قارئین !خطہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط قدم نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کیلئے سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ طاقت کے اظہار، جارحانہ بیانات اور عسکری تیاریوں کے شور میں اگر کسی آواز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ دانش، سفارتکاری اور تحمل کی ہے۔ بد قسمتی سے دنیا کا موجودہ منظر نامہ اسکے برعکس دکھائی دیتا ہے، جہاں ہر بحران کو جنگی زاویے سے دیکھنے کی روش ایک خطر ناک روایت بنتی جارہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یہ واضح اور دوٹوک مؤقف نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام یا اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جس سے کسی برادر ملک کیخلاف جارحیت کا تاثر پیدا ہو۔ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کو اصولی بنیادوں پر دیکھا ہے اور امن، بحالی اور حق خودارادیت کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ فلسطینی عوام کیلئے جنگ بندی،تعمیر نو اور دیر پا امن کی کوششیں نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان بھی ہیں۔ پاکستان کی شمولیت کا مقصد بھی یہی رہا ہے کہ غزہ جیسے زخم خوردہ خطے میں امید کے چراغ روشن رکھے جائیں، نہ کہ کسی نئے محاذ کو ہوا دی جائے۔دوسری طرف نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اورخطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔ قبل ازیں اپنے ایک بیان میں ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے، ہم اپنی سرزمین کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان نے بدلتے ہوئے حالات میں سفارتکاری کوواحد قابل عمل را ستہ قرار دیا ہے۔ مذاکرات، بات چیت اور سیاسی تدبر ہی وہ ذرائع ہیں جو قوموں کو تصادم سے نکال کر استحکام کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع،معیشتوں کی تباہی اور معاشروں کی بربادی ہر جنگ کا مشتر کہ حاصل رہی ہے۔ دنیا پہلے ہی ہتھیاروں کی دوڑ کے باعث بارود کے ایک بڑے ڈھیر پر بیٹھی ہے۔ ایسے میں جنگ کا کوئی ایک شعلہ بھی عالمی نظام کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ جدید اسلحہ، جوہری صلاحیتیں اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کسی بھی تنازعے کولمحوں میں نا قابل واپسی نقصان میں بدل سکتی ہے ۔ دانشمندانہ پالیسی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے ضبط کو فوقیت دی جائے۔ اس تناظر میں عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دنیا کو اب جنگی رحجانات سے نکل کر معاشی مسابقت کی طرف بڑھنا ہو گا۔ چین کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے عسکری مہم جوئی کے بجائے معیشت، تجارت اور ترقی کو اپنی شناخت بنایا۔ اگر امریکہ واقعی عالمی قیادت کا خواہاں ہے تو اسے اپنی ہٹ دھرمی اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ایران اورخطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مسلسل دباؤ، پابندیاں اور دھمکیاں رد عمل کو جنم دیتی ہیں۔ دفاع کا حق ہر خود مختار ریاست کا مسلمہ اصول ہے مگر اس حق کا استعمال بھی ذمہ داری اور حکمت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ بیانات کی سختی اور لہجوں کی تندی اگر عملی تصادم میں بدل جائے تو اس کی قیمت فیصلہ ساز نہیں بلکہ عام شہری ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اسی طرح مضبوط، واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے۔ دوٹوک مؤقف نہ صرف دوستوں کو اعتما د دیتا ہے بلکہ مخالفین کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان امن کا داعی ہے مگر اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اصل کامیابی اس دن ہو گی جب تنازعات کو میز پر حل کیا جائے، جب فلسطین سے لیکر مشرق وسطیٰ تک انسان امن، وقار اور ترقی کے ساتھ جی سکیں اور جب دنیا اس بارود کے ڈھیر سے اتر کر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف قدم بڑھائے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں مین ہول واقعے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے انتظامیہ، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، واسا سمیت ذمہ داراداروں کی کارکردگی پر سخت سرزنش کی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹرسمیت کئی ذمہ داران کو عہدے سے ہٹانے اورگرفتارکرنے کا حکم دیدیا گیا۔ سانحے میں جاں بحق ہونیوالی خاتون کے شوہر کو کنٹریکٹر کی طرف سے ایک کروڑ روپے زرِتلافی اور حکومت کی طرف سے روزگار کیلئے ٹیکسی مہیا کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے اس واقعے پر برہمی کا اظہار اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی احسن اقدامات ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیوروکریسی کے کام کرنے کے طریقے نہ تو بدلے ہیں اور نہ ہی مستقبل میںبدلنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر سطح پر بیوروکریسی کے رویے عوام کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ طبقہ اس ملک کا حکمران ہے اور اس کے سامنے باقی سب کیڑے مکوڑے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تنخواہوں میں غیر معمولی بلکہ نامعقول حد تک اضافے اور سرکاری خزانے سے بے شمار مراعات و سہولیات دیکر اس طبقے کو اسلئے پالا جا رہا ہے کہ یہ عوام کی گردنوں پر مسلط ہو کر انہیں یہ بتائے کہ وہ کوئی افضل درجے کی مخلوق ہے جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ؟ مریم نواز صاحبہ کو چاہئے کہ وہ اس واقعے کو مثال بنا کر بیوروکریسی کو درست کرنے کی کوشش کریں، وہ اس سلسلے میں جس حد تک بھی کامیاب ہو پائیں گی ان کا یہ کارنامہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