ایک طویل عرصے سے جابر ہیولے نے لاہور جیسے روحانی اور وجدانی شہر کی ہر بہار رُت کےمنہ پر ہاتھ رکھ کر اُس کی آواز ، قہقہے اور آزادی سلب کر رکھی تھی اور متحرک ماحول کو جامد کر رکھا تھا ۔اس عالم میں بسنت ایک ایسے خواب کی طرح آنکھوں میں موجود رہی جس میں تعبیر کا امکان کم اور حسرت زیادہ تھی کہ ماضی میں حکومتی سطح پر بارہا منصوبے بنے، مہینوں میٹنگز کی گرد اڑی، کبھی کسی وسیع پارک اور کبھی چھانگا مانگا جیسے مقام پر بسنت میلے کے نقشے کھینچے گئے، مگر ہر بار عین وقت پر کوئی جادوئی عمل یہ خواب بکھیر کر نیندیں پریشان کر گیا ۔انتظامات دھرےرہ جاتے اور کسی عُذر کا بہانہ کرکے رنگوں کی ساری تیاری لپیٹ دی جاتی۔اگرچہ دل کی آواز سننے اور میلوں ٹھیلوں سے جڑے لوگ خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے، مگر برسوں تعبیر سے محروم رہیں تو مایوسی خاموشی سے دل کے دروازے پر بیٹھ جاتی ہے۔ بسنت بھی اسی خاموش مایوسی کا شکار رہی،ایک ایسا تہوار جو یادوں میں زندہ تھا مگر زندگی کی اسٹیج سے اوجھل ہو چکا تھابلکہ خوشی اور آزادی کی علامت کو گالی بنا دیا گیا تھا۔ماضی کے تجربات کے سبب اس بار بھی بسنت کے آغاز تک فضا میں ایک انجانی سی بے چینی تیرتی رہی،کہیں کسی لمحے کوئی آواز محبت کے منظرنامے میں نفرت نہ انڈیل دے ، کوئی دباؤ نہ آڑے آ جائے، سوشل میڈیا پر تفریق اور شر کےپرچارکوں نے افواہوں، خدشات اور نفرتوں کا بازار گرم رکھا مگر سب اندیشے موم کی طرح پگھل کر رہ گئے،جب بسنت پورے وقار اور جمال کے ساتھ رہا ہوئی۔یوں لگا جیسے سردیوں کی منجمد خاموشی کو چیر کر بہار کی پہلی کونپل مسکرا دی ہو اور شہر نے بڑی دیر بعد بانہیں کھول کر ایک لمبی سانس لی ہو۔ ایک باہمت عورت مریم نواز نے پنجاب کی جھولی میں اس کی کھوئی ہوئی میراث اور خوشبوئیں ڈال کر پنجابیوں کو مالامال کردیا ۔اپنی ثقافت سے کٹ جانے والی قومیں ایسے بے توقیر ہو جاتی ہیں، جیسے ہوا میں اڑتے تنکے جِنکی نہ شناخت محفوظ رہتی ہے نہ سمت۔ثقافت دل اور روح کے درمیان بہنے والی وہ نہر ہے جس سے زندگی کا شجر سرسبز رہتا ہے۔ثقافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں صرف زندہ نہیں رہنا جینا بھی ہےدل کے احساس اور باطن کی لطافت کے ساتھ۔اگرچہ اس سے پہلے بھی ہلا گلا ،کنسرٹس اور روشنیاں تھیں مگر وہ تہوار جو مٹی کی خوشبو رکھتے تھے، جو دھرتی کی یاد دلاتے تھے، وہ ہم سے دور کر دئیے گئے تھے۔ انہیں واپس لانے کا سہرا مریم نواز کے سر جاتا ہے۔اٹھارہ بیس برس بعد لاہور کو پھر اپنے ترنگ میں جھومتا دیکھا۔وہ نسل جو بسنت کو صرف تصویروں اور کہانیوں میں جانتی تھی، آج اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ خوشی کا یہ عالم تھا کہ شہر کے در و دیوار بھی مسکراتے محسوس ہوتے تھے۔