یورپی یونین میں پاکستان کے حوالے سے مثبت رویہ پایا جاتا ہے ۔ ابھی حال ہی میں جب یورپی یونین اور انڈیا کے مابین تجارتی معاہدہ ہوا تو کچھ پاکستانی حلقوں میں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پریشانی کا احساس قائم ہو گیا ۔ اس سے قبل برطانیہ کے ساتھ بھی انڈیا کا تجارتی معاہدہ ہوا تھا ۔ ابھی چند روزقبل اٹلی کی سفیر میرے گھر پر تشریف لائی تھیں اور اس بات سے پاکستان کے خارجہ امور پر دھیان رکھنے والے افراد اچھی طرح سے آگاہ ہیں کہ اٹلی یورپی یونین میں پاکستان کا ایک مضبوط دوست ہے اور مختلف بین الاقوامی امور پر دونوں ممالک یکساں رائے کے حامل ہیں۔ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اضافے کا بہت غلغلہ تھا اور انڈیا اپنے آپ کو ایسے ثابت کر رہا تھا کہ وہ بس اس میں آیا ہی آیا تو اس وقت اس صورت حال کو قابو میں رکھنے کیلئے پاکستان اور اٹلی نے مشترکہ طور پر کوششیں کی تھیں ، جن کو پاک اٹلی کافی کلب کے نام سے موسوم کیا گیا تھا ۔ اس وقت جی سیون ممالک میں سے چار کی سفیر خواتین ہیں ایک قائم مقام کے طور پر یہ خدمات سر انجام دے رہی ہے جبکہ تین باقاعدہ ہیں اور یہ چاروں ہی پاکستان سے اپنے ممالک کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئےپُر جوش و متحرک ہیں ۔ بہر حال اٹلی کی موجودہ خاتون سفیر نے تو گزشتہ دو برسوں میں تعلقات کی سطح کو بہت ہی بلند کر دیا ہے، پاکستان کا شاید ہی ایسا کوئی علاقہ ہو کہ جہاں تک انہوں نے اپنے سماجی تعلقات کو وسعت نہ دی ہو ۔ اٹلی ایک سمندری ملک ہے ۔ انڈو پیسفک میں اس کا ایک کردار ہے ، اس کی بحریہ متحرک ہے اور اگلی دنیا کی سیاست بحری گزر گاہوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ جڑی ہے ۔ ان حالات میںاٹلی کی موجودہ سفیر صاحبہ کے دور میں اٹلی کے سب سے بڑے بحری جہاز نے پاکستانی بندر گاہ کا دورہ کیا ۔ اس طرح کے دورے سے ایک پیغام جاتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک امور میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ ویسے بھی دونوں ممالک پاکستان اٹلی اسٹرٹیجک انگیج منٹ پلان سے وابستہ ہیں اور ٹریڈ سے لے کر دفاعی شعبوں تک میں تعاون کر رہے ہیں ۔ پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد یورپی یونین میں اٹلی میں مقیم ہے اور اس وجہ سے لامحالہ ان پاکستانیوں کو مختلف مسائل کے حوالے سے اٹلی کے سفارتخانے سے رابطہ کرنا پڑتا ہے ، اسکے باوجود کہ اٹلی کے سفارت خانے میں افرادی قوت زیادہ نہیں مگر پھر بھی پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کی غرض سے بہت متحرک میکنزم تشکیل دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے جرمن خاتون سفیر بھی بہت متحرک ہیں ۔ انکی پاکستان میں یہ تیسری بار تعیناتی ہے اور وہ اس وجہ سے پاکستان کے مسائل کو خوب اچھی طرح سے جانتی ہیں ، وہ اردو خوب جانتی ہیں ، پاکستان میں وسیع سماجی تعلقات رکھتی ہیں ، میں نےان کے گھر برلن میںبطور مہمان چند روز قیام بھی کیا ۔ جرمنی کے پاکستان سے تعلقات کو ذہن میں لاتے ہوئے یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ انکی وزیر خارجہ نے ببانگ دہل مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک سے زیادہ بار گفتگو کی تھی اور انڈیا میں اس کو بہت محسوس بھی کیا گیا مگر جرمنی نے اس کی پروا نہیں کی تھی اور اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہا۔ اسی طرح سے برطانوی سفیر سے ملاقات ہوئی اور ان کے پولیٹکل قونصلر ، پولیٹکل افسر وغیرہ میرے گھر بھی تشریف لائے ۔ انگلینڈ سے تو پاکستانیوں کے مراسم قبل از آزادی کے وقت سے قائم ہیں اور ہم ایک دوسرے کی نفسیات سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ جب آپ ایک دوسرے کا ذہن پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو پھر تعلقات اچھے ہی ہوتے ہیں جو کہ ان دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں ۔ انگلینڈ کبھی پاکستان کی اہمیت سے غافل نہیں ہوا ہے اور اچھی طرح سے جانتا ہے کہ پاکستان کو نظر انداز کرکے اس خطے میں توازن قائم نہیں رکھا جا سکتا ہے اور توازن قائم رکھنے میں تجارت کا کلیدی کردار ہوتا ہے ۔ برطانیہ کے پولیٹکل قونصلر مارک بھی اپنی سفیر صاحبہ کے ہمراہ برطانیہ کے پاکستانیوں سے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئے بہت متحرک رہے ہیں اور گزشتہ مئی کے واقعات سے قبل ہی ان افراد کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ پاکستان سے تعلقات میں توازن دونوں ممالک کیلئے نہایت سود مندہے ۔ امریکہ سے تو پاکستان کے تعلقات میں جو ایک سرد مہری خاص طور پر جو بائیڈن کے دور میں قائم ہو گئی تھی وہ گزشتہ مئی کے بعد سے بتدريج ختم ہوتی چلی گئی ہے ۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کا امریکہ کے حوالے سے یہ مضبوط خیال ہے کہ یہ تعلقات حالات کے سبب اپنا رخ متعین کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اس لئے ہماری نظر صرف موجودہ حالات تک اور ان سے فوائد حاصل کرنے پر مرکوز ہونی چاہئے اور یہ تعلقات کسی اور ملک سے مراسم کو کوئی اثر نہیں پہنچائیںگے ۔ انکی تمام سے تعلقات کی جھلکیاں پیش کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ امریکا یا یورپی یونین کا انڈیا سے تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ پاکستان کی اپنی اہمیت ہے اور ان ممالک کے دارالحکومت اس کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں ۔ اس وقت خوش قسمتی سے محترم خواتین سفرا بھی پاکستان سے تعلقات کو مزید بلندیوں پہ لے جانے کیلئے بہت پر جوش ہیں ۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز ان حالات میں بالخصوص تجارتی حوالے سے مزید تجاویز کو بہتر سے بہتر شکل میں پیش کریں تا کہ اسٹرٹیجک مقاصد بھی ساتھ ساتھ حاصل کئے جا سکیں جو ممکن بھی ہیں ۔