• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں ہیروف 2.0 ہو یا دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد اور امام بارگاہ میں خود کش حملہ، سب کے تانے بانے فتنہ الہندوستان اور خوارج سے جا ملتے ہیں۔اسقدر سخت سکیورٹی اور کڑی نگرانی کے باوجود اسلام آباد سیف سٹی میں حملہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ فتنہ عرصے سے پاکستان کے اہم شہروں میں اپنے سلیپر سیل قائم کیے ہوئے ہے اور اس کے سہولت کار بھی رابطے میں ہیں۔اسی لئے اتنی مانیٹرنگ بڑھانے کے باوجود سیکیورٹی فورسز بعض اوقات بروقت کارروائی نہیں کر پاتیں۔ تاہم دہشت گردی کی بہت سے ایسے واقعات جو فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث وقوعہ پذیر نہیں ہو پاتے یا چند ہی گھنٹوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پہنچ کر انکا خاتمہ کیا جانا قابلِ تحسین و ستائش ہے۔ درحقیقت شہری آبادیوں میں دہشت گردی کا سرکچلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

کالعدم بی ایل اے کی افغانستان میں چھپی قیادت، ہندوستان، اسرائیل اور طالبان کی سرپرستی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کے علاوہ دو خلیجی ریاستوں کا ان سے تعاون اور آشیرباد بھی اب ظاہر ہوچکا ہے۔ ایسے میں ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کی سرحد پر بی ایل اے زور و شور سے سرگرمِ عمل ہو چکی ہے۔ افغانستان بدقسمتی سے اب ایک ایسی پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کئی ممالک اپنا اپنا" لچ تَل" رہے ہیں۔ طالبان کے امیر المومنین ملا ہبت اللہ اخونزادہ جو کہ خود شیخ الحدیث ہیں کی روز مرہ ملکی معاملات سے دوری،محض دینی معاملات پر زیادہ توجہ نے انہیں ملکی انتظام وانصرام سے دور رکھا ہے اس لیے طالبان حکومت تین دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ جبکہ شمالی اتحاد، تاجک،ازبک اور بہت سے قبائل کے، اپنے علاقوں میں مرضی کے قانون لاگو ہیں۔لٰہذا افغانستان ہر قسم کے شر پسندوں،دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ طالبان کی اندرونی چپقلش،دھڑے بندی اور لڑائی سے معاملات مزید بگڑ رہے ہیں نتیجتاً ہر کسی کو صرف اپنا ذاتی مفاد مقدم ہے۔ امارتِ اسلامی افغانستان کا نظریہ ملا محمد عمر ؒکے اپنے ہی طالبان کے ہاتھوں ہوا میں تحلیل ہوتا نظر آرہا ہے۔البتہ ہندوستان نے بڑے شاطرانہ انداز میں طالبان کے مخصوص وزراء کو ڈالروں کے عوض پاکستان سے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کے مشن پر لگا دیا ہے جبکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی تربیت اور مالی تعاون "را" اور اسرائیلی گٹھ جوڑ سے بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ اسرائیل کی موساد بھی بلوچستان کے ذریعےایران اور پاکستان کے سرکاری سطح پر تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوشش اور ایران میں اپنی رسائی مزید بڑھانے کے لیے بی ایل اے کو استعمال کر رہی ہے۔ جب بھی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر سر اُٹھاتی ہے ہندوستان بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی شرانگیزیوں میں اضافہ کر دیتا ہے تاکہ دنیا میں کشمیریوں کی آزادی کی آواز، بلوچستان کی علیحدگی پسندوں کی آواز میں دبائی جا سکے۔ مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان سے شکست کے بعد ہندوستان اپنی تمام تر شیطانی قوتیں پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اُدھر ایک خلیجی ریاست بلوچستان میں گوادر بندرگاہ اور اسکی مستقبل کی صلاحیت سے خائف، سازشوں کے تانے بانے بُن رہی ہے جبکہ دوسری خلیجی ریاست کا میڈیا کھل کر ہندوستان کے نقشوں میں آزاد کشمیر کا علاقہ دکھا رہا ہے حالانکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق مسئلہ کشمیر متنازعہ ہے۔ ویسے بھی اس ریاست کا واضح جھکاؤ پاکستان مخالف طالبان کی جانب ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ اُدھر امریکہ کا جھکاؤ بھی ایسے گروہوں کی جانب ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی لیے افغانستان سے انخلاء کرتے وقت امریکہ نے7 ارب ڈالر کا اسلحہ جان بوجھ کر چھوڑا جو یقیناََ مستقبل میں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔ امریکہ کو کسی طور خطے میں چین کا اثر رسوخ اور سی پیک کی کامیابی قابلِ قبول نہیں۔اسی کے پیشِ نظر وہ خود یا ہندوستان کے نام پر بگرام بیس لینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسرائیل اور ہندوستان سے مل کر ایران اور جوہری پاکستان کی کڑی نگرانی کی جا سکے اور چین کو بھی شہ مات دی جا سکے۔ مبینہ طور پر طالبان حکومت نے حال ہی میں چینی کمپنیوں کے قدرتی معدنیات کھوجنے کے دو بڑے معاہدے منسوخ کر کے ہندوستان کو دے دیے ہیں۔ خدانخواستہ اگر ایران میں امریکہ کو کسی قسم کی کامیابی ملتی ہے تو پاکستان کے لئے چوتھا محاذ بھی کھل جائے گا۔ اس وقت پاکستان تین محاذوں پر دشمن سے نبرد آزما ہے یعنی ہندوستان، افغانستان اور اندرونِ خانہ بیرونی ایماء پر چھڑی دہشت گردی۔ پاکستان خطے میں اپنے مخصوص جغرافیائی محل و وقوع،اپنی نظریاتی اساس، جوہری صلاحیت، اعلیٰ فوجی قابلیت و صلاحیت، قوم کی جہادی سوچ کے باعث ہمیشہ اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہے گا۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اور دیگر اسلامی مملکتوں سے دفاعی تعاون واضح کر رہا ہے کہ واحد پاکستان ہی اسلامی ممالک کو جوہری چھتری کا تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ایک طرف اس نئے کردار سے ہمارا ازلی دشمن ہندوستان بے چین ہے تو دوسری جانب گریٹر اسرائیل کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ادھر پاکستان اور چین کے تعلقات بھی امریکہ سے ہضم نہیں ہو پا رہے۔ مئی 2025 کی جنگ سے اسے بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ چین پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا لہٰذا مخالفین کے لیے ایک ہی حل بچتا ہے کہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کیا جائے۔ ہزاروں ڈالر کا اسلحہ، ہتھیار اور تربیت لے کر جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے یہ دہشت گرد کیسے غربت و محرومیوں کی شکار کہلائے جا سکتے ہیں یا اسلامی نظام لانے کے داعی ہیں جو کلمہ تک نہیں پڑھ سکتے۔

