• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سات سال پہلے نوشکی نے خبردار کیا تھا‘‘

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔ یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا ۔ شہیدوں کے خون کی خوشبو اب صرف سرحدوں پر نہیں پھیلتی اب اندرون وطن بھی شہادتیں ہوتی ہیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے اور تبادلہ خیال کا دن۔ اور نماز عصر کے بعد میری آپ سے محلے داری کی گزارش ہوتی ہے۔

بلوچستان میں ہمارا آنا جانا سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ہی زیادہ ہوا۔ رقبہ بہت زیادہ ہے آبادی بہت کم۔ اسلئے مستقبل بلوچستان کا ہی ہے۔ جہاں معدنی خزانے، متبادل انرجی موجود ہے۔ مستقبل یہاں کے بہادر غیور لوگوں کا ہی ہے۔ جو یہاں صدیوں سے رہتے ہیں۔ خان آف قلات نواب احمد یار خان یاد آرہے ہیں۔ میر غوث بخش بزنجو، نواب محمد اکبر خان بگٹی، میر ہاشم غلزئی، قاضی محمد عیسیٰ، جام غلام قادر آف لسبیلہ، خان عبدالصمد اچکزئی، نواب غوث بخش رئیسانی، طاہر محمد خان، محمد خان بارو زئی، گل خان نصیر، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ۔ یہ ہماری تاریخِ جمہوریت کے درخشندہ ستارے ہیں۔ شعر و ادب میں عطا شاد، محمد حسین عنقا، خدا بخش مری، قاضی مبارک کیا عظیم پاکستانی تھے۔ پنجگور کے امان اللہ گچکی جو اب بحریہ ٹاؤن میں مقیم ہیں۔ اور بہت ہی درد مند پاکستانی اسلم بھوتانی کا اپنا مزاج ہے۔ یہ میری خوش قسمتی کہ صحافی ہونے کے ناطے ان سب سے بہت صحبتیں رہی ہیں۔ بلوچستان کا سیاسی عمرانی اور مدنی شعور بہت بلند ہے۔ ان اکابرین کے علاوہ نئی نسل کے سرکشوں سے بھی تبادلہ خیال بہت ولولہ انگیز رہتا ہے۔ گفتگو کتنی بھی تلخ ہو بلوچ اور پشتون نوجوان کا لہجہ کبھی کڑوا نہیں ہوتا۔ اپنے حقوق اور اصولوں کیلئے یہ نوجوان بہت اعتماد سے بات کرتے ہیں۔ کارل مارکس انہوں نے پڑھا ہوتا ہے۔ تجدید پسندوں سے بھی انہیں آگاہی ہے۔ کتاب میلے سب سے زیادہ بلوچستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہی لگتے ہیں۔ کراچی لاہور کے پبلشرز تو کتاب میلوں کی آمدنی چھپاتے ہیں مگر گوادر، پشین، تربت، نوشکی، پنجگور، قلات کے کتب فروش بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ کس میلے میں کتنے روپے کی کتابیں بکیں۔

بلوچستان کی لائبریریوں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ نوجوان بیٹے بیٹیاں انتہائی انہماک سے مطالعے میں مصروف ہوتے ہیں۔ بلوچستان کی مرکزی سرکاری لائبریری جسے قائد اعظم سے موسوم کیا گیا ہے وہاں دروازے کھلنے سے پہلے ہی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اسکی تصویر وائرل ہوئی تو ایک وفاقی بیوروکریٹ نے کہا ملازمت کیلئے انٹرویو ہو رہے ہونگے۔ ورنہ بلوچ نوجوان یوں صف بند کیوں ہوتے۔ یہ ہماری بیوروکریسی کا خصوصی مزاج ہے جو چھوٹے صوبوں کے نوجوانوں کے بارے میں پختہ ہو چکا ہے۔ یہ سب نوجوان کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ادبی رسالے، کتابیں ان لائبریریوں میں ہی پڑھنے جاتے ہیں۔ ہم نے ماہنامہ اطراف میں مختلف اوقات میں مضمون نویسی کے مقابلے کروائے۔ ایک بار بلوچستان کے کالجوں یونیورسٹیوں سے ملنے والی تحریروں کے انعامات کوئٹہ میں تقسیم کئے۔ دوسری بار لورالائی میں۔ ژوب، گوادر،تربت، قلعہ سیف اللہ، پشین، نوشکی اور دور دراز سے مضامین موصول ہوئےبہت خوبصورت اردو میں ۔

