لاہور میں آج بسنت ہے۔ گلی کوچوں میں خوشیوں کے رنگ بکھریں گے۔ گھروں کی چھت پر لڑکے بالوں کی آواز میں مسرت اور جشن کا راگ سنائی دے گا۔ رنگ رنگ کے پکوان کا اہتمام ہو گا۔ نوجوان دلوں میں امنگیں جاگیں گی۔غالب گمان ہے کہ انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی طور پر لاہور میں اس تہوار کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ تجربہ کامیاب ہوا تو پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی اس کی اجازت مل سکے گی۔ لاہور اور پنجاب ہی کیوں؟۔ ہم تو گوادر سے طورخم تک اور صادق آباد سے کوہاٹ تک ، پاکستان کے ہر شہر کے لیے ایسی ہی خوشیوں کی دعا کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر بسنت لاہور سے مخصوص نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی مذہبی تشخص ہے۔ تاریخ کی باتیں اپنی جگہ ، ایک ذاتی تجربہ عرض کرتا ہوں۔ مجھے پتنگ اڑانا نہیں آتی۔ محتاط طبیعت پائی ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارا ٹیٹوریل بخاری آڈیٹوریم میں معاشیات کے ایک استاد کے سپرد تھا۔ قبلہ گاہی کا لب و لہجہ نرم اور شائستہ تھا۔ طبیعت میں قدامت پسندی کا رنگ نمایاں تھا۔ تاہم کمرہ جماعت میں ہمیں بات کہنے کی آزادی تھی۔ انہوں نے پتنگ بازی کے کچھ نقصانات بیان کیے۔ ایک دبلے پتلے گہرے سانولے لڑکے نے ہاتھ کھڑا کیا ۔استاد محترم نے کشادہ دلی سے اشارہ کیا کہ بات کیجئے۔ نیازمند کھڑا ہوااور عرض کی کہ پتنگ ایک خوش رنگ پرندہ ہے جس کی پرواز کم عمر بچوں کی انگلیوں کے اشارے پر فضاؤں میں خرام کرتی ہے۔ استاد کی مسکراہٹ میں خندہ کی لکیر کچھ اور بڑھ گئی۔ فرمایا۔ ’دیکھئے اب یہ بھی چیزوں کو دیکھنے کا ایک رنگ ہے‘۔ نیازمند کبھی پتنگ نہیں اڑا سکا لیکن استاد کی شفقت سے زندگی بھر کے لیے پرواز کا حوصلہ نصیب ہو گیا۔ استاد کا یہی منصب ہے۔
برصغیر کی گرم مرطوب آب و ہوا میں سردی کا موسم طبیعت میں کسی قدر بندش کا احساس پیدا کرتا ہے۔ صدیوں سے موسم سرما کے اختتام پر سرسوں پھولتی ہے توبہار کی آمد سے بدن میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔خوشی جاگتی ہے۔ اہل ہند اسے اچھا شگون سمجھ کے سرسوں کے پھول ہاتھوں میں پکڑکرگاتے بجاتے مندروں اور استھانوں کا رخ کرتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں میںیہ تہوار تیرہویں صدی میں حضرت نظام الدین اولیاؒ اور ان کے ترک ابوالحسن امیر خسرو (محمد کاسہ لیس )کے وسیلے سے داخل ہوا۔ حضرت نظام الدین کو اپنے بھانجے مولانا تقی الدین سے بے انتہا محبت تھی۔ ادھر بھانجے کا یہ عالم تھا کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے کہ ان کی زندگی بھی ان کے بزرگ نظام الدین اولیا کو مل جائے تاکہ ان کا فیض جاری رہے۔ دعا کو اثر سے کوئی نسبت ہو گی۔ تقی الدین نوجوانی میں چل بسے۔ حضرت نظام کو اس قدر صدمہ ہوا کہ خورونوش سے دل اٹھ گیا حتیٰ کہ وہ راگ سننا بھی موقوف کر دیا جو انہیں بہت پسند تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔ ایک روزحضرت نظام نے اپنے رفیقوں کے ہمراہ دہلی میں تالاب کی سیر کا ارادہ کیا۔ قافلہ چلا اور امیر خسرو کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ یہی بسنت پنچمی کے دن تھے ۔ امیر خسرو نے دیکھا کہ ہندو سرسوں کے پیلے پھولوں کے گچھے اٹھائے گاتے ناچتے مندروں کو جاتے ہیں۔ خیال آیا کہ میں بھی اپنے مرشد کا جی بہلاؤں۔ اپنی دستار مبارک کھول کر گردن پر لٹکا لی۔ کچھ پیچ دائیں اور کچھ پیچ بائیں لہرائے۔ سرسوں کے پھول اپنے خرقہ مبارک پر سجا لیے اور تالاب کی طرف جہاں مرشد تشریف فرما تھے ،یہ گاتے ہوئے چلے۔ اشک ریز آمدہ است ابرِ بہار۔اُدھر مرشد مضطرب تھے کہ ہمارا ترک کہاں رہ گیا۔ اچانک دیکھتے ہیں کہ امیر خسرو عالم کیف میں گاتے اور جھومتے چلے آرہے ہیں۔ خسرو کے ُسروں نے عجیب اثر کیا ۔ اُدھر مرشد پر نگاہ پڑتے ہی خسروکی آنکھ سے آنسو رواں ہو گئے۔ حضرت نظام نے گریبان چاک کر ڈالااور گلے میں باہیں ڈال دیںاور امیر خسرو کا شعر مکمل ہو گیا ۔ اشک ریز آمدہ است ابرِ بہار / ساقیا گل بریز بادہ بیار۔اس کے بعد سے مسلمانوں میں بھی بسنت کا تہوار شروع ہو گیا۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا نے راگ سننا شروع کر دیا۔ ہونٹوں پر تبسم لوٹ آیا۔
لاہور کی تاریخ کے مستند راوی سید محمد لطیف نے 1892 میں لکھا کہ بسنت پر مہاراجہ ، اس کی فوج اور عوام و خواص بسنتی پوشاک اوڑھتے تھے۔ سید لطیف سے پہلے 1832 میں یورپین سیاح ڈاکٹر برنزنے اپنی ڈائری میں لکھا ۔ ’6فروری 1832 کو بسنت کا تہوار تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ان کے رفیق ہاتھیوں پر سوار ہو کر میلہ دیکھنے نکلے۔ مہاراجہ نے پیلے کپڑوں میں ملبوس فوج کے دستوں سے سلامی لی۔ مہاراجہ کا قافلہ پرانے کھنڈرات سے گزرتا اس میدان تک پہنچا جہاں شاہی خیمے نصب تھے۔ خوبصورت لڑکیوں نے بسنت کے گیت گائے اور مہاراجہ نے اپنی فیاضی کے جوہر دکھائے‘۔ کنہیا لال نے بھی ’تاریخ لاہور‘ میں بسنت کا تفصیل سے احوال لکھا ہے۔
قریب اٹھارہ برس کی بندش کے بعد لاہور میں بسنت کا احیا ایک خوشگوار اقدام ہے۔ اس بیچ ہم پہ کیا کیا وقت نہیں گزرا۔ ہم نے دہشت گر د دھماکوں اور ریاستی بیانیے کے بھاری پتھر تلے جنازے اٹھائے ہیں۔ ہم محروم الارث تھے اور پھر محروم الارض ہوئے۔ ہمارے مکالمے کا دہن بگڑا ۔ ہمارے بچوں کے تخلیقی ذہن بنجر ہوئے۔ ہماری تہذیب بانجھ ہوئی ۔ ہماری تاریخ چھن گئی۔ عظیم پنجابی گائیک طفیل نیازی سلسلہ چشتیہ میں بیعت تھے۔ چشتیہ سلسلے میں اقبال کے اس خواب کی جھلک ملتی ہے جہاں انہوں نے ’دلوں کی کشاد ‘کا خواب دیکھا تھا۔ طفیل نیازی کے مرشد کا ارتحال ہواتو وہ جنازے کے آگے ہارمونیم گلے میں لٹکائے گا رہے تھے۔ ’مینوں مرشد گل نال لا لوے، میلہ تے وچھڑیاجاندا‘۔ طفیل نیازی سے بہت بعد آنے والے پنجابی زبان کے ایک تیسرے درجے کے گمنام شاعر نے اپنا خواب بیان کیا تھا۔
کدے پہرہ اٹھ جائے گلیاں چوں
کتے دس پوے سُر ماہیے دی
اسیں ڈھول نوں سر تے چائیے
لہور سجائیے
ٹیشن جائیے