پاکستان ہارڈ اسٹیٹ میں تبدیل ہو رہا ہے، اسے ہونا بھی چاہیے۔پاکستان کی قومی سلامتی سب سے اہم ہے اس پر کوئی سودا نہیں کیا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور تمام ملکوں کو پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کو کہا۔ مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے سہارے دہشت گردی کے سد ِباب کے لیے ممکنہ ہر قسم کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں اب ضروری ہو گیا ہے کہ برادر ممالک کی خواہش پر افغانستان پر معطل سرجیکل اسٹرائکس دوبارہ شروع کی جائیں۔ دشمن کو اس کی پناہ گاہ میں گھس کر تباہ و برباد کیا جائے۔ پراکسی کے شر کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے۔ "ایک کے بدلے کئی گنا" کا قاعدہ طے کیا جائے۔ یہ جنگ ان کے گھر پر لڑنا ہوگی وگرنہ پاکستان دشمنوں کا پاکستان کے خلاف مالی تعاون و تربیت، جدید ترین اسلحہ اور ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی یونہی جاری رہے گی۔ جبکہ پاکستانیوں کو ہزاروں چیرے لگتے رہیں گے اور ہمارے زخم یونہی رستے رہیں گے۔فوجی حکمتِ عملی میں اصطلاح ہے" offence is best defence "۔

؎حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی

خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا کوں

تازہ ترین