یہ حقیقت تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دہشت گردوں کا مقابلہ صرف سیکورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ فکری محاذ پر بھی ایک ایسے ایکشن پلان کی ضرورت ہے جس پر اسکی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کی طرح فکر کی درستی کیلئے بھی ایک ایسے ضابطے کی تیاری کی ضرورت ہے جو نوجوان کو درست سمت کی جانب متوجہ کر سکے۔سیکورٹی ادارے اپنا کام کر رہے ہیں۔دہشت گردوں کی سرکوبی ہو رہی ہے۔بلوچستان میں بھارت اور افغانستان کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ایک فکری بگاڑ کا مسئلہ بھی سمجھا جائے۔سانحہ اسلام آباد جیسے المیے اچانک آسمان سے نہیں ٹپکتے، یہ ہمارے اجتماعی فکری انتشار، اور ذہنی الجھنوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم سوچ کے اعتبار سے منقسم ہو جائے، سچ اور جھوٹ، دین اور شدت پسندی، اختلاف اور دشمنی میں فرق کرنا چھوڑ دے تو پھر بارود صرف بارودی جیکٹوں میں نہیں، ذہنوں میں بھی بھر دیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں، سب سے بڑا مسئلہ فکر کا بگاڑ ہے۔
آج ہمارا نوجوان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف دین کا نام، جہاد کا نعرہ، جذباتی تقاریر اور سوشل میڈیا کے کلپس ہیں، دوسری طرف بے مقصد تفریح، مادہ پرستی اور فکری خلا ہے۔ درمیان کا راستہ جو علم، حکمت، اعتدال اور حقیقی دینی شعور سے مزین ہے، اسے کوئی دکھانے والا نہیں۔ نتیجہ یہ کہ کچھ نوجوان مذہب سے دور ہو کر الحاد کی گمراہیوں میں کھو جاتے ہیں اور کچھ مذہب کے نام پر ایسے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جو انہیں انسان نہیں، ایندھن سمجھتے ہیں۔خودکش بمبار پیدا نہیں ہوتے، بنائے جاتے ہیں۔ پہلے ان کے ذہن سے سوال کرنے کی صلاحیت چھینی جاتی ہے، پھر انہیں غلط اور صحیح کی ایسی تقسیم سکھائی جاتی ہے جس میں پوری دنیا کافر، غدار یا واجب القتل نظر آتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت کا شارٹ کٹ بس ایک بٹن دبانا ہے۔ مگر انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ اسلام میں ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ کے میدان میں بھی عورتوں، بچوں، عبادت گاہوں اور بے ضرر لوگوں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔
ہمیں ماننا ہوگا کہ فکری محاذ پر ہم نے خلا چھوڑا، اور خلا کبھی خالی نہیں رہتا؛ اسے شدت پسند بیانیے نے بھر دیا۔ مسجد، مدرسہ، اسکول، کالج، یونیورسٹی، میڈیا،سب کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ نوجوان کے ذہن تک سب سے پہلے کون پہنچے گا: علم یا اشتعال؟ دلیل یا نعرہ؟ سیرتِ نبوی ﷺ کا رحمت بھرا تصور یا نفرت کی من گھڑت تعبیر؟
نوجوان کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ‘‘شدت پسندی غلط ہے’’، اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ صحیح کیا ہے۔ اسے ایسا دین دکھانا ہوگا جو صرف سزاؤں اور جنگوں کا نہیں بلکہ اخلاق، عدل، خدمتِ خلق، برداشت اور تعمیر کا دین ہے۔ ہمیں اسے یہ شعور دینا ہوگا کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، اور انسانی جان کی حرمت اسلامی اصولوں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔تعلیمی نصاب میں تنقیدی سوچ کو جگہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ایسا نوجوان جو سوال کرنا جانتا ہو، وہ ہر جذباتی ویڈیویا ادھوری بات کے جال میں نہیں پھنستا۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی محض رسمی نہ رکھا جائے بلکہ سیرت النبی ﷺ کو عملی اخلاق کے نمونے کے طور پر پڑھایا جائےجیسے آپ ﷺ نے دشمنوں کو معاف کیا، طائف کے پتھر کھا کر بھی بددعا نہ دی، مکہ فتح کیا تو انتقام نہیں لیا۔
خاندان کا کردار بھی کلیدی ہے۔ ٹوٹے ہوئے گھر، عدم توجہ، جذباتی محرومی نوجوان کو ایسے گروہوں کیلئے آسان شکار بنا دیتی ہے جو اسے‘‘مقصد’’دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ والدین کو بچوں کے دوست بننا ہوگا، ان کی آن لائن سرگرمیوں، حلقہ احباب اور ذہنی کیفیت سے باخبر رہنا ہوگا۔ صرف معاشی کفالت کافی نہیں، فکری اور جذباتی رہنمائی بھی ضروری ہے۔علما اور خطبا پر بھی بھاری ذمہ داری ہے۔ منبر اگر تقسیم، تکفیر اور اشتعال کا ذریعہ بنے گا تو معاشرہ کیسے بچے گا؟ منبر سے یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ خودکش حملہ اسلام نہیں، فساد ہے،بے گناہوں کا قتل جہاد نہیں، بغاوت ہے،ریاستی نظم کو چیلنج کرنا شریعت نہیں، فتنہ ہے۔ جب یہ آواز مسلسل، متحد اور دلیل کے ساتھ اٹھے گی تو گمراہ بیانیے کمزور پڑیں گے۔
ریاست کو بھی صرف بندوق سے نہیں، بیانیے سے لڑنا ہوگا۔ ایسے عناصر جو ماضی میں خود کش بمباروں کے حمایتی رہے انکی سرپرستی کرنے کے بجائے ان اداروں کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو صوفیاء کی فکر کے وارث ہیں جنہوں نے ہمیشہ امن اور انسانیت کے اکرام کی بات کی ہے۔ خانقاہوں اور علمی شناخت رکھنے والی درگاہیں خودکش فکرکو شکست دے سکتی ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ نوجوانوں کیلئے مثبت سرگرمیاں، ہنر، روزگار، کھیل، ادبی و فکری فورمز، یہ سب شدت پسندی کے خلاف ڈھال ہیں۔ ایک مصروف، باوقار اور با مقصد نوجوان کو بارود اٹھانے کیلئے قائل کرنا آسان نہیں ہوتا۔اصل جنگ سرحدوں پر نہیں، ذہنوں میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی قومی فکر کو اعتدال، علم، انسان دوستی اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد پر استوار کر لیا تو خودکش حملہ آوروں کی فیکٹریاں خود بخود بند ہو جائیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریںکہ ہم جذباتی ہجوم بننا چاہتے ہیں یا باشعور قوم؟ اگر ہم نے اپنے نوجوان کو صحیح فکری غذا دے دی، دین کا درست فہم، سوال کی آزادی، اخلاقی تربیت اور تعمیری مواقع فراہم کر دیے تو وہ زندگی بچانے والا بنے گا، چھیننے والا نہیں۔ یہی قومی بقا کا راستہ ہے، اور یہی ہر سانحے کے بعد ہمارے ضمیر کی اصل پکار بھی ہے۔