• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی سیاست اس وقت جس تلخی، بداعتمادی اور مستقل محاذ آرائی کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں اگر کوئی شے نایاب ہو چکی ہے تو وہ ہے شائستگی، برداشت اور مسکرانے کا ہنر۔ ہمارے سیاسی رہنما اختلافِ رائے کو اختلافِ وجود سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ سیاست کا حسن ہی یہ ہے کہ مختلف نظریات ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ سکیں۔ ایسے میں اگر کوئی یہ تجویز دے کہ پاکستانی سیاستدانوں کا بھی ایک علامتی’’ویلنٹائن ڈے‘‘ہونا چاہیے تو بادی النظر میں یہ خیال چونکا دینے والا ضرور ہے، مگر گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو یہ تجویز ہماری سیاسی بیماری کا سادہ مگر مؤثر علاج بن سکتی ہے۔

سوچئے، اگر پاکستانی سیاستدان اپنے اس سیاسی ویلنٹائن ڈے کا آغاز قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر سرخ گلابوں کی چادر چڑھا کر کریں۔ وہ قائداعظم جنہوں نے اختلاف کو آئینی دائرے میں رکھا، دلیل کو طاقت بنایا اور مخالف کی بات سننے کو کمزوری نہیں بلکہ وقار سمجھا۔ اس کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان، خواجہ خیرالدین، باچا خان، جی ایم سید، خان عبد الولی خان، ذوالفقار علی بھٹو، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، نوابزادہ نصراللہ خان اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزارات پر سرخ گلاب رکھے جائیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو شدید اختلاف کے باوجود سیاسی مکالمے، برداشت اور حب الوطنی کی علامت رہیں۔یہ محض قبروں پر پھول رکھنے کی رسم نہ ہو بلکہ ایک علامتی سبق ہو کہ اختلافِ رائے زندہ قوموں کی پہچان ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور مفتی محمود ایک دوسرے کے سخت ناقد تھے، مگر پارلیمنٹ میں بیٹھ کر بات کرنے کا سلیقہ جانتے تھے۔ مولانا مودودی اور شاہ احمد نورانی نظریاتی طور پر الگ راستوں کے مسافر تھے، مگر دلیل اور تہذیب کے دائرے میں رہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ ساری عمر اپوزیشن میں رہ کر بھی مکالمے کے چراغ جلاتے رہے۔ آج کی سیاست اگر ان قبروں سے یہ سبق سیکھ لے تو شاید بہت سی تلخیاں دفن ہو جائیں۔پھر ذرا منظر آگے بڑھائیں۔ کتنا دلکش ہو اگر سیاسی ویلنٹائن ڈے کے دن میاں محمد نواز شریف، شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور حکمران اتحاد کے دیگر رہنما قائدِ حزبِ اختلاف کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہوں، جہاں وہ اسیرِ سیاست عمران خان کو سرخ گلاب پیش کرنے آئے ہوں۔ پیغام یہ ہو کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر سیاسی قیدی ہونا نفرت کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔

سیاست میں دشمن نہیں، صرف مخالف ہوتے ہیں۔اسی منظر میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی رانا ثناءاللہ کو سرخ گلاب پیش کر رہے ہوں، اسد قیصر اور خواجہ آصف ایک دوسرے کو چاکلیٹ تحفے میں دے رہے ہوں، اور پارلیمنٹ ہاؤس سرخ پھولوں، سفید گلابوں اور مسکراہٹوں سے سجا ہو۔ قسم سے، یہ وہ تصویریں ہوں گی جو سوشل میڈیا پر گالیوں کے سیلاب کو کچھ دیرکیلئے ہی سہی، روک دیں گی۔یہ سب کچھ خواب لگتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ خواب ہی قوموں کا راستہ بدلتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے جیل سے نکل کر اپنے جیلر کو گلے لگایا تو یہ بھی ایک خواب ہی لگتا تھا۔ مگر اسی خواب نے ایک بکھرے ہوئے معاشرے کو جوڑ دیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاست نفرت کے بجائے علامتوں اور مکالمے کی زبان بولنے لگے تو عام آدمی کو بھی سکھ مل سکتا ہے۔سیاسی نفرت کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری بھگتتا ہے۔ گھروں میں سیاست پر لڑائیاں، دوستوں میں دوریاں، سوشل میڈیا پر بدزبانی یہ سب اسی زہریلے ماحول کی پیداوار ہیں۔ جب رہنما ایک دوسرے کو غدار کہتے ہیں تو کارکن اس سے آگے بڑھ کر گالیاں دیتے ہیں۔ اگر رہنما پھول پیش کریں گے تو شاید کارکن بھی زبان سنبھالنا سیکھ جائیں۔یہ تصور اگر مختلف مکاتبِ فکر کے علما تک پھیل جائے تو واقعی سونے پر سہاگہ ہوگا۔ برصغیر کی تاریخ صوفیا کی محبت سے روشن ہے۔ بابا فرید، داتا گنج بخش اور شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے انسان دوستی میں ڈھالا۔ اگر آج کے علما ایک دن کیلئے ہی سہی، ایک دوسرے کو پھول پیش کریں۔

ایک دوسرے کے مسلک کے احترام کا اعلان کریں تو مذہبی کشیدگی کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ تصور کسی مغربی تہذیب کی اندھی نقالی نہیں بلکہ اپنی دینی اور ثقافتی روایت کی بازیافت ہے۔ اسلام میں صلح، عفو اور حسنِ اخلاق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان تاریخ کا وہ لمحہ ہے جس نے ثابت کیا کہ اصل فتح دل جیتنے میں ہے، دل توڑنے میں نہیں۔یقیناً ناقدین کہیں گے کہ پھول دینے سے مہنگائی کم نہیں ہو گی، انصاف نہیں ملے گا۔ یہ بات درست ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ جب تک رویے درست نہیں ہوں گے، کوئی نظام درست نہیں ہو سکتا۔ پھول محض ایک علامت ہیں، ایک اشارہ کہ ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ یہی اشارہ آگے چل کر قومی مکالمے، مفاہمت اور بہتر سیاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم ویلنٹائن ڈے منائیں یا نہ منائیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نفرت کی سیاست کب دفن کریں گے۔ اگر سرخ گلاب، چاکلیٹ اور مسکراہٹیں ہماری سیاست میں تھوڑی سی ہی سہی، انسانیت واپس لا سکتی ہیں تو یہ سودا ہرگز مہنگا نہیں۔ شاید کسی دن واقعی پارلیمنٹ سرخ پھولوں سے سجی ہو اور ہم فخر سے کہہ سکیں کہ اختلاف کے باوجود ہم ایک قوم ہیں۔

تازہ ترین