زندہ دلانِ لاہور سردی اور مایوسی کا سحر توڑ کر سڑکوں پر امڈ آئے،صدیق سنٹر سے لبرٹی چوک تک کا راستہ ایک گھنٹے میں طے ہوا،مگر یہ تاخیر بوجھ تھی نہ بیزاری ، بلکہ یہ خوشی کی پُرامن ریلی لگی جہاں لوگوں کو خوش ہوتے دیکھنا بہت بھلا لگا۔اندرونِ شہر کی قدیم حویلیوں اور بلند عمارتوں کی چھتوں سے قہقہوں کی بارش بتا رہی تھی کہ لوگوں نے اپنے اندر جمع اداسیوں اور تھکن کو جھاڑ دیا ہے، کھلی فضا میں رقص کرتے جسم اور ہنستی ہوئی آوازیں اس بات کا اعلان تھیں کہ یہ شہر کا دل دھڑک رہا ہے ۔سب سے وجدانی لمحہ وہ تھا جب ہم نے دو تین مرلے کی کئی منزلہ عمارت کی تنگ سیڑھیاں چڑھ کر اچانک چھت پر قدم رکھا۔سامنے آسمان کا کھلا پن، رنگوں کی بارش اور پتنگوں کی قطاریں کیا عجب منظر پیش کر رہی تھیں اُس منظر سے جُڑا فرحت اور کشادگی کا احساس بیان سے باہر ہے۔ وہاں رہنے والوں کے چہروں پر لکھی خوشی بتا رہی تھی کہ یہ تفریح محض نظارہ نہیں، ایک داخلی آزادی کا تجربہ بھی ہے۔بسنت کی خوبی یہ ہے کہ یہ امیر و غریب ، نوجوانوں ، بزرگوں ، عورتوں ،مردوں اور بچوں کا تہوار ہے۔سب ایک ہی آسمان کے نیچے، ایک ہی خواب میں شریک ہو کر ایک ہی منظرنامے کا حصہ بن جاتے ہیں۔سرسوں رنگ کے لباس، مفلر اور چادریں فطرت سے محبت اور جڑت کا خوبصورت مظہر تھیں۔موسیقی فضا کے دل میں سما کر عجب سرور بن گئی تو بدن بھنگڑوں میں ڈھل گئے اور روح کسی انجانی سرشاری میں تیرنے لگی۔بسنت بیٹھ کر دیکھنے کا میلہ نہیں، یہ آسمان سے رشتہ جوڑنے، لمحہ بہ لمحہ متحرک رہنے اور زندگی کو ہاتھوں میں تھامنے کی مشق ہے، ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنی زمین سے جڑی روایات کے ذریعے اپنے لوگوں کو ہنسنے، کھیلنے اور سانس لینے کی اجازت دے۔بسنت محض ایک ثقافتی تہوار نہیں، یہ معاشی، سماجی اور سیاسی سطح پر بھی زندگی کی علامت ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ خصوصی طور پر اس تہوارکیلئےبیرونِ ملک سے آئے ہم وطنوں کے علاوہ غیر ملکی سفارتکار پاکستانی لباس میں، پتنگیں اڑاتے اور بھنگڑے ڈالتے نظر آئے۔یہ منظر خود ایک خاموش مگر طاقتور سفارت کاری تھا۔پنجاب نے دنیا کو دکھا دیا کہ اس پر رجعت پسندی کی مہر نہیں لگائی جا سکتی، کیونکہ روشن خیالی، حرکت اور جمالیاتی حس اس کی رگوں میں دوڑتی ہے اور کوئی قوم اپنی روح کی آواز کو زیادہ دیر تک دبا کر اپنی اصل سے دور نہیں رہ سکتی آخرکارباطن کی آواز رنگ بن کر فضا میں بکھر ہی جاتی ہے۔ جب کوئی رہنما لوگوں کے اجتماعی شعور اور دل کی آواز کو مجسم کردے تو شاعر کا قلم اُس کیلئے دعا بھرے گیت لکھنے لگتا ہے۔مریم نواز کے لئے دو بولیاں..
پَنجے رُتاں ساڈی جھولی پان والیے
لاہور تیری خیر منگ دا
ساڈے مُکھ اُتے ہاسے جو کھلارے
گُڈی ا وہدی چڑھی رہنی اے