وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان حکومت نے ٹی ٹی پی کو دور لے جانے کے بدلے دس ارب روپے مانگے، اس کے باوجو افغانستان گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھا، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں صبر و تحمل کو فروغ دیا جائے، اختلافات اپنی جگہ، ہمیں دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم 2 جنگوں میں فریق بنے، جو افغانستان میں لڑی گئیں، ہم اس میں اسلام کی محبت میں شریک نہیں ہوئے، ڈکٹیٹروں کے مفاد میں ان جنگوں میں حصہ لیا گیا، یہ کوئی جہاد نہیں تھا، ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی اور راجا پرویز اشرف کی بہت سی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی 2 جنگوں کے فریق بنے، روس کے خلاف جنگ کوئی جہاد نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ 2 دہائیوں تک ہم کرایہ پر دستیاب تھے، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے، اپنی شناخت کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں اس کےلیے سرحدوں کے پار نہیں دیکھنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کرنے میں بھی ہم متحد نہیں ہیں، قومی مسائل پر جھوٹ نہیں بولوں گا، جب ایسی نوبت آئی تو سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے آخر میں افغانستان نے تسلیم کیا تھا، دونوں ممالک کے درمیان کوئی ویزا نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزا وہاں گیا ہوں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی، نائن الیون کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہ کس نے کروایا، ٹوئن ٹاور حملے میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماضی کے 4 سے 5 امریکی صدور نے 10 سے 12 کروڑ مسلمان مارے ہوئے ہیں، انہوں نے تو معمر قذافی کے بیٹے تک کو نہیں چھوڑا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے ، ہم نے اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، آج ہم کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حملہ آوروں کی بجائے اپنے لوگوں کو ہیروز ماننا چاہیے،میں نے اپنے والد کی اس وقت کی حکومت میں شمولیت پر معذرت کی، میرے سوا کسی نے اپنے کردار پر معذرت نہیں کی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو جس طرح شکست دی ہے ،نریندر مودی دنیا بھر میں اور اپنے ملک میں رل گیا ہے،وہ دوبارہ حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مسالک کا ایک تقریر میں ذکر کیا تو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، فون دھمکیوں سے بھرا پڑا ہے۔