بلوچستان ہمارا جگمگاتا مستقبل ہے۔ ہمارا معدنی خزانہ ہے۔ ہمارا روشن دماغ ہے۔ بلوچی، براہوی میں بہت معیاری شاعری ہو رہی ہے۔ لازوال کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ آغا گل کی اردو کہانی کا تو پورے جنوبی ایشیا میں چرچا رہتاہے۔ منیر بادینی ایک سینئر بیوروکریٹ ہیں انہوں نے سو سے زیادہ ناول لکھے ہیں۔ لٹریری فیسٹیول کوئٹہ میں ہی نہیں جن دور دراز شہروں میں ہوتے ہیں بہت کامیاب رہتے ہیں۔ اہم تحقیقی مقالے پڑھے جاتے ہیں۔ 2019ء میں نوشکی میں ایک دو روزہ فیسٹیول ہوا۔ ہمیں بھی مدعو کیا گیا۔ نوشکی کے وحید عامر بلوچ نے خاص طور پر فرمائش کی کہ انکے اسکول کی پرائیویٹ لائبریری کیلئے کتابیں لیکر آؤں۔ میں نے واپسی پر کالم لکھا تھا۔ ’’اس سے پہلے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں‘‘۔ اپریل 2019 ء میں آج سے سات برس پہلے نوشکی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں کتابوں کے اسٹال تھے اسکولوں میں بچوں کے پروجیکٹس کے اسٹال بھی۔ ریت کا ایک طوفان آیا تو طنابیں کٹ گئیں۔ خیمے اکھڑ گئے۔ ہمارے لیے یہ مشکل لمحات تھے۔ لیکن نوشکی کے نوجوان ایسی ابتلاؤں کے عادی ہیں۔وہ بہت اطمینان سے اپنی چیزیں کتابیں سنبھال رہے تھے۔ اس طوفان سے پہلے ہم نے ہائی اسکولوں کے اسٹال دیکھے۔جہاں ہائی اسکولوں کے طالبعلموں نے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں سائنسی پروجیکٹ شروع کر رکھے تھے۔میری کتاب ’’بلوچستان سے بے وفائی‘‘ میں اس کالم کی سرخیاں محفوظ ہیں۔ ملاحظہ کریں :

’’اس سے پہلے کہ وہ پہاڑوں میں پناہ لیں۔ اس سے پہلے کہ مغربی سرحدیں انہیں ہلاکت کی تربیت دیں۔ اس سے پہلے کہ نویں کلاس میں فزکس اور کیمسٹری کے پروجیکٹ بنانیوالے بارود سیمنٹ اور پتھروں کے آمیزے بنائیں۔اس سے پہلے کہ یہ معصوم لڑکپن انسانیت کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے۔ پاکستان میں قیادت کے دعوی دارو! منافع کی ہوس میں مبتلا صنعت کارو! تاجرو! ریٹنگ کی طلب میں اہل میڈیا!۔ علم کے سچے طلبگاروں، سائنس دانوں کا خواب دیکھنے والے پھٹے یونیفارم میں اپنے وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار طالب علموں کے سر پر ہاتھ رکھو۔ اپنے اختیارات اور اپنی دولت سے ان منصوبوں کو صنعتی طاقت میں تبدیل کر دو۔ آپ کی نظریں تو ان پر نہیں ہیں لیکن سرحد پار سے بہت سی طاقتوں نے ان پر اپنی نگاہیں جمائی ہوئی ہیں۔‘‘ ایک طالبعلم نے یہاں ٹیپ ریکارڈر کو بیٹری سے جوڑ کر قومی ترانہ چلایا ہوا تھا۔ ایک نے اپنا ویکیوم کلینر بنایا تھا، ایک نے واٹر فلٹر اور ایک بچے نے نیورون کا تجربہ کیا تھا۔ ایک ڈی این اے پر تحقیق کر رہا تھا ۔یہ سب نویں جماعت کے طالبعلم ہیں اسکول کے ٹیچر قزلباش فواد ہیں۔ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول بہادرآباد نوشکی کے ہیڈ ماسٹر مقبول احمد شاہ بھی موجود ہیں۔

میں آج سے سات سال پہلے لکھ رہا ہوں۔ ’’بلوچستان کے نوجوان خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔ انکے والدین کتابیں یونیفارم مہیا نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے سائنس دانوں کو، کارپوریٹ سیکٹر کو چاہئے کہ ان نوجوانوں کو اپنی آغوش مہیا کریں۔ اگر صنعتکاروں نے انکے پروجیکٹس کی سرپرستی نہیں کی تو یقیناً را کے ایجنٹ انہیں گود لے لیں گے۔ ہم نے ابھی ایک بڑی بس کا ڈھانچہ بھی دیکھا ہے جسے زائرین سمیت اڑا دیا گیا تھا۔ یہ منظر اگر ہم دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے تو بلوچستان کے ہائی اسکولوں میں نویں دسویں کے بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھیں‘‘

بہت دکھ سے لکھ رہا ہوں کہ سب سے کثیر الاشاعت اخبار میں واضح خبرداری کے باوجود کسی حکمران یا صنعت کار نے انکی سرپرستی نہیں کی۔

اپریل 2019ء اور اب فروری 2026۔ پورے سات سال۔ یہ مناظر بلکہ پہلے سے زیادہ بھیانک مناظر ہمیں دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ میں سات سال بعد پھر خبردار کر رہا ہوں انہی الفاظ میں ’’پاکستان میں قیادت کے دعوی دارو! منافع کی ہوس میں مبتلا صنعت کارو! بلوچستان کے ان طالبعلموں کے سر پر ہاتھ رکھو.... یہ سائنس دان بننا چاہتے ہیں پروفیسرز بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں‘‘

تازہ ترین