آج کل سب کچھ کرائے پر ملنے لگا ہے ۔ چند لاکھ روپوں میں کرائے کا قاتل بھی ملتا ہے اور کرائے پر مقتول بھی ملنے لگا ہے ۔ لاہور پولیس نے گزشتہ سال عثمان نامی کرائے کا ایک قاتل گرفتار کیا ۔ عثمان قتل کے معاوضے میں عمرے کی ٹکٹیں بھی وصول کرتا تھا۔ اُسے کسی مولوی صاحب نے بتا دیا تھا کہ عمرہ کرنے سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ مولوی صاحب نے اُسے بار بار قتل کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی کا راستہ تو دکھا دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور پوری انسانیت کے قتل کی معافی ایک عمرہ نہیں ہے - کرائے کے قاتل دنیا کے ہر ملک میں ملتے ہیں جو پیسے کی خاطر بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں لیکن کرائے کےمقتول دنیا کے ہر ملک میں نہیں ملتے۔ کرائے کے مقتول کا دوسرا نام خود کش حملہ آور ہے ۔ کرائے کے یہ مقتول چند خاص ملکوں میں ملتے ہیں جن میں سے ایک پاکستان بھی ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ جنت کی حوروں کے خواب دکھا کر خودکش حملہ آور تیار کر لئے جاتے ہیں ۔ میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا ۔ ہر خودکش حملہ آور جنت کی حوروں کا متلاشی نہیں ہوتا۔ بہت سال پہلے ہماری مساجد اور مدرسوں میں خودکش حملہ آور بھرتی کرنے کا کام کھلے عام ہوتا تھا کیونکہ اُس زمانے میں پاکستان بھی امریکا کی ایک کلائنٹ اسٹیٹ کے طور پر مجاہدین تیار کر کے افغانستان بھیجا کرتا تھا۔ جب افغانستان میں روس کو شکست ہوئی تو اسے صرف افغانستان کی نہیں بلکہ پاکستانی اداروں کی فتح بھی قرار دیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک عالم دین سے پوچھا کہ آپ خودکش حملوں کی حمایت کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ وہ خودکش حملوںکی نہیں بلکہ فدائی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں ۔ پھر انہوں نے خودکش حملے اور فدائی کا رروائی میں فرق بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلکی اختلاف کی وجہ سے کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کیلئے اپنے آپ کو بھی اُڑانے پر تیار ہو جاتا ہے تو وہ خود کش حملہ آور ہے ۔ لیکن جب کوئی مظلوم اور محکوم مسلمان اپنی آزادی کیلئے کسی ظالم فوج میں گھس کر خود کو اُڑاتا ہے تو یہ فدائی کارروائی ہوگی ۔ پھر اس عالم دین نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں ایک نوجوان مولوی صاحب سے میری ملاقات کرائی جو دو تین گھنٹوں میں دو تین سو نوجوانوں کو فدائی بننے پر راضی کر لیتے تھے ۔ ایک دن مولانا عبدالرشید غازی صاحب کی وساطت سے میں ایک ایسی نشست میں خاموشی سے پچھلی صفوں میں بیٹھ گیا جہاں فدائی حملہ آوروں کو بھرتی کیا جاتا تھا۔ میں بطور صحافی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اچھے بھلے نوجوان اپنے آپ کو مقتول بنانے پر تیار کیسے ہو جاتے ہیں؟ سب سے پہلے تو نوجوان مولوی صاحب نے کشمیر اور فلسطین کے حالات پر ایک درد بھری تقریر کی ۔ پھر افغانستان میں امریکی افواج کے ظلم کی داستانیں سنائیں اور آخر میں پوچھا کہ مظلوموں کی مدد کیلئے کون کون اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہے ؟ تقریباً تمام طلبہ نے اپنے ہاتھ اُٹھا دیئےتھے۔ بعد میں ان مولوی صاحب نے بتایا کہ پنجاب سے فدائیوں کی بھرتی کشمیر، فلسطین اور افغانستان کے نام پر ہوتی ہے لیکن خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں کے انتقام کیلئے بھرتیاں ہوتی ہیں ۔ پندرہ بیس سال پہلے ڈرون حملوں سے متاثرہ خاندانوں کے کئی بچے خودکش حملہ آور بن جاتے تھے۔ یہ مولوی صاحب نائن الیون سے پہلے اور نائن الیون کے بعد پاکستانی ریاست کی پالیسی میں تضادات کو بھی اجاگر کیا کرتے اور انکے خطوط معروف کالم نگاروں کے کالموں میں شائع ہوتے تھے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ فدائی حملہ آور اور خودکش حملہ آور کی تفریق ختم ہو گئی ۔ پھر خودکش حملہ آور تیار کرنا ایک کاروبار بن گیا ۔ کرائے کے کچھ مولوی غریب اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو مظا لم کی داستانیں سنا سنا کر خودکش حملہ آور بناتے اور مختلف عسکری تنظیموں کو فروخت کر دیتے ۔ خودکش حملہ آور یہی سمجھتے کہ انہیں کسی بڑے ہی اعلیٰ مقصد کیلئے جان قربان کرنے بھیجا جا رہا ہے۔ انہیں فروخت کرنیوالے انسٹرکٹر دراصل کرائے کے وہ قاتل تیار کرتے تھے جو مقتول بن کر خود پیسے وصول نہیں کرتے بلکہ انکا انسٹرکٹر اور خاندان پیسے وصول کرتا ہے۔ کچھ خودکش حملہ آور ایسے بھی ہوتے تھے جن کیساتھ وعدہ کیا جاتا کہ انکی موت کے بعد اُنکے خاندان کو نہ صرف بھاری رقم ملیگی بلکہ مستقل وظیفہ بھی ملےگا۔ چند لاکھ روپوں کی خاطر اپنے آپکو قتل کرنیوالے کئی خودکش حملہ آوروں کا اصل مقصد جنت کی حوروں سے زیادہ اس دنیا میں اپنے غریب بہن بھائیوں اور والدین کی زندگی آسان بنانا ہوتا ہے ۔ حال ہی میں بلوچستان میں کچھ خواتین نے خودکش حملے کئے انہوں نے کسی حور کیلئے نہیں بلکہ نفرت اور انتقام کے جذبے کے تحت کئی بے گناہوں کی جانیں لیں ۔ یہ نفرت کبھی تو زبان ، نسل اور صوبے کی بنیاد پر نوجوان ذہنوں میں بھری جاتی ہے اور کبھی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں کی ایک امام بارگاہ میں گزشتہ ہفتے کیا جانیوالا حملہ بڑا قابل غور ہے۔ اس سے پہلے جوڈیشل کمپلیکس پر خودکش حملے میں ملوث نوجوان افغان تھا ۔ ترلائی کلاں کے حملے میں ملوث نوجوان پاکستانی ہے لیکن افغانستان آتا جاتا رہا ہے ۔ آج تک کسی خود کش حملہ آور نے اپنی جیب میں شناختی کارڈ نہیں رکھا لیکن ترلائی کلاں کے حملے میں ملوث نوجوان کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ پر مل گیا ۔ شاید جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تا کہ حملہ آور تنظیم یہ تاثر دے سکے کہ اُسکے پاس پاکستانی نوجوان بھی موجود ہیں ۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جو افغان طالبان کی مخالف ہے۔ داعش اس سے قبل افغانستان میں بھی اہل تشیع پر حملے کر چکی ہے اور اُسکی حکمت عملی عراق ، شام اور افغانستان سے لیکر پاکستان تک یہی نظر آتی ہے کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کرائی جائے اور پھر ریاست کو کمزور کر کے مخصوص علاقوں پر قبضہ کیا جائے ۔ داعش نے کبھی اسرائیل پر ویسا حملہ نہیں کیا جیسے حملے یہ بار بار مسلمانوں پر کرتی ہے۔امریکا اور افغان طالبان میں دوحہ امن معاہدے کے بعد داعش نے طالبان کو واجب القتل قرار دیکر انکے خلاف جنگ شروع کر دی اور طالبان کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیا تھا۔ داعش کا خیال ہے کہ پاکستانی ریاست اور افغان طالبان کی لڑائی سے وہ بہت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ جس معاشرے میں کرائے کے قاتل اور مقتول ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوں وہاں داعش جیسی تنظیم کا کام آسان ہو جاتاہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کرائے کے مقتول بننے سے کیسے روکیں ؟ بات ذرا تلخ ہے لیکن ایک تلخ سچائی ہے اور وہ یہ کہ جہاں کرائے کے مولوی ،کرائے کے صحافی اور کرائے کے سیاستدان دستیاب ہوں وہاں کرائے کے قاتلوں اور مقتولوں کی دستیابی میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر آپکو میری بات بُری لگی ہے تو وفاق اور صوبے کی حکومتوں میں موجود وزراء کے ماضی اور حال پر نظر دوڑائیں۔آپکو بہت سے وزراء ایسے ملیں گے جو تین تین چار چار پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ وزیر یا وزیراعلیٰ بننے کیلئے پارٹی بدلنا انکے لئے کوئی مشکل نہیں۔ کرائے کے ان وزیروں کی ضمیر فروشی کسی حکومت کی نیک نامی کا نہیں بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ آپکو ان وزیروں کے اردگرد ایسے کئی مولوی صاحبان نظر آئیں گے جو موجودہ حکومت کی شان میں قصیدے کہتے ہیں ، یہ مولوی صاحبان اس سے پچھلی اور کئی پچھلی حکومتوں کے بھی قصیدہ خواں تھے۔ ایسے کرائے کے مولوی خود برائی کی علامت بن جاتے ہیں۔ انکے کردار سے ریاست کیخلاف نفرت تو پھیل سکتی ہے لیکن انکے فتووں سے ہم خودکش حملے ختم نہیں کر سکتے ۔ کرائے کے قاتلوں اور مقتولوں سے نجات پانےکیلئے ہمیں کرائے کے سیاستدانوں ، کرائے کے مولویوں اور کرائے کے صحافیوں سے نجات پانی ہوگی اور ریاست کا کردار بھی بدلنا ہوگا۔ اب عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستان کسی کو کرائے پر دستیاب نہیں ہے۔ جب ریاست کا کردار بدلے گا تو معاشرے میں کرائے کے قاتل اور کرائے کے مقتول پیدا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