداروں میں مزدور یونین بنانے کی ہمت افزائی کی گئی اور مزدوروں کی تنخواہوں وغیرہ میں بھی کسی حد تک اضافہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھٹو صاحب نے مزدوروں اور کسانوں کی کافی ہمت افزائی کی وہ اکثر ملک کے مختلف حصوں میں مزدوروں اور کسانوں کے اجتماعات میں جاکر ان سے خطاب کرتے اور ان کیلئے کئی مراعات کا اعلان بھی کرتے ۔ اسی وجہ سے بھٹو مزدوروں، کسانوں اور کچھ دیگر نچلے طبقوں کے لوگوں میں کافی مقبول تھے۔

بھٹو صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ پاکستان کو ایک وفاقی اور عوامی آئین دیا ورنہ اس سے پہلے پاکستان ایک بے آئین ملک تھا جہاں ملک مارشل لائوں کی گرفت میں ہوتا تھا یا کسی اور قسم کی ڈکٹیٹر شپ کے قبضے میں ہوتا تھا۔ اب عام انتخابات بھی ہونے لگے اور مرکز و صوبوں میں منتخب حکومتیں قائم کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ جہاں تک مزدوروں اور کسانوں کیلئے اعلان کی گئی مراعات کا تعلق ہے تو بھٹو صاحب نے غریب لوگوں کیلئے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا جو ملک بھر میں بہت مقبول ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب تک ملک کے وزیر اعظم رہے ان کے دنیا کے کئی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے۔ان میں خاص طور پر چین کے سربراہ مائوزے تنگ، وزیر اعظم چواین لائی اور وزیر خارجہ مارشل چنئی شامل تھے۔اس کے برعکس امریکہ کے سربراہ بھٹو کے سخت خلاف تھے۔ایک بار امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کے دورے پر آئے اور بھٹو سے ملاقات کے دوران انہوں نے امریکی صدر کی طرف سے کئی دھمکیاں بھی دیں مگر بھٹو گھبرائے نہیں اور اپنی حکمت عملی پر علی الاعلان عمل کرتے رہے۔ بھٹو کے مسلم ممالک کے کئی رہنمائوں سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ان میں لیبیا کے کرنل قذافی، شام کے صدر حافظ الاسد، انڈونیشیاکے سوئیکارنو، سعودی عرب کے شاہ فیصل وغیرہ شامل تھے۔ایک بار جب شام کے صدر حافظ الاسد سربراہ تھے تو اسرائیل شام کی ایک پہاڑی جو شام کے قریب تھی اس پر قبضہ کرنا چاہتا تھا جب بھٹو کو اس حملے کا پتہ چلا تو انہوں نے پاکستان کے جنگی جہازوں کا ایک دستہ شام بھیج دیا۔ پاکستان کے جنگی جہازوں نے اسرائیل کے جنگی جہازوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔

بھٹو کے ان کارناموں کی وجہ سے بھٹو پوری عرب دنیا میں بہت عزت سے دیکھے جاتے تھے۔جب جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا میں بھٹو کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنایاگیا تو بھٹو کو اس وقت عرب دنیا کے ایک انقلابی رہنما کا پیغام موصول ہوا جسکے ذریعے انہوں نے کہا کہ بہت جلد ان کی انقلابی پارٹی کے تین چار جنگی جہاز پاکستان آئیں گے اور رات کے وقت اس جیل پر حملہ کریں گے جہاں آپ قید ہیں اور آپ کو آزاد کراکے ہمارے پاس لے آئیں گے۔اس پیغام کے جواب میں بھٹو نے یاسر عرفات کا بہت شکریہ ادا کیا مگر اس طرح جیل سے بھاگنے سے انکار کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے جواب میں کہا کہ میں جیل سے بھاگ کر پاکستان سے باہر آنے کیلئے تیار نہیں اور کہا کہ ضیاء الحق کا مارشل لا ان کے خلاف جو کرنا چاہتا ہے کرنے دو وہ آخری دن تک پھانسی کی سزا کا مقابلہ کریں گے اور نہ بھاگیں گے اور نہ معافی مانگیں گے۔

یہ بات بھی کم اہم نہیں کہ جہاں بھٹو نے مارشل لاکے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اسی طرح ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو جب پاکستان کی وزیر اعظم بنیں تو وہ بھی بھٹو صاحب کی طرح کارنامے سرانجام دیتی رہیں اور اسی طرح قربانیاں دینے کیلئے بھی تیار رہیں۔یہی کردار ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کا بھی رہا۔ اسی طرح نہ فقط ذوالفقار علی بھٹو بلکہ ان کی بیٹی اور بیٹے نےبھی ایسی ہی تاریخ لکھی۔ سچی بات یہ ہے کہ بیگم نصرت بھٹو کا کردار بھی ان سے مختلف نہیں تھا۔ شہید بے نظیر بھٹو کی قربانیوں سے سب آگاہ ہیں مگر شہید بے نظیر بھٹو کا ایک انتہائی شاندار کارنامہ ایسا ہے جوشایدبہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا۔ بھٹو صاحب نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اس سے تو نہ صرف سارا ملک ساری دنیا ہی باخبر ہے مگر اس ایٹمی طاقت کو عملی شکل بے نظیر بھٹو نے دی ۔ جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں تو وہ کوریا گئیں جہاں سے وہ ایٹم بم کو استعمال کرنے کیلئے ٹیکنیکل سسٹم لے آئیں۔اس کے بعد اب پاکستان جہاں چاہے ایٹم بم گراسکتا ہے۔

حال ہی میں جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے اس ٹیکنیکل سسٹم کے ذریعے ہندوستان پر جوابی حملہ کیا اور ہندوستان کو بھاگنے پر مجبور کردیا ۔ بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیاء کے مارشل لاکا بھی انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا اور ہمت نہیں ہاری۔ ملک و قوم کےلئےبی بی کی مزید خدمات اور قربانیوں کا ذکر آئندہ کالم میں کروں گا۔

تازہ ترین