• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مثبت، تعمیری سوچ کامیابی و کامرانی کا زینہ

قُرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘‘ (سورۃ الزمر، آیت نمبر 53) مثبت سوچ کا سب سے بہترین ذریعہ، وسیلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے اور اس کائنات میں سب سے زیادہ مثبت سوچ رکھنے والے ہمارے پیارے نبیٔ کریم ﷺ تھے۔ آپﷺ نے اپنی زندگی کےکڑے ترین لمحات میں بھی کبھی اُمید کا دامن نہیں چھوڑا ۔ 

زندگی کے ہر ہر مقام پر آپ ﷺ کی سوچ ہمیں مثبت نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ بدترین حالات میں بہترین فیصلے کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ شدید گھبراہٹ اور پریشانی کےعالم میں نماز کا اہتمام فرماتے اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی رُجوع کرتے۔ اِسی طرح آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں صبر، شُکر، برداشت اورعفو ودرگُزر کا عُنصر بھی غالب نظر آتا ہے اور انہی مُبارک عادات و شُمائل کی بنا پر آپ ﷺ کا اُسوہ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

آج ہم جس دَورمیں جی رہے ہیں، اِس میں ہمیں قدم قدم پر نِت نئی مُشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہمیشہ مثبت سوچ کا حامل رہنا کسی امتحان سے کم نہیں۔ تاہم، مثبت سوچ کے لیے اچّھی عادات اختیار کرنا بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ جلدی سونا، جلدی اُٹھنا، عُمدہ ناشتا کرنا، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس سے پرہیز اور موبائل فون کا محدود استعمال وغیرہ۔ 

اِس ضمن میں ڈیریئس فاریکس اپنی کتاب ’’تھنک اسٹریٹ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مُثبت سوچ، تعمیری رویہ اختیار کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے مسائل دو خانوں میں بانٹ دیں۔ ایک خانے میں وہ مسائل رکھیں، جنھیں آپ خُود حل نہیں کر سکتے، جب کہ دوسرے میں وہ مسائل، جنھیں آپ حل کرسکتےہیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ اکثر مسائل وہی ہوں گے، جو آپ کے اختیار سے باہر ہیں۔ 

بہت کم مسائل ایسے ہوں گے، جو آپ کے حصّے آئیں گے۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں،کام یاب لوگ وہ ہیں،جو کبھی ناکام و نامُراد نہیں رہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ درحقیقت، کام یاب لوگ وہ ہیں، جو ہر طرح کی شکست و ریخت اور مُشکل ترین حالات میں بھی اپنی سوچ مثبت رکھتے ہیں، یہاں تک کہ فتح اُن کے قدم چوم لیتی ہے اور دُنیا میں ایسی بےشُمار مثالیں ملتی ہیں کہ جب ایک ناکام شخص محض اپنی مُثبت سوچ کی بنا پر کام یاب و کام ران ہوگیا۔

آپ طارق بن زیادؒ کی مثال لےلیں، جس نے اپنی فوج کی کشتیاں جلا کر واپسی کا راستہ ہی بند کردیا۔ نتیجتاً مجاہد مثبت سوچ کےساتھ یک سو ہو کر لڑے اور طارق بن زیاد کو نہ صرف عظیم فتح حاصل ہوئی بلکہ تاریخ میں ’’ کشتیاں جلانا‘‘ اٹل فیصلے کے لیے محاورۃً استعمال ہونے لگا۔

اسی طرح گوتم بُدھ نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’آپ وہی ہیں، جو آپ سوچتے ہیں۔‘‘ مطلب، اگر آپ اپنی سوچ مثبت رکھیں گے، تو ہمیشہ کام یاب وکام ران ہی ہوں گے، لیکن اگر دل ودماغ میں منفی خیالات کو جگہ دیں گے، تو پھر ناکام ہی ٹھہریں گے۔ توچلیں، پھر آج ہی سےمثبت سوچ، رویے اختیار کرنے کا عزم کر لیں، اِس یقین و اطمینان کے ساتھ کہ اَن گنت دینی و دنیاوی کام یابیاں آپ کی مُنتظر ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید