اسلامی فکری روایت میں عادت اور عبادت کے باہمی تعلق کا مطالعہ ایک نہایت اہم اور گہرا فکری سوال اٹھاتا ہے۔ قرآن کی بنیادوں، نبوی تعلیمات، روحانی نفسیات اور اخلاقی فلسفے کی روشنی میں یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ نیت، فہم اور قلبی حاضری وہ بنیادی عناصر ہیں جنکے ذریعے معمولی اعمال عبادت کا درجہ پا لیتے ہیں، اور انہی عناصر کی کمی کے باعث عبادت محض ایک بے جان معمول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس بحث کے مرکز میں ایک سادہ مگر پریشان کن سوال موجود ہے:کب عبادت، عبادت نہیں رہتی اور محض عادت بن جاتی ہے؟لفظ عادت ایسے افعال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بار بار دہرانے کے نتیجے میں خودکار رویّوں میں بدل جاتے ہیں۔ یہ رویّے جسمانی بھی ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی، فکری بھی اور روحانی بھی، حتیٰ کہ وہ مذہبی اعمال بھی جو شعور اور توجہ کے بغیر انجام دیے جائیں۔ وقت کے ساتھ تکرار شعور کو ماند کر دیتی ہے اور عمل محض ایک ردِعمل بن جاتا ہے۔ عادت بذاتِ خود نہ نیکی ہے نہ بدی اس کی اخلاقی قدر کا تعین اس نیت، شعور اور اثر سے ہوتا ہے جو وہ انسان کے کردار اور طرزِ عمل پر مرتب کرتی ہے۔اس کے برعکس، عبادت کا ماخذ لفظ عبد ہے، جس کے معنی بندگی اور اطاعت کے ہیں۔ عبادت محض رسمی اعمال تک محدود نہیں بلکہ اس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے ساتھ ساتھ اخلاص، عاجزی، صبر، شکر اور وہ تمام اخلاقی رویّے شامل ہیں جو اللہ کی رضا کے حصول کیلئے اختیار کیے جائیں۔
اسلام زندگی کو مقدس اور غیر مقدس خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، وہ ایک ایسا تسلسل پیش کرتا ہے جس میں ہر عمل عبادت میں ڈھل سکتا ہے یا محض عادت بن کر رہ جاتا ہے۔ رسمی عبادت عادت میں بدل سکتی ہے، جبکہ روزمرہ کے معمولات عبادت کا درجہ پا سکتے ہیں۔ اس کشمکش کی سب سے نمایاں مثال نماز ہے، خصوصاً ان مسلمانوں کیلئے جو عربی روانی سے پڑھتے ہیں مگر معانی سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جو عمل ابتدا میں تربیت اور ضبطِ نفس کا ذریعہ ہوتا ہے، وہ آہستہ آہستہ خودکاری میں بدل جاتا ہے، یہاں تک کہ جسم نماز ادا کرتا ہے اور دل کہیں اور موجود رہتا ہے۔اسی تناظر میں روزمرہ زندگی کے چند مناظر اس فرق کو اور زیادہ واضح کر دیتے ہیں۔ فرض کریں ایک شخص دفتر میں کسی اہم میٹنگ میں بیٹھا ہے۔ دورانِ گفتگو اذان کی آواز آتی ہے۔ وہ فوراً کہتا ہے:سر، دو منٹ اجازت دیں، میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔وہ اٹھتا ہے، چند ہی منٹ میں عربی میں نماز ادا کرتا ہے اور واپس آ کر دوبارہ میٹنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک فطری سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ عبادت ہے یا محض عادت؟اگر میٹنگ کیلئے اس کے پاس پورا وقت موجود ہے، مگر نماز کیلئے وہی عمل دو تین منٹ میں بغیر کسی ٹھہراؤ، بغیر کسی توجہ اور بغیر کسی فہم کے مکمل کر لیا جاتا ہے، تو یہ طرزِ عمل عبادت سے زیادہ رسم کی ادائیگی محسوس ہوتا ہے۔ زبان وہ پڑھی جاتی ہے جسے وہ سمجھتا نہیں، دل اس لمحے بھی میٹنگ میں الجھا رہتا ہے، اور مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ نماز پڑھی ہوئی شمار ہو جائے۔
اسی طرح اکثر یہ منظر بھی دکھائی دیتا ہے کہ کوئی شخص مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے، جماعت کھڑی دیکھ کر فوراً لپکتا ہے، نماز میں شامل ہوتا ہے اور چند لمحوں بعد اپنی مصروفیت کی طرف لوٹ آ جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک نیکی کا عمل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل انسان کے باطن میں کوئی تبدیلی پیدا کرتا ہے؟ یا یہ محض ایک وقتی اطمینان ہے کہ فرض ادا ہو گیا؟
اسلام عربی زبان کا فہم نہ ہونے کی بنیاد پر نماز کو باطل قرار نہیں دیتا۔ علما نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ نماز کی شرعی صحت لسانی مہارت پر موقوف نہیں۔ تاہم وہ اس بات سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ معنی سے عدم واقفیت، خصوصاً جب فہم کی کوئی کوشش ہی نہ کی جائے، نماز کو عادت میں بدلنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ امام غزالیؒ نے اس کیفیت کو’حرکت بلا حیات‘ قرار دیا۔ ایسی حرکت جس میں جان نہ ہو۔ یہ عبادت کی روح خالی ہو جانے کا نہایت بلیغ استعارہ ہے۔تاہم یہی تکرار، جو نماز کو بے جان بنا سکتی ہے، اسے دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ افراد جو عربی زبان پر مکمل عبور نہیں رکھتے، نیت اور شعوری کوشش کے ذریعے نماز کو عادت سے عبادت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ نمازی سورتوں اور بنیادی اذکار کے معانی سیکھ سکتا ہے، یوں یاد شدہ الفاظ شعوری دعا میں بدل جاتے ہیں۔ معروف آیات ذہنی ترجمے یا جزوی فہم کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں۔ رکوع اور سجدے میں دانستہ توقف اختیار کر کے عاجزی کو محسوس کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ حرکات کو محض جلدی سے مکمل کر لیا جائے۔یہاں فہم کا مکمل ہونا شرط نہیں۔ اخلاص اور کوشش عبادت کو زندہ رکھنےکیلئے کافی ہیں۔ نماز محض تلاوت نہیں رہتی بلکہ مکالمہ بن جاتی ہے۔ جذباتی قربت بڑھتی ہے اور عبادت زبان کی حدود سے بلند ہو جاتی ہے۔ تکرار باقی رہتی ہے، مگر بے جان نہیں ہوتی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت کو زندہ رکھنے کیلئے جدّت نہیں بلکہ معنی ضروری ہیں۔
آج جب آپ مصلے پر کھڑے ہوں، تو یہ مت سوچیں کہ یہ آج کی چوتھی یا پانچویں نماز ہے، بلکہ یہ سوچیں کہ شاید یہ آپ کے خالق سے گفتگو کا آخری موقع ہو۔ عبادت کو نمٹانے کی چیز نہ سمجھیں، بلکہ اسےسمیٹنے کا ذریعہ بنائیں۔ یاد رکھیں، وہ نماز جو مصلے سے اٹھنے کے بعد آپ کے اخلاق میں نظر نہ آئے، وہ صرف ایک جسمانی ورزش تھی، بندگی نہیں۔