• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی سرزمین تاریخ، تہذیب اور مزاحمت کی امین ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے موہن جو دڑو کی تہذیب سے لے کر آج کے جدید پاکستان تک، مسلسل تبدیلیوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا۔ سندھ کا سب سے بڑا حسن اس کا تنوع ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی تنوع بعض اوقات نسلی تقسیم، غلط فہمیوں اور سیاسی استحصال کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک سندھی قوم پرست کی حیثیت سے، مگر پاکستان، وفاق اور پیپلز پارٹی کے پختہ حامی کے طور پر، یہ کہنا ضروری ہے کہ سندھ کا مسئلہ نسلی نفرت نہیں بلکہ ناانصافی، عدم توازن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

سندھ ہمیشہ سے مختلف قومیتوں کا مسکن رہا ہے۔ سندھی، اردو بولنے والے، پنجابی، پختون، بلوچ، سرائیکی اور دیگر برادریاں دہائیوں سے اس دھرتی پر رہ رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سندھ نے لاکھوں مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا، انہیں روزگار، تعلیم اور شناخت دی۔ یہ تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں ریاستی پالیسیوں نے مقامی آبادی کو نظرانداز کیا، دیہی سندھ کو پسماندہ رکھا اور شہری و دیہی سندھ کے درمیان ایک مصنوعی خلیج پیدا کی گئی۔

سندھی قوم پرستی کبھی بھی پاکستان دشمن نہیں رہی۔ جی ایم سید سے لے کر آج تک، اگرچہ نظریات میں اختلافات رہے، لیکن سندھ کے عوام کی اکثریت نے ہمیشہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات کی۔ آج بھی ایک باشعور سندھی قوم پرست یہ سمجھتا ہے کہ مضبوط سندھ، مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ وفاق تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب اس کی اکائیاں مطمئن ہوں، اور اکائیاں تب مطمئن ہوتی ہیں جب انہیں ان کے وسائل، زبان، ثقافت اور سیاسی حقِ حکمرانی کا احترام ملے۔

سندھ کا لسانی مسئلہ اصل میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مسئلہ ہے۔ 18ویں ترمیم نے ایک راستہ دکھایا، لیکن اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ شہری سندھ میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ دیہی سندھ ان کے وسائل پر قابض ہے، جبکہ دیہی سندھ میں یہ احساس پروان چڑھایا گیا کہ شہری سندھ اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا ہے۔ یہ بیانیے خود بخود نہیں بنتے، بلکہ بنائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد سندھ کو کمزور کرنا اور وفاق کے اندر ایک مضبوط، خوددار صوبے کو تقسیم رکھنا ہے۔

پیپلز پارٹی اس تناظر میں سندھ کی واحد وفاقی اور جمہوری قوت ہے جس نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ سندھ سب کا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سندھی کو پہلی بار قومی شناخت دی، لیکن کبھی کسی دوسری قومیت کو سندھ سے باہر نہیں نکالا۔ بے نظیر بھٹو نے کراچی سے لے کر کشمور تک ایک ہی زبان بولی، جمہوریت، مفاہمت اور وفاق۔ آج بلاول بھٹو زرداری اسی تسلسل کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں صوبائی خودمختاری کو پاکستان کی سالمیت سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ اس کے خلاف۔

سندھ میں نسلی تقسیم کو ہوا دینے والے عناصر دراصل جمہوریت کے دشمن ہیں۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی روزگار کے نام پر، اور کبھی کوٹہ سسٹم کے خلاف جذبات بھڑکا کر، اصل سوالات سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سندھی یا اردو بولنے والا کون ہے، سوال یہ ہے کہ بااختیار کون ہے اور محروم کون۔ اگر کراچی کا مزدور بھی محروم ہے اور تھر کا ہاری بھی، تو پھر لڑائی قومیتوں کے درمیان نہیں بلکہ طبقاتی اور ساختی ناانصافی کے خلاف ہونی چاہیے۔

سندھی قوم پرست سوچ یہ مانتی ہے کہ سندھ کی ثقافت، زبان اور تاریخ کا تحفظ لازم ہے، لیکن یہ تحفظ کسی دوسرے کو دیوار سے لگانے کے ذریعے نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ممکن ہے۔ سندھی زبان کو فروغ دینا مہاجر یا دیگر قومیتوں کے خلاف نہیں، بلکہ اپنی شناخت کے حق میں ایک فطری مطالبہ ہے۔ اسی طرح شہری سندھ کے مسائل کو تسلیم کرنا، دیہی سندھ کے حقوق کی نفی نہیں کرتا۔

پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے، اور یہی اس کی طاقت ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو سندھ کا لسانی یا نسلی مسئلہ خود بخود ایک سیاسی، انتظامی اور معاشی مسئلہ بن جاتا ہے، جس کا حل مکالمہ، آئینی عمل اور جمہوری سیاست میں ہے، نہ کہ نفرت انگیز نعروں میں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست اسی حقیقت پر مبنی ہے کہ وفاق کو کمزور کر کے کوئی اکائی مضبوط نہیں ہو سکتی، اور اکائیوں کو دباکر وفاق کو بچایا نہیں جا سکتا۔

آخر میں، ایک سندھی قوم پرست، پاکستانی محبِ وطن اور پیپلز پارٹی کے حامی کی حیثیت سے میرا واضح مؤقف ہے کہ سندھ کی وحدت، پاکستان کی وحدت سے جڑی ہے۔ ہمیں نسلی تقسیم کے بجائے مشترکہ مستقبل کی بات کرنی ہوگی۔ سندھ کو اس کا حق دیں، سندھ خود پاکستان کو مضبوط کرے گا۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، یہی سیاست کا تقاضا، اور یہی وفاقی پاکستان کا واحد پائیدار راستہ ہے۔

تازہ ترین