سابق آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈ رکی پونٹنگ نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی اسٹار بیٹر بابر اعظم کی کارکردگی میں عدم تسلسل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں کچھ اہم مشورے دیے ہیں۔
رکی پونٹنگ نے ’دی آئی سی سی ریویو‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک کھلاڑی 18 گیندوں پر 15 رنز بنا رہا ہے تو وہ صرف خود دباؤ نہیں ڈال رہا بلکہ اپنے ساتھ پچ پر موجود دوسرے کھلاڑی پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو آگے بڑھ کر پہلی 6 گیندوں میں 2 چوکے تو لگانے چاہئیں ورنہ کھیل کی پوری رفتار بدل جاتی ہے۔
سابق آسٹریلوی کرکٹر نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بابر اعظم اپنی جارحانہ انداز میں کھیلنے کی صلاحیت سے کچھ محروم ہو گئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ میں پاور پلے کے دوران فیلڈنگ کی پابندیوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے بابر اعظم کو اپنی پسندیدہ تیسری پوزیشن پر کھیلنے کی تجویز دوں گا۔
دوسری جانب سابق بھارتی کرکٹر روی شاستری نے بابر اعظم کی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اپنے کیریئر کے عروج پر ہوتے ہیں تو لوگ آپ سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو پہلے اوور میں 2 چوکے لگانے کی کوشش لازمی کرنی چاہیے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر وہ اس کوشش کے دوران آؤٹ ہو جاتے ہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ بابر اعظم اچھی پوزیشن حاصل کریں اور اندازہ لگائیں کہ بولر کیا کر رہا ہے، اس سے چیزیں بدل سکتی ہیں۔
روی شاستری نے یہ بھی کہا کہ میں نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں بابر اعظم کا دفاع کیا کیونکہ وہ بڑے ایونٹس کا تجربہ رکھنے والے بڑے کھلاڑی ہیں، اس لیے جو ٹیم بڑے ایونٹ جیتنا چاہتی ہے تو اسے اس طرح کے تجربے کار کھلاڑیوں کی ضرورت پڑے گی لیکن پاکستان کو ٹورنامنٹ میں مزید آگے بڑھنے کے لیے بابر اعظم کے بہترین ورژن کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا اگلا مقابلہ امریکا سے 11 فروری کو کولمبو میں ہو گا۔